میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 17 ستمبر، 2015

مزدوری- پارٹ ٹو


دہشت گردی کے بعد لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم تھا - بارود کی بو سے فضا میں اضافہ ہورہا تھا - چاروں طرف خود غرضی کی آگ بھڑکنے لگی تھی -
ایک آدمی چائنا کے موبائل کا اسپیکر کھول کر گانا سنتا ہوا جارہا تھا -
" بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے "

ایک چھوٹی عمر کا لڑکا کندھے پر کتابوں کا بوجھ اٹھائے بھاگا چلا جارہا تھا - ٹھوکر لگی تو ایک کتاب اسکے کندھے سے گر پڑی-
بازار میں دھڑآم سے ایک عمارت گری - ایک شخص نے جلدی سے آگے بڑھ کر اپنے بیلچے سے لاشیں ہٹانا شروع کردی - تاکہ لاش کے نیچے سے قمیتی سامان نکال کر لی جائے-
لوگ جمع ہوگئے اور سامان پر ہاتھ صاف کرنے لگے،
زیور سے جوتی تک سب لوٹا جارہا تھا -
ایک آدمی کرتے کے بغیر تھا اس نے ملبے میں دبی ایک لاش کی قمیض شلوار اتار کر پہن لی اپنے تہبند میں ٹی وی لپیٹ کر کندھے پر رکھا چلتا بنا -
ہٹ جاؤ ----- ہٹ جاؤ "
ایک مولوی کا ٹرک نئے سلے ہوئے برقعے سے لدا ہوا گزر گیا -
آٹھویں منزل میں آگ بھڑک اٹھی - آفس کی کھڑکی میں سے اویس بیگ، گھبراتا ہوا کھڑکی سے باہر نکلا اور جان بچانے کے لئے چھجے سے لٹک گیا -
ہجوم نے اپنے اپنے موبائل نکل کر ویڈیو بنا شروع کردی - کھڑکی سے نکلنے والی شعلے کی زبان نے ہلکا سا اسے چاٹا ، اُس کے ھاتھ چھوٹ گئے ---
لہراتا ہوا، سڑک تک پہنچا اور دم توڑدیا -

پوں پوں --- پوں پوں-
ڈانسنگ کار کے ہارن کی آواز کے ساتھ دو لڑکیوں کی چیخ بھی گونج رہی تھی -
ایک شادی شدہ جوڑے کو گندے نالے کے نیچے سے، انسانوں کے ھجوم نےکھینچ کر باہر نکالا اور لاٹھیوں کی مدد سے ہانکتے ہوئے اینٹوں کے بھٹے پر لے جاکر زندہ جلا دیا -

کچھ لوگوں نے گوالوں سے دودھ کے ڈرم چھین کر نہر میں پھینک دیئے-
بلند آواز آئی -" آو آو ٹھنڈی ٹھنڈی بوتلیں پیو --
گرمی کا موسم ہے - "

گاڑیوں کے شیشے توڑتا گُلو بٹ رُک کر بوتلیں پینے لگا -

گلے میں لڑکیوں کی شلواریں ڈالے ہوے آدمی نے دو بوتلیں لی اور پسٹل دکھاتا ہوا چل دیا -

ایک آواز آئی -" کوئی آگ بھجانے والوں کو فون کردے ، کوئی ون ون ٹو ٹو ، ون فائیو کو اطلاع دے دے ---
ورنہ سارا مال لٹ جائےگا -"
کسی نے اس مفید مشورے کی جانب توجہ نہیں دی -
آواز دینے والا پھر خود بھی لوٹ میں مصروف ہوگیا، کیوں کہ لوٹ مچی ہوئی تھی ، اُس نے سوچا کیوں نہ وہ بھی فائدہ اُٹھائے- چاربہترین زنانہ کپڑے کے تھان اُس کے ھاتھ میں آئے ۔ وہ  لے کر چند قدم چلا ہی تھا ۔ کہ دو ہٹے کٹے آدمیوں نے اُس سے تھان چھیننے کی کوشش کی ، وہ تین تھان پھینک کر ایک تھان دونوں ھاتھوں میں دبا کر تیزی سے دوڑا۔

لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم تھا ، لوگ یہاں سے پیسہ لوٹ کر دوسری جگہ رکھ آتے اور پھر لوٹنے میں مصروف ہوجاتے - خود غرضی کی چاروں طرف بھڑکنے والی آگ میں بدستور اضافہ ہورہا تھا-

وہاں موجود پولیس کے سپاہیوں کو اچانک ہوش آیا - بہت دیر بعد ہوائی فائرنگ کی آواز فضا میں سنائی دینے لگی -
صف بندی ہوئی ،
پولیس اور لٹیروں میں مقبلہ شروع ہوگیا -
آمنے سامنے ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے،
 پولیس آنسو گیس استمال کرتی تو ہجوم پتھراؤ کرتا یا پھر آنسو گیس اٹھا کر پھر دوبارہ پولیس کی جانب اچھال دیتا -

آخر رینجرز نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور جو ہجوم پولیس سے لڑرہا تھا اب رینجرز زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگاتا ہوا گلیوں میں کہیں غائب ہوگیا - کرفیو کا سا سماں تھا - پولیس کو راستے خالی نظر آنے لگے -
لیکن دور ، جلتے ہوئے ہر مال دس دس روپے کے ٹھیلوں کے پاس
پھیلے ہوئے دھوئیں میں موڑ کے پاس ایک آدمی کا سایہ دکھائی دیا - پولیس گاڑی، سائرن بجاتے ہوئے اس طرف لپکی -
سایہ تیزی سے دھوئیں کے اندر گھس گیا - پولیس کی سپاہی موڑ کے پاس گاڑی سے کود کر اترے اور اس کے تعاقب میں گئے-
دھوئیں کا علاقه ختم ہوا تو پولیس کے سپاہیوں نے دیکھا کہ ایک مزدور پیٹھ پر پاکستان کا جھنڈا اٹھائے بھاگا چلا جارہا ہے -
گالیاں دینے سے گلے خشک ہوگیے تھے مگر وہ مزدور نہ رکا -
اس کی پیٹھ پر وزن تھا -
معمولی وژن نہیں ایک ملک کی عزت تھی ، شان تھی کروڑوں لوگوں کی امید تھی لیکن وہ یوں دوڑ رہا تھا جیسے پیٹھ پر کچھ ہے ہی نہیں -
سپاہی ہانپنے لگے - ایک نے تنگ آکر پرائیویٹ پستول نکالا اور فائر کردیا - گولی مزدور کی پنڈلی میں لگی - پرچم اسکی پیٹھ سے گر پڑا - گھبرا کر اس نے اپنے پیچھے آہستہ آہستہ بھاگتے ہوئے سپاہیوں کو دیکھا - پنڈلی سے بہتے ہوئے خون کی طرف بھی اس نے دیکھا -
لیکن ایک ہی جھٹکے سے پاکستانی پرچم اٹھایا اور پیٹھ پر ڈال کر پھر بھاگنے لگا -
سپاہیوں نے سوچا " جانے دو ، جھنم میں جائے "-
ایک دم لنگڑاتا لنگڑاتا مزدور لڑکھڑا یا اور گر پڑا - جھنڈا اس پر کفن بن گیا ۔
سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور جھنڈے سمیت گاڑی کے پاس لے آئے-
راستے میں مارتے اور پوچھتے رہے ، کیا لے کر بھاگ رہا تھا ، مال کہاں چھپایا ؟
پاکستان کے پرچم جلانا چاہتا تھا ؟
مزدور بار بار کہتا -" مجھے کیوں پکڑتے ہو ، میں تو ایک غریب مزدور ہوں ، ہجوم سے پرچم کو بچانا چاہتا تھا ، آپ نے ناحق مجھے گولی ماری - لیکن اُس کی ایک نہ سنی گئی - بلکہ پولیس والے مزدور کو ماں بہن کی ننگی ننگی گالیاں دیتے رہے..

تھانے میں بھی مزدور نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا ..
"سر میں بہت غریب انسان ہوں ،
اردو انگلش میں ماسٹر کیا ہوا ہے
نوکری نہیں ملی تو مزدوری شروع کردی
اور آج جب ہجوم ملک کو لوٹ رہا تھا ،
ریاستی اداروں کو آگ لگا رہا تھا ،
شہریوں کے املاک نقصان پہنچا رہا تھا
تب میں ایک پاکستانی، پرچم کو بچاتے ہوے کئی بار مرتے مرتے بچا
اور پھر آپ نے مجھے پکڑ لیا - 

آپ لوگ تو ہماری اور ملک کی حفاظت کرنے کے لئے تنخواہ لیتے ہیں ،
لیکن ہم جیسے غریب مزدور ملک کی حفاظت اپنے ایمان کی طرح کرتے ہیں
اپنے بچوں سے زیادہ ملک سے پیار کرتے ہیں اور ۔ ۔  ۔
ہمیں کوئی مزدوری بھی نہیں چاہیے -
آپ سیکورٹی والے جیسے چاہیں ملک چلائیں -
بس مجھے جانے دیں میری ماں اور بہنیں میرا انتظار کررہی ہیں ان کا میرے علاوہ کوئی نہیں ہے -

انسپکٹر ، کوئی نہیں ہے ! کا لفظ سن کر -
سپاہی سے کہتا ہے یہ پڑھا لکھا مزدور بہت باتیں کررہا ہے ذرہ اسکا پرچہ تو کاٹو - لکھو
" ملزم نامور وکیل ، ڈاکٹر ، صحافی کے قتل کے علاوہ بھی متعدد مقدمات میں مطلوب تھا ، ایک دہشت گرد تعظیم کے لئے کام کرتا ہے - دھماکہ میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے ، ملزم کے قبضے سے مختلف اقسام کا اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے -
میڈیا کو بلا کر اسے پیش کردو - ساری زندگی لگ جائےگی خود کو پھر بے گناہ ثابت کرنے میں - مزدوری کرنے کے بھی قابل بھی نہیں رہیگا "

( عبدالقادر غوری )

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔