میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 30 دسمبر، 2015

مختون سے پختون تک


ہم نے ایک پوسٹ  کو خوبصورت بنا کر فیس بُک پر  ، ہنسی کی آڑ میں  ، تعلیم در تعلیم کے لئے پوسٹ کیا :
 
تو ، نہایت ہی شدید قسم کا رد عمل  پوسٹ پر اور اِن باکس میں پڑھنے  اور دیکھنے کو ملا ۔ بوڑھا   عمرانی تربیت یافتہ نوجوانوں  کی خاندنی تربیت کی پرواہ نہیں کرتا ۔ 

 لیکن نوجوان بزرگ کا شدید ،  نوٹ آف کنسرن ملا ، مہاجر زادہ نے دریافت کیا :


نوجوان بزرگ ! آپ کو " ختنہ " پر اعتراض ہے یا " پختون " پر !


ویسے ! یہ پوسٹ وٹس ایپ پر مجھے میرے " پشتون"  دوستوں ، یونٹ کے افسروں (بشول سیکنڈ لفٹین تا لیفٹننٹ جنرل) پسندیدگی کا انگوٹھا لیتی، اردو لُغت میں شامل ہوتی ہوئی محو گردش ہے ۔ کیوں کہ وہ " پختون " نہیں !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  


مجھے معلوم ہے  کہ جو "پختون" ہیں وہ اِس پر مجھے گالیاں نکالیں گے اور جو "پشتون "  ہیں ،  وہ کڑھیں گے ، کہ قومِ لوط کے بھائیوں نے اُنہیں بھی مشکوک بنا دیا یوں وہ اپنے بچوں کو اِس فعل سے دور رہنے کا مشورہ دیں گے تاکہ " پشتون " ہی رہیں اور "پختون" نہ کہلائیں ۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے ، کہ میں اپنے ایک پٹھان دوست جو اپنی جوانی میں ، مکمل "پختون" تھا  ، کو جب " لوطی " کہتا تو وہ مجھے گالیاں دیتا ، لیکن اپنے "قصصِ لواطت " فخر سے سناتا ۔ آج کل وہ " تبلیغیوں " میں شامل ہے ، کیوں کہ پٹھان ہے ، لہذا اُس کے چہرے پر ایک فُٹ داڑھی سے نور برستا ہے ۔ 
جو میرے خیال میں " نور " نہیں ، " نار " کی جھلک ہے ۔ شاید ، اللہ یہ جھلک اُن کے چہروں سے قیامت کے دن نارِ جہنم کی شدت سے ،معدوم کر دے ، جو جوانی میں ، ہم جنسیت ، لواطت ، یا "گےازم"  پر شدت سے جمے رہے ۔ کیوں کہ اُن کے رسول نے اُنہیں بتایا ، کہ اللہ نے زنا کی سزا تو رکھی ہے لیکن " لونڈے بازی " کی سزا اللہ نے نہیں بتائی ، لہذا اُنہیں کھلی چھٹی ہے ، خوا  ہ مسجد  کی چھت ہی کیوں نہ ہو ، جہاں مُولوی  بچوں کو مذہب سکھاتا ہے ۔   کیوں کہ مولوی  بھی اِسی  طرح تعلیم یافتہ  ہوا ہے - 
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ ﴿العنكبوت: 28﴾  
 اور لوط،جب اس  نے اپنی  (لونڈے باز ) قوم سے کہا: کیا تم الْفَاحِشَةَ کرتے ہو جسے تم سے پہلے الْعَالَمِينَ میں سے کسی نے نہیں کیا  ؟

 ٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔