میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 13 اکتوبر، 2015

صحبتِ ہم نشیناں

ایک صاحب تھے شادی کی تلاش میں کہیں لمبے نکل گئے اور شادی کی عمر نکل گئی-
ڈھلتی عمر میں ایک لڑکی پسند آ گئی تو رشتہ پرپوز کیا-
لڑکی نے دو شرطیں رکھیں اور شادی پر تیار ہو گئی-
ایک یہ کہ ھمیشہ جوانوں میں بیٹھو گے ،
دوسرا دیوار پھلانگ کے گھر آیا کرو گے !
جوان بزرگ مان گیا ۔ کہ بھلا یہ بھی کوئی شرط ہے ۔

شادی ہو گئی
جوان بزرگ جوانوں میں ہی بیٹھتااور گپیں لگاتا-
جوان ظاہر ہے لڑکیوں کی اور پیار محبت کی باتیں کرتے ہیں- منڈیوں کے بھاؤ یا ہسپتالوں سے انہیں دلچسپی نہیں اور نہ ہی مذہبی موضوعات سے کچھ لینا دینا-

جوان بزرگ کا موڈ ہر وقت رومانٹک رھتا جب آدھی رات کو گھر واپس ہوتا ، ایک جھٹکے سے دیوار پھلانگ کر صحن میں دھم سے کود جاتا !

آخر ایک دن
جوان بزرگ کے بُرے دن آئے اور ایک  پرانا کلاس فیلو مل گیا-
" ارے شکور، بھئی شادی کیا کی ملنے سے گئے ؟ چلو دوست تمھارا انتظار کر رہے ہیں اور ملنے پر بیتاب ہیں " کلاس فیلو نے گلہ کیا ۔

  وہ
جوان بزرگ کو گلے شکوے کر کے اور گھیر گھار کے اپنی پنڈال چوکڑی میں لے گیا۔
اب وہاں کیا باتیں ہونی تھیں ؟
ایک بولا ، " یار گھٹنوں کے درد سے مر گیا ہوں بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں" -
دوسرے نے گرہ لگائی ، "یار میرا تو وضو ھی نہیں رہتا پیشاب کا قطرہ نکل جاتا ھے"-
"میری تو ریڑھ کی ھڈی کا مہرہ کھل گیا ھے، ڈاکٹر کہتا ھے جھٹکا نہ لگے"- تیسرا بلبلایا
" یار مجھے تو نظر ھی کچھ نہیں آتا کل پانی کے بجائے مٹی کا تیل پی گیا تھا، ڈرپ لگی ھے تو جان بچی ھے" - چوتھے نے ہولکناک خبر سنائی ۔
جوان بزرگ  جوں جوں ان کی باتیں سنتا گیا، وہ جوانی کی سیڑھیاں نیچے اترتا گیا ۔ جب ٹھیک پاتال میں پہنچا تو مجلس برخواست ہو گئی اور جوان بزرگ گھسٹتے پاؤں کے ساتھ گھر کو روانہ ہوا !

گھر پہنچ کر دیوار کو دیکھا تو گھر کی وہی دیوار جسے وہ اسپِ تازی کی طرح چھلانگ مار کر پار کرتا تھا ، آج وہی دیوار،دیوارِ چین لگی -
ہمت نہ پڑی دیوار کودنے کی کہ کہیں بابے پھجے کی طرح چُک نہ نکل آئے - ویسے بھی پھجہ اُس سے پورے دو سال چھوٹا تھا ۔
جوان بزرگ نے کُنڈی  کھٹکھٹائی ۔
"کھٹ کھٹ "
"کون ہے ؟ " اندر سے بیوی کی آوازآئی ۔
" میں ہوں ۔ دروازہ کھولو "
جوان بزرگ بوڑھے نے کپکپاتی آواز میں کہا ۔

" اسی لئے بولا تھا جوانوں میں بیٹھا کر!
" بیوی کنڈی کھولتے ہی بولی -
"
لگتا ہے آج بوڑھوں کی مجلس اٹینڈ کر لی ھے،اسی لئے ہمت جواب دے گئی ہے !" 






نتیجہ ! انسان بوڑھا نہیں ہوتا مجلس بوڑھا کر دیتی ہے!

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔