میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 2 جنوری، 2016

ابھی تک بوڑھا باہمت ہے !

 بوڑھے کی آنکھ   کوئی 12 بجے کھلی گھر میں سناٹا تھا  ، بڑھیا بھی پلنگ پر لیٹی  خراٹے لے رہی تھی ،  کمرہ ٹھنڈاتھا  ۔ 
بوڑھا  اُٹھا، ہیٹر جلایا ،  واش روم گیا پانی پیا اور آکر دوبارہ میٹریس پر  آ کر بیٹھ گیا  اور لیپ ٹاپ لگا کر ، جاگتی دنیا سے جڑ گیا ۔ حسبِ معمول بوڑھا تین بجے دوبارہ ہیٹر بجھا کر  سو گیا  ،  چھ بجے پھر کھڑ بڑ سن کر آنکھ کھلی ، بڑھیا  ہیٹر جلا رہی تھی ۔
" السلام و علیکم ، آپ اُٹھ گئے " بڑھیا نے پوچھا
" جی  ،
سَلاَمٌ عَلَيْكُم  ،"  کیسی طبیعت ہے " بوڑھے نے پوچھا
" میرا چھوڑیں ، آپ اپنی سنائیں ،  کیسی طبیعت ہے ، کھانا کھا کر ایسا سوئے ، کہ کیا بتاؤں ؟   عالی اور انابیہ کا شور بھی آپ کو نہیں اُٹھا سکا  ، جسم میں دوڑنے سے درد تو نہیں ہو رہا  "۔  بڑھیا نے  سوال کیا
اب بوڑھا کیا بتاتا ، کہ بوڑھے نے اپنے دماغ کو تاکید کی تھی ، کہ  جب  تھکن دور نہ ہو آنکھ نہ کھلے ۔  تھکن دور ہوئی آنکھ کھل گئی ۔
" اب بہتر ہے ، تھکن ختم "  بوڑھے نے جواب دیا
" بس پیرا ختم گھر پر رہیں ،  اگر پیرا شوٹ نہ کھلا تو ؟ " بڑھیا نے  تشویش زدہ لہجے میں پوچھا ۔
" ہیں ، بیٹی کی فکر نہیں ؟   " بوڑھے نے حیرت سے پوچھا ۔
" اُس کی بھی ہے ،  اُسے فوج نے بھیجا ہے ، پھر اُس کا شوق بھی ہے "  بڑھیا نے صفائی پیش کی ۔
"شوق تو   مجھے بھی ہے ، بیوی !   اور شوق کی عمر نہیں ہوتی ،  کچھ نہیں ہوگا  " بوڑھے نے ہنس کر کہا
" میں کہہ رہی ہوں ، کہ بڑھاپے میں ہڈیا ں تڑوانے کا  زیادہ شوق ہے ، خدمت تو مجھے ہی کرنا پڑے گی نا ،
اور اگر پیرا شوٹ نہ کھلا تو ؟   یاد ہے  نا، ایک بریگیڈ صاحب کا پیر شوٹ بھی نہیں کھلا تھا  !" بڑھیا  نے دوبارہ ہمدردانہ پیشکش کی ۔
" نہیں کُھلا تو کیا ،  لوگ چمچوں سے اٹھا کر لا کر دیں گے ، کہ  یہ  ہیں تمھارے شوہر نامدار  بلکہ ناہنجار کی باقیات "   بوڑحے نے مزاح کیا ،
" ویسے تم تو کہتی ہو یاداشت ختم ہو گئی ، یہ بریگیڈئیر ٹی ایم  کیسے یاد آگئے ؟ وہ جانباز شخص تھا  اور ہم جان بچاؤ ،   ہیں  "  
" بات  ، جان بچانے کی نہیں ، ہڈیاں بچانے کی ہے  " بڑھیا بوڑھے کے مستقبل سے پریشان تھی ۔
" بیوی بات یہ ہے ، کہ پیرا شوٹ   کھلے  یا نہیں کھلے  ، دونوں صورتوں میں  بستر پر زندگی نہیں گذرتی " بوڑھے نے سمجھایا

" پپا ، کیوں ماما کو ڈرا رہے ہیں ؟ " عروضہ نے    کمرے میں داخل ہوتے ہوئے  بوڑھے کو جھاڑا اور  بڑھیا کو دلاسہ دیا  ۔
"ماما کچھ نہیں ہوگا ، اگر خطرہ ہوتا تو پپا مجھے اِس کورس پر آنے دیتے  ؟ " 
 " آپ کی طبیعت کیسی ہے  پپا ؟   آپ آج جائیں گے ! " عروضہ نے بوڑھے باپ سے پوچھا
" بالکل جاؤں گا  " بوڑھے نے  پُر عزم لہجے میں کہا
" آپ کی جسم اور پیروں میں درد نہیں ہو رہا ؟ " بیٹی نے پوچھا
" نہیں ، بالکل نہیں  " بوڑھے نے آدھا جھوٹ بولتے ہوئے کہا
" لیکن آپ کے تلوے تو خراب ہیں نا " بڑھیا نے پوچھا
" نہیں ، اگر خراب ہوتے تو میں چل سکتا تھا !" بوڑھے نے جواب دیا
" آپ کی مرضی ، اِس پاگل انسان کو میں کیا سمجھاؤں ، جو  بچوں سے مقابلہ کرنا چاھتا ہے "  بڑھیا  مایوس ہو کر بولی
" ارے بیوی کسی سے مقابلہ نہیں ،   یہ تو میں ریکارڈ قائم کرنے جا رہا ہوں " بوڑھے  نے جواب دیا
" کیسا ریکارڈ  ؟  پھر کہتے ہیں ، میں مقابلہ نہیں کرتا  ؟ " بڑھیا  نے پکڑا 
" پہلا ریکارڈ، تو یہ کہ ، فوجی بیٹی اور ریٹائرڈ باپ ، ایک ساتھ پیرا گلائیڈنگ کر رہے ہیں ۔
دوسرا ریکارڈ ،  کہ 63 سال کا بوڑھا   یہ کورس کر رہا ہے ، اور  ہاں 
تیسرا ریکارڈ ، بھی بن رہا ہے ، کہ 54 لانگ کورس کے جوانوں میں  یہ پہلا جوان بوڑھا ہوگا ۔ اور عرصے تک محفلوں میں ذکر ہوگا  "   
بوڑھے نے  خوشی سے سرشار ہوتے ہوئے بڑھیا کو آگا ہ کیا  

" اگر خدا نخواستہ ، کوئی حادثہ ہوا  تو کئی ریکارڈ بنیں گے ،    میرا کیا ہوگا  ؟  "   
بڑھیا نے دل کی اصل بات زبان پر لاتے ہوئے کہا ،
"عروضہ تم کچھ نہیں کر سکتیں  ، اپنے باپ  کو رُکوا دو ؟
" ماما ، میں نے میجر اعجاز کو کہا تھا ، کہ پپا کو سلیکٹ نہ کریں ، جب پپا ، گروانڈ کا چکر ختم کرنے والے تھے ، تو اُنہوں نے کہا کہ میڈم میں کیا کرسکتا ہوں ؟  میجر صاحب تو فٹ ہیں ،  ابھی باقی ٹیسٹ ہیں دیکھتے ہیں اُن میں کوالیفائی کرتے ہیں یا نہیں ؟ "
  بوڑھے کی بیٹی نے  راز فاش کیا
" آہ ، بروٹس تم بھی " بوڑھا  ایک جھٹکا کھانے کے بعد بو لا
 " عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والی نچلے طبقے کی کپتان ، دکھ یہ نہیں  کہ تو نے اپنی ماں کا ساتھ دیا ، بلکہ افسوس اِس بات پر ہے ، کہ شاہین بچہ ، کرگسوں کی صحبت میں زاغ بن گیا اور سفارش جیسے قبیح فعل کا ارتکاب کرنے کی کوشش کی  ، افسوس صد افسو س "
" پپا سب چلتا ہے ،  گھی نکالنے کے لئے اُنگلیاں ٹیڑھی کرنا پڑتی ہیں ، ماما بیمار ہیں  آپ انہیں مزید پریشان کر رہے ہیں ، اللہ کرے آپ سلیکٹ نہ ہوں"
 بیٹی نے  بات اللہ پر ڈالتے ہوئے کہا ،
" واہ کیا بات  کی چھوٹی،  تم نے اللہ پر چھوڑ کر ، بس اب بحث ختم " بوڑھے نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا
" ماما جانے دیں ،  آج کے ٹیسٹ دوڑنے سے زیادہ سخت ہیں   ، خود ہی رہ جائیں گے " ۔ بیٹی نے بڑھیا کو دلاسا دیا
" اوٌا ! مجھے اکیلا چھوڑ کر کیوں آئیں ؟ مجھے ڈر لگ رہا تھا "   
چم چم آنکھیں ملتی ہوئی کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی اور بوڑھے کی گود میں آکر بیٹھ گئی ۔
" اور سوری جان ، میں اِن کی آوازیں سُن کر آئی ہوں "  عروضہ بولی
" آوا ! آپ صبح صبح ،  نانو سے لڑ رہے تھے  ؟ " چم چم نے پوچھا ۔
" اوہ ، نو مائی سوئیٹ ہارٹ ، ہم ایک معاملے پر ڈسکس کر رہے تھے " 
بوڑھا چم چم کو پچکارتے ہوئے بو لا
" کیا  َ ؟ " چم چم نے پوچھا ۔
" آپ کو معلوم ہے ، کہ عروضہ یہاں کیوں آئی ہے  ؟ "  بوڑھے نے پوچھا
" پیرا گلائیڈنگ کے لئے  ! " چم چم نے جواب دیا ۔
" اچھا یہ بتاؤ پیرا گلائیڈنگ کیا خطرناک ہوتی ہے ؟ " بوڑھے نے پوچھا
" نو نو ، یہ تو بہت امیزنگ   ہے ، میں بھی کروں گی "  چم چم بولی  
" تو سوئیٹ ہارٹ ، اپنی بوڑھی نانو کو بتائے ، کہ وہ  پریشان نہ ہو اور  مجھے  پیرا گلائیڈنگ کرنے دے "  بوڑھا بولا
" نانو ،  یہ خطرناک نہیں ہوتی ، بہت مزہ آتا ہے ،    آوا ، کو کرنے دو ! "  چم چم بولی 
" اچھا یہ بتاؤ ،  اگر میں نے پیرا گلائیڈنگ کی تو ، آپ کو مجھ پر فخر ہو گا  "
  بوڑھے نے چم چم سے پوچھا
" اوہ یس آوا ، مجھے آپ    پر فخر ہو گا  ! " چم چم نے یقین دلایا

" مجھے ، نہیں ہوگا  " بوڑھے کی فوجی بیٹی بولی ، "  سات بجے گھر سے نکلیں گے  ، تیار ہوجانا "
" یس سر ! " بوڑھا بولا ، " لیکن نو سفارش "

22 دسمبر 2015 کی صبح ، سات  بج  کر پندرہ منٹ پر  بوڑھا اور بیٹی دونوں ، ٹریک پر پہنچے ،   فوجی جوان  پریکٹس کر رہے تھے ،   دونوں انسٹرکٹر کھڑے تھے ،  بوڑھا اور بیٹی اُن کے نزدیک پہنچے ، دونوں نے سلام کیا ، بوڑھے نے جواب دیا
" سر ! آپ تیار ہیں "  میجر اعجاز نے پوچھا
" یس سر !    " بوڑھا بولا
" آج آپ کے باقی ٹیسٹ ہوں گے ، کوالیفائی کریں گے ، تو ہم آگے جائیں گے "  میجر اعجاز نے بتایا
" اچھا یہ بتائیں سر ، کہ آپ کے مَسل مضبوط ہیں " 
" بالکل سو فیصد" بوڑھا بولا
" کتنی پُش اَپ نکال سکتے ہیں ؟  " میجر اعجاز نے پوچھا
" میرا خیال ہے ، کہ ایک  لڑکی سے زیادہ نکال سکتا ہوں "  اور بوڑھے نے  اُسی وقت دس پُش اَپ نکال کر دکھائیں ۔
" میڈم ، آپ کے والد  ، نہ صرف پیرا گلائیڈنگ کریں گے بلکہ خالد ٹاپ سے بھی ائر بورن ہوں گے "  میجر اعجاز بولا

فزیکل وارم اَپ کے بعد ، بوڑھے کو پیرا شوٹ پہننے کی پریکٹس کروائی گئی اور اُس کی مختلف ڈوریوں کے فنکشن بتلائے گئے ،  پھر  پہنا کر ، پریکٹس کروائی گئی ،   دوسری اور تیسری پریکٹس میں بوڑھا  کوالی فائی ہو گیا  اور اُسے ریمپ کی طرف بھیج دیا گیا ۔

ریمپ پر جاکر  بوڑھے نے    دیکھا ، کہ جن جوانوں نے   ریمپ کوالی فائی کر لیا وہ پیرا شوٹ کے ساتھ دوڑ رہے تھے ، اور بغیر پیرا شوٹ والے بھی   تربیت لے رہے تھے بوڑھا بھی اُن میں شامل ہوگیا ۔

پہلی دفعہ ، بوڑھا احتیاط سے دوڑا     اور اپنے مومینٹم اور ولاسٹی دونوں کا خیال رکھا ،  دوسری بار بھی ایسا ہی ہوا ۔
لیکن جب بوڑھا 10 بجے تیسری ریمپ پریکٹس  کرنے  لگا  تو عین منزل سے دس قدم پہلے  بوڑھے نے اُڑان بھری  مگر وزن اور عمر  کی رفتار ، نے اُڑنے نہ دیا . پھر وہی ہوا جو ہونا تھا ۔

بیٹی دوڑی آئی  اور چنگھاڑی ، " پپا ، بس  اب میں آپ کو اجازت نہیں دوں گی "
" ارے کچھ نہیں ہوا ، صرف ہاتھ چھلے ہیں  ، چلو  ایمبولینس کے پاس چلتے ہیں " بوڑھے نےدلاسہ دیا

لیکن نوجوانو ! بوڑھا ہے باہمت , مرہم پٹی کرا کر دوبارہ دوڑا اور خود کو کوالیفائی کروایا.
 
چونکہ  گیارہ بجنے والے تھے ،  بوڑھے ،بیٹی  اور خواتین نے  ٹی بریک کے بعد ، پیرا شوٹ پہن کر ریمپ پریکٹس کرنا تھی ۔ بوڑھے نے بیٹی کو گھر چلنے کا کہا ، دونوں گھر پہنچے ۔ لیکن گھر میں داخل ہونے سے پہلے بوڑھے نے ٹریک سوٹ کو اچھی طرح رومال سے صاف کر لیا تھا ۔ 
" ماما ، کو کچھ نہ بتانا " بوڑھے نے بیٹی کو گھرکی دی ۔
" آپ واپس جائیں گے ؟ "  بیٹی نے پوچھا
" کیوں نہیں ، بلکہ تمھاری ماما ، چم چم ، برفی اور برفی کی ماما کو بھی لے کر جانے کا پروگرام ہے " بوڑھا بولا
" نہ کریں پپا ، آپ کو کچھ ہوا تو ماما کا ہارٹ فیل ہو جائے گا " بیٹی  گھبرا کر بولی
بوڑھا اور بیٹی گھر میں داخل ہوئے ، بوڑھے کو سلامت دیکھ کر بڑھیا خوش ہوئی ، بولی ،
" آپ ڈس کوالی فائی ہوگئے  ! " 
" نہیں ،  ہم  چائے پینے اور آپ سب کو لینے آئے  ہیں ، تیار ہوجائیں "  بوڑھا بولا

بہو نے جانے سے انکار کر دیا ، کہ طبیعت ٹھیک نہیں  اور کھانا بھی بنانا ہے ، چنانچہ ،  تین شائقین کو لے کر ہم  واپس ٹریننگ ایریا میں پہنچے ۔ اور وہاں پڑی ہوئی کرسیوں پر بٹھا دیا ۔ 
 بڑھیا نے  سٹوڈنٹس کو پیرا شوٹ پہن کر دوڑتے ہوئے دیکھا ، پوچھا ،
" یہ جہاز یا ہیلی کاپٹر سے چھلانگ نہیں لگائیں گے ؟"
" نہیں آنٹی  ، ابھی تو ٹریننگ ہے ، پہاڑی سے ایسا ہی دوڑ کر اُتریں گے " ایک کپتان بولی ، " ویسے انکل کہ ہمت کی داد دیتی ہوں ، میرے پاپا  تو یہ کبھی نہ کر سکیں "
بڑھیا کی ہمت  بڑھی اور جان میں جان آئی ،
چم چم تو بہت ہائیپر ہوگئی ، " میں نے بھی کرنا ہے ، آوا ، میں نے بھی کرنا ہے "

برفی،  کو تو لڑکیوں نے اُچک لیا اُس کے ساتھ سیلفی بنوانے لگیں ،
بوڑھا اور بیٹی ریمپ پریکٹس کے لئے ، لائین میں شامل ہو گئے ،  بوڑھے  نے  پیرا شوٹ پہنا ، تو بڑھیا نے اپنے شوہر نامدار ،کی مووی بنانے کے لئے اپنا  فون ایک  لڑکی کو دیا ۔
 ( کیپٹن عروضہ)
  بیٹی کی بھی مووی بنوائی ۔
 ( باپ اور بیٹی دونوں  )
یوں بوڑھا ، آخری ٹیسٹ  دے کر کوالی فائی کرنے کے بعد  ، بڑھیا کے پاس آیا ۔
"آج تو نہ آپ کے پیر پھٹے اور نہ گھٹنوں میں درد ہوا ؟ میاں جی یہ کیا چکر ہے ؟  جوانوں میں رہ کر آپ بھی قلانچیں بھر رہے ہیں ؟  بڑھیا خوش دلی سے بولی
" دیکھ لو صحبت ِ جوانا ن ، اثر کردم ، وگرنہ من ہمہ بوڑھم و پیرم " بوڑھے نے شیخ سعدی کو  تڑپایا
" بس زیادہ اثر نہ لینا  ،  اچھا بس اب ختم ، یہی تھا اُڑنا  " بڑھیا نے پوچھا ۔
اِس سے پہلے ، کہ بوڑھا کوئی جواب دیتا ۔ ایک جذباتی کپتان بولی ،
" نہیں آنٹی کل ہم ، خان پور ڈیم جائیں  گے اور وہاں پہاڑی سے چھلانگ لگائیں گے "
" کتنی اونچی پہاڑی ہو گی  ؟ " بڑھیا نے پوچھا
اِس سے پہلے کہ بوڑھا کوئی جواب دیتا ۔  
 وہ کم علم    کپتان گویا ہوئی ،" آنٹی وہ سامنے جو پہاڑی ہے اتنی اونچی "
" کیا ؟ بڑھیا کے چہرے ، پر ایک رنگ آ کر گذر گیا
" یہ تو بہت اونچی اور خطرناک ہے  ، یہاں سے چھلانگ لگائیں گے ؟ "
" ارے نہیں بھی ، وہ  ساٹھ فٹ اونچی ہیں اور ہموار ہیں ، ایسی نہیں ، ہاں سنا ہے کہ تیسری جمپ یہاں سے اُن کی ہوگی، جو  بہترین رزلٹ دیں گے " بوڑھا بولا۔
 آنٹی یہ دیکھیں ، اور اُس نے بڑھیا کو ، پچھلے کورس کی پیرا گلائیڈن کی موبائل پر وڈیو دکھا ئی ، تب بڑھیا کو یقین آیا کہ گو کہ بوڑھا جوان نہیں ، مگر یہ چھلانگ لگا سکتا ہے ۔  

بوڑھے ، نے میجر اعجاز سے اجازت لی اور بیٹی نے  ہم چاروں کو گھر چھوڑا اور واپس  ٹریننگ ایریا میں چلی گئی ۔ ڈیڑھ بجے واپس  آکر بتایا ، کہ شام کی ٹریننگ نہیں ہوگی پیرا گلائیڈنگ کے لئے  صبح   چھ بجے خان پور ڈیم کے لئے روانہ ہوں گے ۔ بوڑھے نے سی ایس ڈی میں اپنے کوائف لکھا کر مبلغ گیارہ سو روپے کی فوجی  کیمو فلاج پینٹ خریدی ۔
رات کو بیٹا بھی ایکسر سائیز کر کے واپس آگیا ۔   اُس کے فوجی بوٹ لئے ، اپنے میڈیسن بیگ سے ، اینکلڈ ، نی کیپ ، ایلبو کیپس نکالیں ، تاکہ اگر گھٹنوں اور کہنیوں کے بل جھکنا پڑے تو  زیادہ نقصان نہ ہو ۔  اُسے معلوم ہوا کہ بوڑھا باپ ، سلیکشن کے تمام مراحل سے گذر چکا ہے ، تو وہ بھی تشویش زدہ خوش ہوا ۔
" آپ کے پیر ٹھیک ہیں ؟ " اُس نے پوچھا
" جی بالکل ٹھیک ہیں ، نوجوان " بوڑھے نے    سمارٹلی جواب دیا  ۔
بوڑھے  کو ستمبر 2010 میں گھریلو بجلی سے ایک حادثہ پیش آیا تھا اور بوڑھے نے اپنے 57 ویں سالگرہ   سی ایم ایچ راولپنڈی میں منائی تھی ، چم چم  اُس وقت 6 ماہ کی تھی ، بوڑھا صحت یاب ہو گیا ، لیکن بوڑھے  کے   پاؤں کے دونوں تلوں کے ٹشو   کئی جگہ سے  بے کار ہوگئے ۔



 ڈاکٹر Psoriasis بتاتے ہیں ، لیکن یہ موروثی نہیں دادا ، دادی ، ابا اور امی سے کسی کو بھی نہیں تھی ۔  لہذا بوڑھا اپنے  تلوں میں نمی پیدا کرنے کے لئے ربڑ کے بوٹ ، میں پانی ڈال کر پہنتا ہے اور دوائیاں لگاتا ہے ، اور جب کاہلی کرے تو جرابوں میں خون کے دھبے نمودار ہو جاتے ہیں ۔  گو کہ ٹریک پر دوڑنے سے بوڑھے کے زخم پھر تازہ ہوگئے تھے ، لیکن بوڑھے نے بڑھیا کو ہوا نہ لگنے دی ،  پہلی جراب کو  نیچے  سے وہ پانی سے نم کرتا  اُس کے اوپر دوسری جراب پہنتا  اور گراونڈ میں اپنی قوتِ ارادی سمیت پہنچ جاتا ۔


٭٭٭٭  فوجی بوڑھا نہیں ہوتا   ٭٭٭٭٭



٭    برفی اور چم چم کا گھوڑا کاٹھ کا نہیں فوجی گھوڑا



  ٭     جوان ،  بوڑھا اور پیرا گلائیڈنگ  


٭   ابھی تک بوڑھا باہمت ہے !

 ٭    پرائیڈ فیملی پیرا گلائیڈنگ کلب

 جاری ہے ۔


٭٭٭٭٭رنگروٹ سے آفسر تک ٭٭٭٭٭٭ 


 فوجیات


     سِول یانات 


جاری ہے

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔