میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 5 نومبر، 2015

الٹی بولی !

اردو زبان کی حیرت انگیزیاں ۔   یہ مضمون   مجھے وٹس ایپ ہوا ۔
 پڑھتے ہی 1964 کا زمانہ ذہن میں آگیا ۔ 
جب " فے " کی بولی ، ہم بچے بولا کرتے تھے پھر " چے " کی بولی اور " کاف " کی بولی ، بھی ایجاد ہو گئی ۔ 
تم کیا کر رہے ہو ؟
  تفم کفیا کفر رفہے ہفو ؟
 لہذا والدین سے بلا خوف ، ایک دوسرے کی شکایت لگانے کی " فے " کی بولی میں دھمکی دیتے ۔
 یہ بولیاں عام ہو جانے کے بعد ، میں نے اُلٹی بولی ایجاد کی جو ہم تینوں بہن بھائی آپس میں بولا کرتے تھے ۔ گو کہ یہ مکمل اُلٹی بولی نہیں تھی اِس کے ادب و آداب ہم نے بولتے بولتے بنائے تھے ۔
 تم کیا کر رہے ہو ؟ مُت ایک رک ہیر وہ ؟
  پانچویں کلاس سے دسویں کلاس تک بولتے بولتے ہم تینوں بلکہ چھوٹی بہن بھی اِس میں ماہر ہوگئے تھے ۔
ابّا کے فوج میں ہونے کی وجہ سے ہر دو سے تین سال بعد  نہ صرف محلّہ  ، بلکہ سکول اور شہر بھی تبدیل ہوتا  ۔ ہر شہر میں نئی نئی چیزیں  دیکھنے کو ملتے ۔ جن میں  مقامی زبانیں ، عمارات ، باغات  اور  دیگر تفریحی مقامات دیکھنے کو ملتے ۔ جن پر مضمون لکھنا میرے اور آپا کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ۔  جگہوں کے نام اِس لئے یاد رہتے  کہ ، کھیل  بوجھو تو جانیں   یعنی  کسوٹی  کھیلا کرتے تھے ۔ 
بعض دفعہ  اتنے اعتماد سے جھوٹ بولا  جاتا کہ سوال پوچھنے والے کو یقین کرنا ہی پڑتا ۔   لیکن پھر سچ بتا دیا جاتا کہ مذاق کیا تھا ۔
الٹی زبان بولنے کی وجہ سے محلّے   کے بچے پوچھتے کہ،
" یہ کون سی زُبان ہے؟"

 تو آپا جھٹ کہتی ،
" جرمن زبان ہے "

پہلے تو  دوست یقین کر لیتے ، لیکن پھر اُنہیں بھی گُر بتا دیا جاتا ۔
وہ بھی بولا کرتے ، لیکن ہماری گرائمر کی غلطیوں کے ساتھ مگر سمجھنا مشکل نہ ہوتا ، کیوں کہ وقتی راز کی بات ہوتی ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 اردو زبان کی حیرت انگیزیاں
ذیل میں اردو کے کچھ الفاظ دئیے جا رہے ہیں جن کو الٹا کر کے پڑھیں تو معانی تبدیل ہو جاتے ہیں !
  بارش = شراب
  مالک = کلام
  سیب = بیس
  سر = رس
  رانا = انار
  تاریخ = خیرات
  لاش = شال
  ایک = کیا
  انیس = سینا
  ماما = امام 

اویس = سیوا
بیج = جیب
راز = زار
نام = مان
انور = رونا
اناج = جانا
روز = زور
بات = تاب
بابر = رباب
مرچ = چرم
چین = نیچ
ناپ = پان
بابرا = ارباب
رات = تار
موچ = چوم
دال = لاد
ریما = امیر
ریت = تیر
شور = روش
ڈال = لاڈ
ریشم = مشیر
شوخ = خوش
شام = ماش
رش = شر
فرح = حرف
لوگ = گول
ناک = کان
شک = کش
لات = تال

شرط = طرش 

 کچھ الفاظ ایسے بھی ھیں جنھیں الٹا پڑھو تو تلفظ وہی رہتا ہے جیسے:
نادان۔  تبت۔ موم۔ ٹاٹ۔میم۔ لال۔ بلب۔ نان.....
لفظ درد کو الٹا جائے تو درد ہی بنتا ہے۔ اسی تعلق سے ایک شعر ہے۔

میں سراپا درد ہوں 
جس پہلو پے پلٹو درد ہوں۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔