میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 14 ستمبر، 2015

قربانی حقیقت - رفیق سینائی

جانورں کی قربانی کے بارے میں جناب رفیق سینائی صاحب کی مختصر اور انتہائ معلوماتی و تحقیقی تحریر-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ ﴿22/33 اور پھر ان کو بیت العتیق کے پاس ذبح کرو-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حج کا مقصد ۔۔۔۔۔۔۔
جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَ‌امَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ ----  ﴿5/97
کعبہ کوہم نے واجب الحترام بنایا ہے تاکہ انسانیت کا قیام ہو ( انسانیت اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے )

جب یہاں لوگ جمع ہوں تو کھانے پینے کے انتظام کے متعلق بتایا کہ جتنے دن یہاں قیام ہو کھانے پینے کا انتظام خود کرنا پڑے گا ۔ کیوں کہ مکہ کے اک غیر زرعی شہر ہے سو یہاں آنے والوں سے کہا گیا کہ کہ اپنے خورد و نوش کا انتظام خود کریں ۔
رب نے فرمایا کہ جن جانوروں پر تم جاتے ہو ،یا مال برداری کا کام کرتے ہوں انہیں وہاں ذبح کرو ، خود بھی کھاؤ اور محتاجوں اور ضرورت مندوں کو بھی کھلاؤ ۔۔۔۔۔۔
آیات ملاحظہ ہوں ۔

وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِ‌جَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ‌ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ﴿22/27 
 اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، لوگ تمھارے پاس چلے آئیں گے پیدل بھی اور دبلی اونٹنیوں پر بھی ،
لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُ‌وا اسْمَ اللَّـهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَ‌زَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ‌ ﴿22/28
تاکہ لوگ اپنے فائدے کے لئے ان ایام مقررہ میں آ موجود ہوں ۔ان چوپایوں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیں ۔ جو اللہ نے عطا کئے ہیں ان جانوروں میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاجوں کو بھی کھلاؤ ۔
لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ ﴿22/33 
 ان جانوروں میں تمھارے لئے اک مدت تک فائدہ ہے ، ان کی حلال کرنے کی جگہ ۔۔۔۔ إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ( خانہ کعبہ قریب ) ہے ، خود بھی کھاؤ اور محتاجوں کو بھی کھلاؤ

قربانی حقیقت ۔۔۔۔۔۔۔
قربانی واجب نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ تسلیم کہ ذبیحہ رسمی وجود رکھتا ہے تا ہم واجب نہیں ،امت کے قد آورصحابہ سے لے کربڑے بڑے امام وقت تک اس کو صرف ایک پسندیدہ رسم ہی گردانتے ہیں۔
فرقہ اھل حدیث کے ایک بہت بڑے امام ، امام بن حزم ، کی تحقیق کے مطابق صحابہ کرام قربانی کو ایک رسم سمجھتے تھے بلکہ استطاعت کے باوجود قربانی نہیں کرتے تھے ۔

علامہ ابن حزم لکھتے ہیں کہ قربانی کی وجوب کسی صحابی سے ثابت نہیں ،اور صحیح بات یہی ہے کہ قربانی واجب نہیں

حضرت سعید بن المسیب اور الشعبی سے راویت ہے کہ قربانی کے بجائے اُن کے نزدیک تین درہم خیرات کر دینا اس سے زیادہ پسندیدہ فعل ہے ۔
المحلی الابن حزم جلد ۷ صفحہ ۳۵۸

میں نے اپنی تیس سالہ زندگی میں کبھی بھی کسی عرب کو قربانی کرتے نہ سنا نہ ہی دیکھا-

کیونکہ ہرعرب قران اور عربی سے زبان سے بخوبی وقاف ہوتا ہے وہ جانتا کہ رب کی منشا کیا ہے -

مگر سعودیہ کی سلطانی اور مُلّائی حکومت اس مسلے پر خاموش ہے

کیونکہ اس قربانی سعودی اھل البادیہ کو کروڑوں ریال کا منافع ہوتا ہے ،

سعودیہ
مُلّا یا حکومت صحیح مسئلہ بتا کر اپنے عوام کا یہ منافع ختم نہیں کرنا چاہتی ۔

سعودیہ کی طرح ہمارا اللہ کا مارا لعنتی مولوی صحیح مسئلہ بتا کر کھال سے محروم نہیں ہونا چاہتا-
رفیق سینائی

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔