میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 16 ستمبر، 2015

پہلے آؤ پہلے پاؤ !

رمضان المبارک میں لکھی ایک تحریر جو سال کے 365 دن ہی قابل عمل ہے..  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نامۂِ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نوشتہ کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر نہ لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا.....
کبھی بہت حیرت ہوتی تھی کہ ہم اتنے اہم کہاں کہ ہمارا کیا ہر چھوٹا بڑا عمل قید تحریر کیا جائے لیکن یہ الجھن فیس بک کے ایکٹیویٹی لاگ نے حل کر دی ..
جہاں ہر چیز کا حساب درج ہے ..
کس پوسٹ کو کتنے بج کر کتنے منٹ پر لائیک کیا اور کہاں کمنٹ کیا ...
کون سی تصویر شیئر کی اور کون سی پوسٹ اَپ لوڈ کی ..
کونسی وال چپکے سے وزٹ کر لی ..
اگر انسان کا بنایا سسٹم یہ سب کر سکتا ہے تو رب عظیم کا سسٹم کتنا فول پروف ہو گا ..
انسانی سسٹم میں تو ڈیلیٹ اور ایڈٹ کا آپشن ہے لیکن کیا اللہ ذوالجلال کی کتاب میں بھی ایسا کوئی آپشن ہے یا نہیں ..
سوچیں ..
دماغ پر زرا زور دیں ..
جی ہاں بالکل درست ..
ایڈٹ اور ڈیلیٹ کا بٹن ہے ..

''توبہ طلبی ''..
خلوص دل سے کی جانے والی توبہ ہمارے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ..
اور خلوص نیت سے کیے جانے والے نیک کام ہمارے اعمال کے ایکٹیوٹی لاگ کو ایڈٹ کر دیتے ہیں ..
گویا بازی ابھی تک مات نہیں ہوئی ..
جب تک سانس باقی ہے اس کتاب کے مندرجات تبدیل کروانے کا چانس بھی باقی ہے ..
سو دیر نا کریں ..
کیا جانے کب کہاں یہ چلتی گاڑی کا انجن جام ہو جائے .. ..
ایک اور مزیدار آفر ہے ..
رمضان کا آخری عشرہ آ گیا ہے ..
توبہ کی سیل لگی ہوئی ہے ..
پہلے آؤ پہلے پاؤ ..
اگر گناہ کم ہوئے اور توبہ زیادہ تو اس پر بھی ایک سکیم ہے نا صاحبان قدر دان ..
آپ کی توبہ کے عوض نیکیاں ملیں گی ..
واہ واہ ..
تو صاحبو جاتے کدھر ہو ..

( رعنائی ءِ خیال )

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔