میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 17 دسمبر، 2015

نمو کا پہلا پاسپورٹ

1973 کی بات ، جب وزیراعظم نے پاسپورٹ بنوانے کے لئے ، حکومت کی طرف سے لگائی گئی بندش ختم کر دیں اور پاکستانیوں نے دھڑا دھڑ پاسپورٹ بنوانے شروع کر دئے ، عام فیس 300 روپے تھی اور ارجنٹ 500 روپے ، چنانچہ نمو نئے بھی پیسے جمع کر کے پاسپورٹ بنوانے کی درخواست دے دی ۔
نمّو اُن دنوں کراچی ہوتا تھا ، ائر فورس کی زندگی میں جمود آچکا تھا ، اب کھلی فضاؤں میں اُڑنے کا دل چاہنے لگا ۔
جنوری کی بات ہے ، تین ماہ بعد کی تاریخ ملی ۔ رسید ملتے ہی خواب بننا شروع ہو گئے ۔
محمد شاہد ، کا پاسپورٹ بن چکا تھا ، میرا انٹری فیلو تھا ۔ لائلپور کا رہنے والا ، یہ مشورہ اُسی نے دیا تھا کہ میں پاسپورٹ بنواؤں اور دونوں سعودی عرب جاتے ہیں وہاں اچھی تنخواہ پر ملازمت مل جائے گی ، میں نے اُسے " جرمنی" کا بتایا جہاں کوئیٹہ کے پہت سے پاکستانی ہیں ، جن میں تین تو میرے کلاس فیلو ہیں جو 1970 ، میں گئے ہیں اور اچھی جاب کر رہے ہیں ، بلکہ دو نے وہاں جرمنی سیکھی اور اب وہاں کی یونیورسٹی میں مُفت پڑھ رہے ہیں ۔
شاہد کا پاسپورٹ ، فروری میں مل گیا ۔ تو اُس نے تمام تٖفصیلات سے بھی آگاہ کرنا ضروری سمجھا ۔
اپریل میں مجھے پاسپورٹ مل گیا ، میری خوشی کا عالم کیا بتاؤں گویا ہفت اقلیم کا خزانہ میرے ہاتھ آگیا ۔ اپریل 1973 کا پہلا ہفتہ تھا ۔ کراچی سے میرپور خاص کے لئے روانہ ہوا ، رات 11 بجے مہران سے گھر پہنچا ، امی ابا اور بہن بھائی سو رہے تھے ، دروازہ کھٹکھٹانے پر امّی اُٹھیں دروازہ کھولا ، ابّا بھی اُٹھ گئے ، آہستہ آہستہ باقی بہن بھائی بھی جاگ گئے ، امّی نے کھانا نکال کر دیا ،
چھوٹے بھائی نے پوچھا ،" پاسپورٹ مل گیا ؟"
میں نے اُس کی طرف گھور کر دیکھا ،
" ھاں " آہستہ سے جواب دیا
" امی نعیم ، ملک سے باہر جا رہا ہے " اُس نے بھانڈا پھوڑا ،
جب کہ میرے اور اُس کے درمیان طے پایا تھا کہ ، کہ وہ یہ کسی کو بھی نہیں بتائے گا کہ میں باہر جانے کے لئے پاسپورٹ بنوا رہا ہوں ۔
" کیوں ؟" امی نے پوچھا " یہاں نوکری اچھی نہیں "
" امی ، وہاں زیادہ تنخواہ ملتی ہے " میں نے جواب دیا " لقمان کا بڑا بھائی مسقط میں ہے اور خوب پیسے بھجواتا ہے "
لقمان ، میرا دوست تھا جو ہمارے گھر سے چوتھی گلی میں رہتا تھا ۔ امّی اُن کو جانتی تھیں ۔ 1979 میں اُنہیں میرا سالا بننے کا شرف حاصل ہوا ۔ یعنی بڑھیا کے بڑے بھائی ہیں ۔
" نہیں بیٹا پاکستان میں ہی نوکری کرنا اچھا ہے ، ہمارے سامنے تو ہو دو تین مہینے بعد ملاقات ہو جاتی ہے ، بس ہمارے لئے یہی کافی ہے ، اللہ رزق یہاں بھی بڑھا دے گا " امّی نے جواب دیا
امّی یہ کہہ کر جاکر سو گئی ، اور مجھے پریشانی میں مبتلاء کر گئیں ، سب مائیں اپنے بچوں کوملک سے  باہر بھجوانا چاہتی ہیں اور ایک میری ماں ہے وہ میرے ملک سے باہر جانے پر خوش نہیں ۔
امّی، اباّ  اور دونوں بہنیں اور دونوں چھوٹے بھائی سانمے والے صحن میں سوتے تھے ، چھوٹا بھائی پچھلے صحن میں سوتا تھا ، میں بھی پچھلے صحن میں چلا گیا جہاں اُس نے چارپائی بچھا کر بستر لگا دیا تھا ۔
" نعیم ، اب کیا ہوگا ؟" اُس نے چارپائی پر لیٹے ہوئے مجھ سے پوچھا ۔" امی تو راضی نہیں "
" دیکھتے ہیں ۔ بعد میں شائد مان جائیں " میں بولا " ابھی تو باہر نہیں جارہا ہوں "
ہم  دونوں اپنے قصے سناتے سناتے سو گئے ،
دوسرے دن اتوار تھا ، میرا پروگرام ، سوموار کی صبح مہران سے کراچی جانے کا ارادہ تھا ، سوموار کو 2 بجے کے بعد کی ڈیوٹی تھی ، مہران ٹرین 11 بجے دوپہر کراچی پہنچ جاتی اور وہاں سے ماڑی پور کا ایک گھنٹہ لگتا تھا ۔
دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے 12 بجے دوستون سے مل کر گھر آیا ، سب نے بیٹھ کر کھانا کھایا ،
" نمّو ، تم نے پاسپورٹ نہیں دکھایا ، کیسا ہوتا ہے ؟ " امّی نے پوچھا ۔

" ابھی دکھاتا ہوں " کہہ کر اُٹھا ، دل میں سوچا شائد امّی راضی ہوجائیں ، خوشی خوشی کمرے میں گیا اور بیگ سے پاسپورٹ نکال کر لایا اور بیٹھتے ہوئے امّی کے ہاتھ میں دیا ، لیکن اُن کے ہاتھ سے چھوٹی بہن نے اُچک لیا ۔
پانچوں پاسپورٹ کو دیکھ رہے تھے ،
"بھائی ، تصویر اچھی ہے ، کب بنوائی " سعیدہ نے پوچھا ،
" جنوری میں پاسپورٹ کے لئے بنوائی تھی " میں نے جواب دیا ۔
" بھائی اب یہ لے کر ملک کے باہر جا سکتے ہو ؟" بہن نے دوبارہ پوچھا ۔
" نہیں اِس پر ویزہ لگے گا اور پھر نعیم باہر جائے گا " مجھ سے چھوٹا بھائی بولا ۔
" ارے ، مجھے بھی تو دکھاؤ " امّی بولیں ،
تو چھوٹی بہن نے پاسپورٹ امؔی کے ہاتھ میں دے دیا ، امّی نے تصویر دیکھی تعریف کی ۔
" نمّو یہ بتا کہ صرف اِس کو دکھا کر ملک سے باہر جاتے ہیں " امّی نے پوچھا
  " جی امّی " میں نے جواب دیا !
اور اگر یہ گم ہوجائے ، یا کوئی بیگ چوری کر لے " امّی نی پوچھا
" امّی ۔ پولیس میں رپورٹ کروانی پڑے گی اور شائد پاسپورٹ جلدی نہ ملے " میں نے جواب دیا ۔
" بھائی میرا پاسپورٹ کب بنے گا ؟" چھوٹے بھائی نے پوچھا ۔
" تم میٹرک تو کر لو اُس کے بعد ایپلائی کرنا مل جائے گا" میں  اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔
ابھی میں نے جملہ ختم ہی کیا تھا ، کہ کاغذ پھٹنے کی آواز آئی ،
امّی نے برے آرام سے میرا پاسپورٹ پھاڑا ، میں دم بخود ، امّی نے پھٹا ہوا پاسپورٹ میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا ،
" اگر پاکستان سے باہر گئے تو دودھ نہیں بخشوں گی "
میری آنکھوں میں آنسو آگئے ، میں نے سحردہ شخص کی طرح پاسپورٹ پکڑا ، مشینی انداز میں کھڑا ہوا ، کمرے میں گیا پھٹے ہوئے پاسپورٹ کو ہاتھ میں لئے بیگ اُٹھا کر پچھلے دروازے سے باہر نکل گیا ۔
پیدل چلتا ہوا ، گھر سے ڈیڑھ کلو میٹر دور ایک ریلوے سٹیشن پر پہنچ گیا ، ٹرین نے شام پانچ بجے جانا تھا ، شیڈ کے نیچے بنچ پر لیٹ گیا تھوڑی دیر بعد سلیم آزاد اور چھوٹا بھائی پہنچ گئے ۔
" بھائی گھر چلو "وہ بولا
" اب گھر کبھی نہیں جاؤں گا " میں نے غصے میں کہا
کراچی آکر کوئیٹہ جانے والے گروپ کے لئے والنٹئیر ہوگیا اور 17 سکواڈرن کے ساتھ کوئیٹہ آگیا ، جہاں بلوچ باغیوں کو سبق سکھایا جارہا تھا ۔
پھر اکتوبر میں مجبوراً چھوٹی عید پر گھر آنا پڑا ، کیوں کہ غصہ اتر گیا تھا ، امّی ۔ ابا اور بھائی بہنوں کی یاد آتی تھی ۔



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔