میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ, دسمبر 18, 2015

ادھوری داستاں !

 ارے ثمر تم تو خالدہ ریاست سے بہت ملتی ہو. . 
میں نے ایک دم اپنی میٹرک کی ٹاپ پوزیشن ہولڈر کلاس فیلو کو کہا ..
وہ چونکی اور چپ سی ہو گئی
اگلے دن اس کی خالہ جو ہماری بائیو کی ٹیچر تھیں ان کا میسج مجھے ایک اور کلاس فیلو سے ملا کہ ثمر نے ایک کیرئیر وومن بننا ہے اس لئے اس کا نام کسی اداکارہ کے ساتھ نہ لیا جائے ..
اس کی ریپوٹیشن بہت اہم ہے ۔

ہم اس وقت پری میڈیکل میں تھے .. مجھے ٹیچر خالہ کی بات بری لگی کیونکہ ڈاکٹر تو سب ہی بننا چاہتے تھے .لیکن استاد تھیں سو چپ کئے رہی ..
ثمر کے والدین میں علحدگی ہو چکی تھی اور وہ اپنی والدہ کے ہمراہ اپنی شادی شدہ خالہ کے گھر میں رہتی تھی . بے انتہا ذہین ہر کلاس میں ٹاپ کرنے والی لڑکی ..
ہم سب اس کی لیاقت سے مرعوب رہا کرتی تھیں ..
خاموش طبع ثمر مجھے اچھی لگتی تھی لیکن ہم میں زیادہ دوستی نہ پنپ سکی ..
ایف ایس سی کا رزلٹ آیا تو ہمیشہ کی طرح ثمر پھر ٹاپ پر تھی ..
میرا میرٹ بھی کے ای کا بن چکا تھا ..
نتیجے والے روز ہی ثمر میرے گھر تحفہ اور مبارک دینے آئی ..
وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ میں کہاں داخلہ لے رہی ہوں. .
میں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کا بتایا تو کہنے لگی ..
میرٹ تو میرا بھی ہے لیکن مجھے پنڈی میں ہی داخلہ لینا پڑے گا . کیونکہ گھر یہیں ہے..
اب میں کیا کہہ سکتی تھی ..
وہ ہماری آخری ملاقات تھی ..
میں لاہور آ گئی اور وہ وہیں پنڈی میں ہی رہ گئی ..
پنڈی سے کبھی کبھار کسی دوست کا خط یا فون آ جاتا تو ثمر کا حال احوال بھی پتا لگتا ..
اس کی والدہ نے بھی دوسری شادی کر لی تھی اور دوسرے شوہر کے جوان بچوں کی وجہ سے اپنی بیٹی کو ساتھ نہیں رکھ سکتی تھیں. .
اس لئے اب ثمر اپنے خالہ اور خالو کی سرپرستی میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی تھی ..
خالہ تو ماں سی ہوتی ہے لیکن خالو کے لئے یہ زبردستی کی ذمہ داری تھی . وہ کچھ سخت مزاج بھی تھے ..
گھر میں ثمر والدین کے پر شفقت رویے سے محروم تھی ..
کالج میں ایک لاولد بوڑھے پروفیسر صاحب اور ان کی اہلیہ کو ثمر کی کہانی کا علم بھی تھا اور وہ دونوں اس سے ہمدردی بھی رکھتے تھے ..
رفتہ رفتہ ثمر بھی ان سے اپنی چھوٹی موٹی الجھنیں شیئر کرنے لگی ..
چوتھے سال تک پہنچتے پہنچتے ثمر اور عمر رسیدہ پروفیسر صاحب کے بےلوث رشتے کو افواہ سازوں نے گناہ کا روپ دے کر بدنام کر دیا تھا ..
خالو تک جب خبر پہنچی تو کالج نے ایک تماشا دیکھا ..
بوڑھا پروفیسر کاریڈور میں کھڑا گالیاں کھا رہا تھا. .
اور اپنے ساتھ ساتھ ثمر کی صفائی پیش کر رہا تھا ...
میری بیٹی ہے...
یہ قسمیں کھا رہا تھا.. غیظ آلود خالو نے ثمر کو بالوں سے پکڑا ہوا تھا اور کالج کی راہداری میں ٹاپ پوزیشن ہولڈر ثمر کے مستقبل کو اس سمیت زمین پر گھسیٹ رہا تھا ..
اس روز کے بعد ثمر کا کالج چھوٹ گیا ..
چند روز کالج میں افواہیں گرم رہیں . پروفیسر صاحب کا تبادلہ ہو گیا ..
افواہ سازوں نے کچھ اور شکار ڈھونڈ لئے ..
گھر میں ثمر کو نظر بند کر دیا گیا ..
ماں کو دوسرے شوہر کے گھر سے بلوایا گیا کہ آو اور اسے اپنے ساتھ لے جاو ہم مزید اسے نہیں سنبھال سکتے ..
والدہ نے پہلے کی طرح معذرت کر لی ..
باپ کو فون کیا گیا. .
باپ کا جواب بھی کچھ ایسا ہی تھا کہ میری بیوی اسے برداشت نہیں کرے گی اور اس وجہ سے ثمر بھی ادھر سیٹ نہیں ہو پائے گی ..
میں جیب خرچ بڑھا دیتا ہوں ...
آپ اسے ہوسٹل بھیج دیں. .
لیکن غصے میں بھرے ہوئے خالو کے لئے اب ثمر کو دوبارہ اسی کالج بھیجنا ممکن نہیں تھا..
انہوں نے جھٹ پٹ خاندان میں سے ہی ایک پکی عمر کے صاحب سے ثمر کا رشتہ طے کیا اور اسے یہ بھی بتا دیا کہ یہ رشتہ کس لئے کیا جا رہا ہے ..
اور اب یہ لڑکی تعلیم جاری نہ رکھے تو ہی خاندان کی عزت بچے گی. .
اب محترم خاوند صاحب کو تو اس لڑکی پر ایسا اختیار ملا کہ جس لڑکی کے والدین اپنے گھروں میں مگن تھے ان کے لئے ثمر اپنے اپنے پرانے شریک حیات سے جڑی ایک ناپسندیدہ یاد تھی جسے وہ دونوں ہی بھول جانا چاہتے تھے. .
خالو کی انا کے لئے تو ثمر خاندان پر تہمت تھی اس لئے اس کے شوہر کو خود اپنی باتوں سے اس کے کردار سے مشکوک کر دیا گیا. ..
یاد رہے یہ وہ لڑکی تھی جسے کیرئیر وومن بننا تھا اور جس کی ریپوٹیشن کا صاف رہنا بہت ضروری تھا. .
جو جتنی ذہین تھی اتنی ہی حساس بھی تھی..
وہ خاموش ہو گئی ..
شوہر آتے جاتے طعنے دیتا کہ کس کے خیالوں مین گم رہتی ہو . وہ چپ رہتی. .
پڑھائی تھی نہیں..گھر میں قید تھی ..
کم عمری میں ہی تین بچے بھی ہو گے ..
تیسرے بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی بلڈپریشر بڑھا اور ثمر کومے میں چلی گئی ..
دو ماہ کومے میں رہی. .
ہوش میں آئی تو مزید کھو چکی تھی ..
مزید خاموش گم سم ..
گہری چپ

اب شوہر کا دل بھی نرم پڑ چکا ہے
خالو اور خالہ بھی معافی مانگتے ہیں. .
ماں باپ بھی شرمندہ ہیں لیکن ثمر کو اب کوئی چیز متاثر نہیں کرتی اس کے ذہین اور حساس ذہن نے راہ فرار ڈھونڈ لی ہے .. وہ آج بھی اسی دنیا میں سانس لے رہی ہے لیکن وہ جی کسی اور دنیا میں رہی ہے جو اس نے اپنے خیالوں میں بسائی ہے .. اس دنیا میں صرف وہ اپنے بچوں کو پہچانتی ہے اور بس ..

اس کی زندگی ہم سب کے لئے سوالیہ نشان ہے ..
ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی حد تک ایک دوسرے پر اپنے اثرات ثبت کرتا ہے .
جبکہ کچھ معصومین کی زندگی ہی دوسروں کے ثبت کئے نشانات کا مرقع ہوتی ہے..
ذرا اپنے ارد گرد دیکھئے کیا ہمارے اس پاس کوئی ایسی ہی ثمر تو نہیں

رعنائی خیال
ڈاکٹر رابعہ خرم درانی


نوٹ..... کردار اور علاقے کے نام تبدیل کر دیئے گئے ہیں. ..

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔