میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 7 نومبر، 2015

اقبال ، شبلی اور عطیہ فیضی !


اقبال اور شبلی گوشت پوست کے انسان تھے یعنی زندہ دل بھی تھے اور رومائنٹک بھی۔۔۔۔۔عطیہ بیگم کون تھیں اور ان میں ایسا کیا تھا کہ شبلی نعمانی سے علامہ اقبال تک کئی جینئس ان کی زلف کے اسیر تھے۔ حسب نسب، دولت ، ذہانت اور حسن سےاپنے عہد کے باذوق اشرافیہ کو مبہوت کرنے والی اس کوئین کو مصوری، شاعری، مذہب، علم الکلام اور موسیقی کا شستہ ذوق تھا۔۔۔۔۔۔ اقبال نے اظہار عشق کیا مگر چونکہ شاعر تھے، سو رہ گئے۔ شبلی بازی لے گئے۔ شہزاد ناصر نے تفصیلاٌ شئیر کیا ہے کہ حسین کوئین کا شباب سیر سے واپس آیا تو اتنا سوگوار کیوں تھا۔ ایک ساحرہ کا سوگوار انجام پڑھنے سیکھنے سے تعلق رکھتا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔