میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 2 اکتوبر، 2015

شفق

شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار          
ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار 
ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ              
جنھیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ 
نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے              
ہر اک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے 
ذرا دیر میں رنگ بدلے کی                
بنفشی و نارنجی و چنپئی
یہ کیا بھید ہے! کیا کرامات ہے            
ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے 
یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے          
باڑ بنے سونے چاندی کے گویا پہاڑ 
فلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ  
ہرے بن میں گویا لگادی ہے آگ 
اب آثار پیدا ہوۓ رات کے                  
کہ پردے چھٹے لال بانات کے 

اسماعیل میرٹھی

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔