میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 5 نومبر، 2015

مغربی باپ اور بیٹا

مغربی دیس کا ایک بیٹا اپنے بوڑھے والد کو یتیم خانے میں چھوڑ کر واپس لوٹ رہا تھا- کہ اُس کی بیوی نے فون کیا ،
" دیکھو یہ خیال رکھنا کہ ڈیڈی تہواروغیرہ کی چھٹی میں گھر نہ آئیں ۔ ہم خود اُن سے ملنے جایاکریں گے "
" بہتر ہے میں انتظامیہ کو بتا دیتا ہوں "۔
بیٹے نے سوچا ،
" اُس کے باپ نے ، 15 سال پہلے ماں کے ایکسیڈنٹ میں مرنے کے بعد اُس کا کتنا خیال رکھا وہ جو بھی چیز مانگتا اُسے لا  کر دیتا ، اُسے کبھی سکول سے واپس آنے کے بعد اکیلا نہیں چھوڑا ، چھٹیوں میں دونوں باپ اور بیٹا جگہ جگہ کی سیر کرتے ۔ بہت سی عورتوں نے باپ کے قریب ہونے کی کوشش کی ۔ لیکن اُس کے باپ کو گوارا نہ تھا کہ اُس کا بیٹا اُس سے دور ہوسٹل کی زندگی گذارے ۔
وہ اپنے ماضی کو یاد کرتا ہوا آفس کی طرف بڑھا ۔
" لیکن اب ڈیڈی کو گھر میں اکیلا رکھنا ، مشکل ہو گیا ۔ جوڈی بھی تنگ آچکی ہے ۔ بچے بھی پریشان ہیں ۔ وہ لوگ ڈیڈی کی وجہ سے آؤٹنگ پر بھی نہیں جا سکتے۔ دراصل ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ڈیڈی کی ایک کاٹنا پڑی تھی ۔ زخمی وہ بھی ہوا تھا مگر معمولی ، اُسے سیٹ بیلٹ باندھنے سے نفرت تھی اور  ڈیڈی نے اُس کے لئے اپنی اور ماما کی سیٹ کے پیچھے خصوصی فوم لگائے تھے ۔
اُس نے آفس کی طرف دیکھا ،ڈیڈی انچارج سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے ، شاید پرانے دوست تھے ، اُسے یاد آیا کہ ایک دفعہ ڈیڈی اُسے یہاں ماما کے ساتھ لائے تھے۔
وہ اور ماما کار میں بیٹھے رہے اور ڈیڈی اندر چلے گئے تھے ۔ شاید اُنہوں نے اپنے پاپا کو یہاں ، رکھا ہو ؟

انچارج نے اُسے آفس کی طرف دیکھا تو آفس سے باہر نکلا ،
" جی مسٹر ڈیوڈ جونیئر ، کوئی خاص بات ؟"
" مسٹر ہینڈرسن ، میں اور میری فیملی ڈیڈی کو ملنے یہاں تعطیلات پر آیا کریں گے " ڈیوڈ جو نیئر نے کہا ۔
" یقیناً ، یقیناً ، مسٹر ڈیوڈ کو خوشی ہو گی "
انچارج بولا ، وہ سفید بالوں والا ڈیڈی کا ہم عمر یا زیادہ رہا ہوگا ۔
" بہت بہت شکریہ " ڈیوڈ جو نیئر واپس مڑا دو قدم چلنے کے بعد اُس نے اپنے تجسس کے ھاتھوں مجبور ہو کر پوچھا ،

" مسٹر ہینڈرسن ، بُرا نہ مانئیے گا ، ایک ذاتی سوال کروں ! "
 "آپ میرے والد کو کب سے جانتے ہیں ؟ " ڈیوڈ آرتھر جونئیر، سیکنڈ آفیسر ، سٹی بنک نے پوچھا ۔

مسٹر ہینڈرسن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا -
"گذشتہ تیس سال سے ...جب مسٹر ڈیوڈ آرنلڈ اور اُن کی مسز ہمارے پاس ایک بچے کو گود لینے آئے تھے !"

(ماخوذ )

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔