میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 25 ستمبر، 2015

مرد اور گھوڑا

مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا !

بیوی کو روزانہ یہ احساس دلانے کے لئے ایک بوڑھا ، سونے سے پہلے بیوی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا تو وہ ہاتھ جھٹک کر کہتی ۔
" کچھ تو شروم کرو پوتے پوتیوں والے ہو گئے ہو ۔ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہو ۔ خدا کا خوف کرو ، تمھیں اِس کے علاوہ کچھ سوجھتا نہیں "

بوڑھا مطمئن ہو کر دوسری طرف منہ کر کے سو جاتا ۔
ایک دن بوڑھے نے ، ٹوٹل پورا کرنے کے لئے ، بڑھیا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔
بڑھیا نے مسکرا کر دیکھا ۔
تو
 




بوڑھے کی جان ہی نکل گئی !

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔