میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات, اگست 27, 2015

انتہائی مشکل کام



بہت بڑے دفتر میں ایک بڑی میز کے پیچھے بیٹھے ہوئےجنرل سے میں نے پوچھا،
"سر کتنی تنخواہ مل جاتی ہے؟"
جنرل نے غور سے میری طرف دیکھا، کافی کا گھونٹ بھرا اور سگار کا کش لگاتے ہوئے بولا ،
" تمھارا کیا خیال ہے کہ میں تنخواہ کےلئے جنرل بناہوں؟
یہاں تک پہنچنے کے لئے بہت 
محنت کی ضرورت ہوتی ہے ۔  کافی سارے کورس کرنے پڑتے ہیں، ہر سال اچھی رپورٹ لینی ہوتی ہے، یہ کرنے کے لئے نجانے کتنوں کے تلوے چاٹنے پڑتے ہیں، بیشمار لوگوں کے کندھوں پر پاؤں رکھ کر اوپر آناہوتا ہے،سینئیر  کی  برائی یا غلط چیز دیکھ کر بھی آنکھیں بند رکھنی پڑتی ہیں. ہاں میںہاں ملانی پڑتی ہے. اور بھی بہت  کچھ کرنا پڑتا ہے.

مختصر یہ کہ ضمیر کو مارنا پڑتا  ہے ۔.

اور تم پوچھتے ہو کہ تنخواہ کتنی ملتی ہے؟

"I am now a king here"                         

ایکڑوں پر مشتمل گھر ملا ہواہے، مربوں میں زمین الاٹ  ہے، بےشمار مرضی کے پلاٹ ہیں. مرضی کی زمین پر مرضی کا گھر بن جائےگا اور کمیشن وغیرہ اس کے علاوہ ہے. ریٹائرہونے کے بعد کسی بڑی جگہ چیرمین لگ جاؤں گا-وہاں سے ریٹائمنٹ پر جاتے وقت ایک برانڈ نیو لینڈ کروزر یا پراڈو   بھی لے جاؤں گا ۔
تمھیں معلوم ہے ، کہ میرے گھر کا تمام خرچہ انٹرٹینمنٹ الاونس سے پورا ہوتا ہے ، لہذا  تنخواہ کی کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں  ہوئی -

ایک عام آدمی کو کیا معلوم کہ جنرل ہونا کتنا مشکل کام ہے-
فوج میں  بے شمار آفیسر آتے ہیں جو  میجر ریٹائر ہو جاتے ہیں یا کرنل ، کیوں کی اُن کا ضمیر  بہت زیادہ خودار ہوتا ہے ۔ جنرل بننے کے لئے فوج میں کان اور آنکھ کھلی اور منہ بند رکھنا ہوتا ہے ۔ کیا سمجھے ؟
 
لیکن سر!  اتنی ٹریننگ، اتنے سالوں کی نوکری، بیشمار کورسز، اتنی مراعات کے باوجود جنرلز نے کبھی ٹھیک فیصلے نہیں کئے ؟ میں نے پوچھا.
جنرل:  اوہ ، آئی ایم سوری ، میں اس کا جواب نہیں دے سکتا،

"It is matter of internal security".                                 
میں جنرل صاحب کے دفتر سے نکلتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ واقعئ کسی انسان کےلئے یہ بہت  مشکل کام  ہے  !.
((جاوید چوہدری

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔