میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 3 اکتوبر، 2015

تین منزلہ مکان

 بابا اکثرکہتے تھے کہ میں نے تین منزلہ مکان اس لیے بنایا ہے تاکہ میرے تینوں بیٹے اکھٹے رہیں ,

لیکن بابا کی وفات کے بعد ہماری بیویاں اکٹھی رہنا نہیں چاہتی تھیں۔

ہم نے مکان بیچنے کا فیصلہ کر لیا میں نے مکان بیچنے کے لیے اخبار میں اشتہار دیا کئی لوگ آئے ایک آدمی کے ساتھ معاملات طے پا گئے
"آپ یہ مکان کس کے لیے خریدرہے ہیں؟"
میں نے پوچھا کہ

"میرے تین بیٹے ہیں" وہ اعتماد سے بولا 
" اور میں چاہتا ہوں کہ وہ تینوں اکھٹے رہیں!"


5 تبصرے:

  1. واہ خوب ! ایک مکمل کہانی ، ویسے بیویوں کا تو نام بدنام ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت اعلیٰ سر جی ۔۔۔ چند الفاظ میں معاشرے کی مکمل حقیقت

    جواب دیںحذف کریں
  3. ہر باپ کا ایک ہی خواب جو اولاد نبھا نہیں پاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔واہ بہت خوب

    جواب دیںحذف کریں
  4. کوئی تو اردو بلاگ بنانے میں میرا مدد کریں.

    جواب دیںحذف کریں
  5. یہ مبشر علی زیدی کے 100 لفظوں کی کہانی کی نقل ہے

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔