میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 10 دسمبر، 2015

اپنا سامان مختصر رکھئیے

سفرِ امریکہ کی تیاری، نرا سیاپا
اس سال کے شروع میں امریکہ جانے کا ارادہ کیا تھا اور اپریل میں جونہی پروگرام پکّا ہوا تو میں نے فوری طور پہ ٹکٹ لے لی۔ آٹھ ماہ میں میرے خزانے میں جو شگاف پڑا تھا وہ تو پورا ہو گیا۔اور اب نومبر میں جب سفر کرنا پڑا تو یوں لگا کہ مفت جا رہا ہوں جیسے اوباما نے ٹکٹ بھیجا ہو۔
سفر کی تیاری کا منصوبہ بنایا تو سوچا کہ بس چار ہی تو کام کرنے والے ہیں۔ پولیو کا ٹیکہ لگوانہ ہے، دورانِ قیام کیلئے دوائیاں اکٹھی کرنا، سامان باندھنا اور عزیز و اقارب کو اللہ حافظ کہنا ہے۔
اپنے فوجی ہسپتال گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ صرف بکارِسرکار جانے والوں کو اپنے پاس سے پولیو کا ٹیکہ لگاتے ہیں۔ جو میری طرح سیر سپاٹے کیلئے باہر جاتے ہیں وہ اپنا ٹیکہ بازار سے لے آئیں، ہم لگا دیں گے اور سرٹیفیکیٹ بھی دے دیں گے۔
سارا دن سکیم تھری اور مال روڈ کی کم از کم دس دوکانوں کا چکر لگایا تب جا کے کہیں گیارویں دوکان سے ٹیکہ ملا۔ بھاگم بھاگ واپس پہنچے، ٹیکہ لگوایا، سرٹیفیکیٹ لیا اور پوری دیہاڑی غارت کر کے واپس گھر پہنچ گئے۔
دوائیاں اکٹھی کرنے میں زیادہ دقّت نہ ہوئی۔ کچھ ہسپتال نے دیں، باقی بازار سے خریدیں اور یوں کوٹہ پورا ہو گیا۔
اب تیاری کا سب سے صبر آزما اور مشکل مرحلہ شروع ہوتا ہے یعنی سامان کی پیکنگ۔ بکسوں کا تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ پچھلی باری والے دونوں نکال لئے۔ ان کی پیمائش بھی ٹھیک تھی یعنی 62 انچ ( 158 سینٹی میٹر، لمبائی+چوڑائی+اونچائی)۔ تھے تو ذرا خستہ حالت میں لیکن سوچا کہ یہ پھیرا اوکھے سوکھے نکال ہی جائیں گے۔ دوسرے میں نے کونسا اپنے سسرال جانا ہے۔ سامان بکسوں میں ڈالا اور وزن کیا تو ہر بکسہ 23 کلو سے بہت زیادہ ہو گیا۔ کچھ کم کرکے وزن کیا تو پھر بھی زیادہ تھا۔ پھر مزید کم کیا تو زیادہ کم ہو گیا۔ قصّہِ کوتاہ کوئی چھٹی ساتویں کوشش کے بعد دونوں میں اپنی طرف سے 21, 21 کلو وزن کیا اور دو کلو کی گنجائش رکھی۔ پھر بیٹھے بیٹھائے خیال آیا کہ اپنی وزن کرنے والی مشین کہیں گڑ بڑ نہ کر رہی ہو۔ فوراً گوانڈیوں کی مشین منگوائی۔ کوئی اُنیس بیس کا فرق تھا لیکن وزن ٹھیک ہی لگا۔ پھر بھی دل کی تسلّی نہ ہوئی۔ بیٹی کو کہا کہ وہ اپنی مشین لیتی آئے۔ اُس سے چیک کیا تو کوئی ساڑھے انیس بیس کا فرق تھا۔ پھر اچانک اچھوتا آئیڈیا آیا۔ خادم کو کہا کہ وہ مشین پہ کھڑا ہو جائے۔ پھر اُس کا وزن نوٹ کیا۔ پھر اسے کہا کہ مشین پہ کھڑے کھڑے ایک ہاتھ سے بکسہ اُٹھائے۔ پھر دونوں کے وزن سے خادم کا وزن مِنہا کیا تو فرق پندرہ بیس کا ہو گیا۔ خیر تنگ آ کر میں نے انگریزی میں کہا کہ سب جہنم میں جائے، اب دیکھی جائے گی جو ہوتا ہے ہو جائے۔ بڑی حد ہے کوئی ایک دو کلو زیادہ بھی ہو گیا تو اُس کا کرایہ دے دوں گا۔ لیکن پیکنگ میں بڑی محنت اور عرق ریزی سے کام کیا تھا۔ بڑی احتیاط کی تھی۔
روانگی سے ایک دو دن پہلے سب عزیز و اقارب کو الوداع کہا، معافی شافی مانگی۔
کچھ نے کہا,
"بادشاہو تُسی کی گل کر دے او؟ تُساں ساہڈا کیہڑا گناہ کیتا اے۔ معافیاں ای معافیاں۔ "
کچھ نے ہاں کہا،
کچھ نے نہیں کہا اور
کچھ نے کہا سوچیں گے!

آخر خدا خدا کر کے روانگی کا دن بھی آیا۔ اِتحاد ایئر لائن کے چیک اِن کاؤنٹر پہ ایک حسین و جمیل خاتون تشریف فرما تھیں۔ دونوں بکسے مشین پہ رکھے۔ میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ سکیل کی سوئیوں کی طرف ڈرتے ڈرتے چور نگاہوں سے دیکھا تو وزن چالیس کلو کے قریب تھا۔ یعنی حد سے پورے چھ کلو کم۔ میرا تو دل ڈوب گیا، دماغ سُنّ ہو گیا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔
انہوں نے سامان کے ٹیگ نکالے۔ میرا روٹ تھا اسلام آباد - ابو دھابی - شکاگو - شارلیٹ - برمنگھم (امریکہ)۔ خاتون اپنے مرمریں ہاتھوں سے ٹیگ لگاتے ہو ئے پوچھتی ہے .
" سر ! خیریت ہے آپ امریکہ پہنچتے ہی واپس انگلینڈ (برمنگھم) جا رہے ہیں؟"
میں نے کہا ,
"  بی بی ایسی تو کوئی بات نہیں۔ میں انگلینڈ والے نہیں بلکہ امریکہ والے برمنگھم جا رہا ہوں"۔
وہ اس بات پہ حیراں تھی کہ امریکہ میں بھی کوئی برمنگھم ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ کاش حُسن اور عقل میں کوئی تعلق ہوتا۔
بورڈنگ کارڈ اور سامان کے ٹیگ لئے اور بوجھل قدموں سے ہاتھ کا سامان گھسیٹتے ہوئے میں روانگی کے لاؤنج کی طرف چل پڑا لیکن چھ کلو کی گنجائش استعمال نہ کرنے کا غم مجھے کھائے جا رہا تھا۔
اور کسی کمبخت نے پولیو کارڈ بھی چیک نہیں کیا۔ مجھے ساڑھے چار سو روپے کے ضائع جانے کا غم نہیں تھا لیکن اس کام پہ لگائی گئی پوری دیہاڑی کے ضائع جانے کا افسوس ضرور تھا۔
پہلے تو میں نے دماغ کو جھنجھوڑا کہ بھئی تمہیں کیا پریشانی لا حق ہو گئی ہے؟ کہنے لگا کہ بہت سا سامان ہم نے نکال باہر کیا تھا۔ بہتوں سے ہم نے معذرت کر لی کہ اُن کا سامان نہیں لے کر جا سکیں گے کیونکہ گنجائش نہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور سب سے افسوسناک بات یہ تھی کہ پیکنگ پہ محنت بہت کی جو رائیگاں گئی۔
اس کے بعد میں نے ڈوبتے ہوئے دل کو ٹٹولا اور پوچھا ,
" بھئی تمہارا کیا معاملہ ہے۔ تم کیوں ڈوبے جا رہے ہو۔"
کہنے لگا,
"میں تو دماغ کے روّیےپہ حیران ہوں۔ ہر وقت حساب کتاب میں لگا رہتا ہے۔ ٹھیک ہے اُس کو سفرِ امریکہ کیلئے سامان پیک کرنے میں بے انتہا محنت کرنی پڑی لیکن اس چھ کلو گنجائش کے بدلے کتنا ذہنی اور قلبی سکون حاصل ہوا؟ اُس کے بارے میں نہیں سوچتا۔ "

دل کہنے لگا ,
" اصل میں مجھے تو سفرِ امریکہ سے کہیں زیادہ سفرِ آخرت کا فکر کھائے جا رہا ہے جہاں معاملہ ڈاہڈوں کے ہاتھ میں ہو گا۔ جہاں کسی نے سامان نکال کر پھینکنے نہیں دینا، کسی نے سامان ایڈجسٹ نہیں کرنے دینا اور نہ ہی کسی زائد سامان کا کرایہ لیکر بُک کر لینا ہے بلکہ سامان سمیت اُٹھا کر دوزخ کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دینا ہے"

تو دوستو:-
جانے کس وقت کُوچ کرنا ہو
اپنا سامان مختصر رکھئیے




  دیگر مضامین ۔

٭ ۔  کورس میٹس (Course-mates)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔