میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 9 دسمبر، 2015

پسند کی شادی اور بور کے لڈو

پسند کی شادی کے بعد کی صورتحال کچھ یوں ہوتی ہے 
. جو پسند کی شادی کر پاتاہے اور بعد میں کچھ عادات جان پاتا ہے ..وہ الجھ جاتا ہے ..

ایک لڑکی بہت اچھا لباس پہنتی تھی عمدہ خوشبو میک اپ نیل پالش .. لڑکے کو پسند آ گئی شادی ہو گئی شادی کے بعد جب بیوی نے ایسے کپڑے خوشبویات اور میک اپ مانگا تو ہوش ٹھکانے آئے کہ یہ سب فری نہیں تھا یہ ابا جی کے پیسوں سے آتا تھا جو اب شوہر کی جیب سے آئے گا ...

شادی سے پہلے سجی بنی لڑکی کالج یا آفس میں چند گھنٹوں کے لئے نظر آتی تھی شادی کے بعد نہار منہ بغیر دانت صاف کئے .  بغیر ہئیر سٹائل  کے اور شکن آلود کپڑوں میں نظر آتی ہے یعنی'' سر جھاڑ منہ پہاڑ '' تو تمام خوش کن خیالات اڑنچهو ہو جاتے ہیں ...

اسی طرح ڈیٹ پر فاسٹ فوڈ یا چائنیز کھاتے ہوئے چهری کانٹے کی مہارت ..
نیپکن کا نفیس استعمال, مشروب جرعہ جرعہ پیتے سب کچھ حسین لگتا ہے .......
لیکن شادی کے بعد وہی لڑکی آپ کے ساتھ دستر خوان یا ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر جب دال ساگ بهنڈی توری روٹی کے ساتھ کھاتی ہے ,
دال چاولوں پر ڈال کر انگلی سے اچار کی پھانک توڑتی ہے  اور استعمال شدہ برتن سمیٹتی ہے
تو وہی لڑکی اتنی حسین نہیں لگتی ..
وہی لڑکی شادی سے پہلے جب اپنے گھر کے معاملات لڑکے سے ڈسکس کرتی ہے اپنی بھابی یا سہیلی یا بہن بھائی کا گلہ کرتی ہے تو لڑکا فخر محسوس کرتا ہے کہ مجھے قابل اعتماد سمجھا گیا اور صاحب الرائے بھی
لیکن جب وہی لڑکی شادی کے بعد نند ساس دیور جیٹھ یا دیورانی جیٹهانی کا قصہ شوہر نامدار کو سناتی ہے تو شوہر نامدار زچ ہو جاتے ہین اور رائے دینے سے گریز کرتے ہیں بلکہ انتہائی صورتحال میں بیگم کی خاطر خواہ تواضع بھی فرماتے ہیں ..

 اب وہی لڑکی  جمائی بھی لے گی اور ڈکار بھی
سر بهی کهجائے گی ...

لڑکی وہی ہے ..
لڑکا بھی وہی ہے ..
بس معروضی حالات کی تبدیلی سے جذبات بدل جاتے ہیں اور ترجیحات بهی ... ....

  تو یہ سب کچھ اگر لڑکا توقع نہیں کر رہا تھا تو دراصل وہ شادی نہیں احمقوں کی جنت کا خواہشمند تها...
..اسی طرح اگر لڑکی اسی خوابناک پھولوں کے ہنڈولے میں جھولنے کے خواب دیکھ رہی تھی تو وہ بهی احمقوں کی رانی ہی تھی .. ..

رعنائی خیال
رابعہ خرم درانی
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔