میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 8 دسمبر، 2015

عوام کے ووٹ کا احترام کریں

 
وٹس ایپ پر 41 سالہ رفیق کا پیغام تھا ۔
کراچی آپریشن بند کر کے رینجرز کو ہٹا دیا جائے ۔۔۔ پھر ایم کیو ایم جتنی مرضی قتل و غارت فساد و اودھم مچائے کوئی بھی کراچی کے لئے ایک لفظ نہ بولے کیونکہ وہ چاہتے ہی نہیں کہ ان کی زندگی میں تبدیلی آئے ۔ آج کے بعد کراچی میں ہونے والی بلدیہ فیکٹری جیسی قتل و غارت پہ مجھے کوئی افسوس نہیں ہوگا اور صولت مرزا جیسے ٹارگٹ کلرز کے کسی کوقتل کرنے پر نہ موبائل فون چھننے پر اور نہ بھتہ لینے پر کیونکہ تم سب نے آج ووٹ کے ذریعے بتا دیا کہ تمہاری خود کی مرضی اس میں شامل ہے! مزے کرو

Saud Khan: To my dear CM  NUK
⁠⁠⁠⁠٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


عوام کے ووٹ کا احترام کریں ،
 تبدیلی کے لئے اپنی مرضی ٹھونکنے والوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں ۔

انصاف کو قابلِ حصول بنائیں ، مجرموں کو شہادتوں کی بنیاد پر سزائیں دیں۔

کراچی کے  لوکل عوام کے لئے روزگار کے دروازے بند نہ کریں ۔

جتنے کراچی میں ، قومی زبانی بولنے والے ، سرکاری ملازمتیں کر رہے ہیں ، اتنی ہی ملازمتیں کراچی والوں کو اُن کے علاقوں کے سرکاری محکموں میں دی جائیں ۔

سب سے پہلے ، سرکاری ملازمتیں ، لوکل آبادی کو دی جائیں ۔
لوکل آبادی کا علاج مُفت ہو اور نان لوکل سے مارکیٹ ریٹ کے مطابق پیسے لئے جائیں ، کیوں کہ اُن کی صحت کا بجٹ اُن کے آبائی علاقے کو دیا جاتا ہے ۔

تمام رعایتیں صرف اور صرف ۔ لوکل آبادی کو دی جائیں ، دیکر شہروں سے آئے ہوئے ، صرف اپنے آبائی علاقوں میں رعایت حاصل کر سکتے ہوں ، اور اگر رعایت حاصل کرنا چاہیں تو ، 3 سال رہائش کے بعد اپنا آبائی علاقہ تبدیل کروا لیں ۔

جتنے پلاٹ  قومی زبانی بولنے والوں نے کراچی میں لئے ہیں ، اتنے ہی پلاٹ  کراچی والوں کو اُن کے علاقوں  میں دیئے جائیں ۔

کسی بھی ، علاقے کا باشندہ ، اپنے آبائی علاقے کے علاوہ دوسرے صوبے کے  میں ایک رہائشی / کمرشل پلاٹ خریدنے کا حقدار ہو ۔ اولاد کے لئے پلاٹ/کمرشل جائداد لینے کی صورت میں اولاد کا آبائی علاقہ ، والد کا آبائی علاقہ نہیں رہ سکتا ۔

انصاف کے لئے مساجد کمیٹیاں بنائی جائیں ، جس میں یونیئن کونسل کے لوکل رہائشی افراد ہوں ۔ ہر کیس کے لئے ، چار افراد کا پینل بنے ۔ تمام دیوانی اور فوج داری شکایات یہاں لائی جائیں اگر فریقین مطمئن نہ ہوں تو پھر لوکل کورٹس میں حتمی فیصلہ ہو ، اس سے اوپر کی تمام کورٹس کا ایک نمائندہ تحصیل ، ڈسٹرکٹ تک ہو ، جس کی تنخواہ ۔ اُس کے پاس آنے والے مقدمات کی فیس سے دی جائے ۔ انصاف کے لئے اپنے ڈسٹرکٹ کی حدود سے باہر نہ جانا ہو
۔
حوالات ، جیل وغیرہ ختم کی جائیں ، تمام ملزموں کو اپنے گھروں یا ہاسٹل میں رہنے دیا جائے ، مجرموں کے گلے میں اور پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر اُنہیں ، بحیثیت مزدور سزا کا 1/4 رفاعہ عامہ کے کاموں پر لگایا جائے ۔ تمام مجرموں کو ایک جیسا لباس پہنایا جائے ۔ جو اپنی سزا کی قیمت دے سکتا ہو ، اُس کی مشقت معاف کی جائے ، لیکن وہ اپنی سزا کے  خاتمے تک مجرموں کا لباس پہنے گا۔

مذھب انسان کا انفرادی معاملہ ہو ، اجتماعی ہم مسلک کا ہو ۔  جس کا امیر اُس کا امام ہو ۔ جو آس مسلک کے فیصلوں کا امین ہو !

لبرلز کے لئے ، ملکی قونین لاگو ہوں ۔

ملک میں صرف تین قوانین ہوں، جن کے لئے تین شناختی نمبر ہوں ۔ جو شناختی کارڈ پر درج ہوں ۔
1۔ مسلم قوانین ۔ ماننے والے
2۔ غیر مسلم قوانین ۔
ماننے والے
3۔ لبرلز قوانین ۔ ماننے والے
وفاقی قوانین ، ان تینوں پر لاگو ہوں ۔
سعود خان ۔ امید ہے کہ ملک اصلاح کے طرف جائے گا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آپ کی کیا رائے ہے ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔