میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 3 ستمبر، 2015

میں 63 سالہ مہاجر زادہ اور یہ تین سالہ مہاجر

  ترکی کے سرحدی محافظ نے اس شامی نژاد کرد بچہ کی نعش کو جو سمندر کی لہروں پر بہتی ہوئی ساحل پر پہنچ گئی تھی، بڑی احتیاط سے اٹھایا۔ یہ شوخ رنگ کے سرخ ٹی شرٹ اور نیکر میں ملبوس تھی اور ساحل پر منہ کے بل پڑی ہوئی دستیاب ہوئی۔


 یہ تصویر  کل رات  بلکہ آج صبح   تین بجے   وٹس ایپ کی لہروں پر بھٹکتے میرے پاس آئی   ،  میں نے اِسے گوگل کے حوالے کیا ، دو معصوم سے بھائی  یہ تصویر میں اوندھا پڑا بالکل میرے پوتے لڈّو کی مانند  ، موٹے موٹے گال،  دائیں والا آڑو (آلو) اور بائیں والا سیب (تیب)  ، فرشتوں کی سے مسکراہٹ   ۔ جسے ہجرت نے سمندر بُرد کر دیا  ۔

 ترکی کے شہر انتالیہ کے ساحل پر  پڑا یہ  تین  سالہ  ایلان کُرد معصوم  مہاجر بچہ ، اپنے ماں باپ کی انکھوں میں بسائے ہوئے  ۔ پانچ سالہ بھائی  غالب کُرد ، کے ساتھ   شام  کے  شہر  کو بان سے ایک کشتی میں 11 دیگر افراد کے ساتھ   یونان کے لئے روانہ ہوا ۔  سمندر کی لہروں کو یہ ہجرت پسند نہ آئی اور یہ دونوں بھائی  دفن ہونے کے لئے ترکی کے ساحل پر پہنچ گئے ۔ 
کہا جاتا ہے کہ ، گذشتہ 9 ماہ میں ایک لاکھ  60 ہزار  انسان  ، جن کے ساتھ ، مسلمان کا ٹیگ ہے ۔ یونان پہنچ چکے ہیں ۔ یونان جو خود کساد بازاری کا شکار ہے-


مہاجروں کی یہ ہجرت کیاوطن پرست، روک سکتے ہیں ؟





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔