میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 20 دسمبر، 2015

برفی اور چم چم کا گھوڑا کاٹھ کا نہیں فوجی گھوڑا

بوڑھا اور بڑھیا ، چم چم کے ساتھ ایبٹ آباد برفی کے گھر آئے ہیں ، 
گو کہ ہم دونوں اکثر آتے ہیں ، لیکن چم چم کے ساتھ آنا ، ایک بہت بڑی تفریح ہے ، وہ اور برفی سارا دن بوڑھے کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتیں ۔
آج ہم نے
پارک میں گالف کھیلی ۔
فٹ بال کھیلا
پھر چم چم اور برفی نے جھولے جھولے ۔
پارک کے پھر بچوں کے ساتھ ھوٹل والا کھیلا
پئریٹ اور خطرناک سمندر کھیلا
گھر آکر بوڑھا ، برفی اور چم چم کھانا کھا کر سوگئے ۔
بڑھیا حیران ، کی آج بوڑھے نے لیپ ٹاپ آن نہیں کیا ۔
شام ساڑھے چار بجے برفی ،
" دادا، دادا، آوا، دادا" ، 
کہتی بوڑھے کے کمرے میں آئی ،
بوڑھا گدھا گھوڑا سب بیچ کر سویا ہوا تھا ،
اُس کے "دادا دادا "،
کہنے پر بھی نہیں اُٹھا تو اُس نے زور زور سے رونا شرع کر دیا ۔
اب بوڑھے کو خواب آنا شروع ہوگئے ،
وہ برفی کو چپ کرائے مگر برفی ، کارونا بند نہ ہو ،
خواب ہی میں بڑھیا کے چلانے کی آواز آئی ،
" اے سنو ! بچی رو رہی ہے چپ کراؤ "۔
بوڑھا چپ کرائے ، لیکن برفی چپ ہی نہ ہو ۔
بڑھیا نے جھنجھوڑا ، بوڑھا ھڑبڑا کر اُٹھا ۔
"آپ واقعی سو رہے تھے ، میں سمجھی شاید اِس سے مذاق کر رہے ہیں ۔"
بوڑھے کا حکم ہے کہ اگر ، گھر میں آگ بھی لگ جائے ۔ اور جب تک بوڑھے  کے بستر تک نہ آئے اُسے نہ اُٹھایا جائے ۔

اور آگ دوروازہ کھول کر بستر کے پاس پہنچ چکی تھی اور بھڑک رہی تھی ۔
بوڑھے نےبرفی کو پیار کیا اٹھا کر سینے پر بٹھایا ۔
وہ چپ ہو گئی اور " باہر ، باہر"  کا شور مچائے ۔
اب ٹھنڈ میں اُسے باہر کیا لے جانا ، چم چم کے آئی پیڈ پر کارٹون لگائے مگر اُس نے بند کر دئے اور پھر"باہر باہر"، کے نعرے مارے ۔
بوڑھا چائے پیئے بغیر بستر سے نہیں اٹھتا کیوں کہ توانائی بحال جو کرنی ہوتی ہے ۔
لیکن برفی نے بستر سے اتار دیا ، اُسے لے کر لاونج میں آیا ۔ برفی نے پھرتی سے چپلیں پہن اور دروازے کی پاس کہ باہر جانا ہے ۔
بوڑھے نے سمجھایا باہر سردی ہے ۔ نہ مانی
دادی نے سمجھایا باہر سردی ہے ۔ نہ مانی
پھوپی نے سمجھایا ۔ نہ مانی ۔ (اُس کی کپتان پھوپی بھی ، پیرا گلائیڈنگ کورس کرنے ایبٹ آباد آئی ہے ۔ جو کل سے شروع ہوگا) ۔
چم چم نے سمجھایا ۔ نہ مانی
ماما نے کچن سے آ کر ایک گھرکی دی برفی چپ چاپ ، بوڑھی کے گود میں آکر ۔ ماما کی طرف دیکھ کر بولی،
" دادا ، جھو جھو جھو ۔"
اب پوتی کی فرمائش "جھو جھو جھو : کی ،
بوڑھے نے کہا،
"آؤ ہارس ہارس کھیلتے ہیں"،
چم چم کو اپنا سردیوں کی چھٹیوں کا کام جو اُس کی ماما نے دیا وہ کر رہی تھی ، لپک  کر بوڑھے کی پیٹھ پر سوار ہو گئی ۔
برفی نے بھی بیٹھنے کی کوشش کرے مگر گھوڑا اونچا تھا ۔
خیر پھوپی نے بٹھایا ،
برفی ، کوکاٹھ کے نہیں بلکہ ، فوجی گھوڑے پر ۔ 

٭٭٭٭  فوجی بوڑھا نہیں ہوتا   ٭٭٭٭٭



٭    برفی اور چم چم کا گھوڑا کاٹھ کا نہیں فوجی گھوڑا



  ٭     جوان ،  بوڑھا اور پیرا گلائیڈنگ  

٭   ابھی تک بوڑھا باہمت ہے !

 ٭    پرائیڈ فیملی پیرا گلائیڈنگ کلب

 جاری ہے ۔


٭٭٭٭٭رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭٭٭٭ 


 فوجیات


 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔