میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 29 جنوری، 2016

ملٹری ایمپائر میڈیا کی طوائفوں کے لئے ویمپائر !

آہ ، دختر نیک اختر ۔انسانی معلومات کےفقدان سے ہی ، "میڈیا کے زنخے اور قلمی طوائفیں"  فائدہ اٹھاتی ہیں اور سوچنے والے تخیلاتی ذہن کو گمراہ کرتی ہیں !

یہ وہ چال ہے جس کو، چلنے سے پہلے اللہ نے ابلیس کو آگاہ کیا ۔ جس کو آج کل ، " میڈیا کے زنخے اور قلمی طوئفیں " انسانی فراست پر پردے ڈالنے کے لئے استعمال کر رہی ہیں،
یہ کام تو فوج اُس وقت سے کر رہی ہے جب میں نے فوج میں کمیشن لیا ، اِس کا نام " چائلڈ ویلفیئر سنٹر ( سی ڈبیلو سی )" ہے ۔

1- اِس میں کینٹونمنٹ میں رہینے والی ، عورتوں کو گھر داری کے طریقے ، مثلاً سلائی، کشیدہ کاری ، ڈیزائینگ اور کمپیوٹر ٹرینگ سکھائی جاتی ہے ۔

2- فوجی فاونڈیشن نے اِن مقاصد کو مزید پھیلایا ہے جہاں ، تمام ریٹائر فوجیوں، اُن کے بچوں کو ٹینیکل تعلیم اور سپیشل بچوں کو " ری ہیبیلیتیٹ " کیا جاتا ہے ۔ فوجی فاونڈیشن سکول ، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر لیول تک کھل گئے ہیں ، جہاں ریٹائر فوجی رہتے ہیں ۔ ان سکولوں میں سویلئین بچے بھی پڑھتے ہیں ۔

3- ایف جی سکول ، پہلے کینٹ پبلک سکول ہوتے تھے ، جن میں آفیسرز کے بچے اور خانوں و سرداروں و وڈیروں  کے بچے پڑھتے تھے، اور ایف جی اردو میڈیم میں جوانوں اور جے سی اوز کے بچے پڑھتے تھے ، اب اِن سکولوں میں کینٹ پبلک سکولوں کو انگلش میڈیم میں تبدیل کر کے پورے ملک کے کینٹونمنٹ میں پھیلا دیا ہے ۔

4- آرمی پبلک سکول ، کے متعلق بتانے کی ضرورت نہیں ، یہاں آرمی حاضر اور ریٹائرڈ افراد کے بچے اور پوتے پوتیاں پڑھتے ہیں ۔ سویلئین حضرات کے بچے بھی پڑھتے ہیں ۔

5- آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی ، بھی فوج کا فوجیوں اور سویلئین کے بچوں کے لئے ، ایک عرصہ سے کام کرنے والا اداراہ ہے ۔

6- نیشنل یونیوررسٹی سائینس اینڈ ٹیکنالوجی ، فوج کا راولپنڈی میں ، نیچنل ڈیفینس کالج کے اسلام آباد میں شفٹ ہونے کے بعد اس کی بلڈنگ میں قائم ہوا ، اور اب فوج کے ادھار سے بننے والا یہ ادارہ ، مکمل اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور سویلئین کے بچوں کو تربیت دے رہا ہے ، یہاں ہونہار اور پڑھنے والے ، سپیشل بچوں کے لئے کوٹہ ہے ۔

7- پہلے فوج میں میڈیکل کیٹیگری سی اور بئی ہونے والے ، میجر ریٹائر ہو جاتے تھے ، لیکن اب فوج میں وہیل چئیر پر ، فوج کی وجہ سے بیٹھنے والے ، کرنل اور بریگیڈئر ہیں اور فوج کے ایڈمنسٹریشن کے نطام کو بہ احس خوبی انجام دے رہے ہیں ۔

اوپر دیئے گئے تمام کو بنانے کے لئے گورنمنٹ آف پاکستان نے کوئی بجٹ نہیں دیا ، فوج نے خود اپنے ویلفیئر پراجیکٹس سے پیسا بنایا اور اِس میں لگایا ہے ، جو مکمل فوجی طریق کار کے مطابق آڈٹ آتا ہے ، اِن سکولوں سے پڑھ کر نکلنے والے بچے ، ذھنی طور پر نہایت با صلاحیت ہوتے ہیں ۔

انگریزوں نے فوجی جوانوں کے بچوں کے لئے ایک پبلک سکول جو سرائے عالمگیر (جہلم) میں تھا ، اُسے ملٹری کالج میں تبدیل کیا ، جو آج کل ملٹری کالج ، جہلم کے نام سے مشہور ہے ۔ جس میں فوج کے جے سی اوز اور جوانوں کے امتحان پاس کرنے والے بچوں کے لئے شروع کیا ، جن کا کوٹہ 80 فیصد اور دیگر ( آفیسر اور چوہدریوں، خانوں اور وڈیروں ) کے بچوں کے لئے تھا ۔ آفیسرز اپنے بچے یہاں پڑھانا ہتک سمجھتے تھے ، لہذا ، کم اہم مالداروں (فیس اور بچوں کی جدائی افورڈ کرنے والوں کے ) بچوں نے داخل ہو کر فوج میں سیکنڈ لفٹین بننا شروع کیا ۔ تو آرمی آفیسروں کو ہوش آیا ۔ لیکن اب بھی 100 بچوں میں سے 10 آرمی آفیسر کے بچے ہوتے ہیں ، 10 سویلئین کے اور 80 جوانوں کے ۔ جنرل کیانی جوانوں کے بیٹوں میں سے ہے ، اگر یہ ملٹری کالج نہ ہوتا تو جنرل کیانی اور دیگر جے سی اوز ، این سی اواز اور او آرز کے جرنل و بریگیڈئرز ، کرنل اور میجر بیٹوں کا کیا مستقبل ہوتا ، اس کی وضاحت ضروری نہیں ، کیوں کہ بہترین تربیت و تعلیم انسان کو انسانوں میں ممتاز کرتی ہے ۔ اِس وقت ملک میں ملٹری اور کیڈٹ کالج کی شاخیں آرمی کھول رہی ہے ۔

فوج کی تمام زمینں جو انگریزوں نے فتح کیں اور فوج کے استعمال کے لئے رکھیں ، کینٹونمنٹ کے بزدیک ، کسی بھی سویلئین کو رہنے کی اجازت نہ تھی ، پھر فوج ہی نے خالی زمینوں کو آباد کرنے کے لئے ، ریٹارڈ فوجیوں کو دینا شروع کیا جہاں ، اُسے وہ آباد کر سکتے تھے ، اِن فوجیوں نے وہاں اپنی زمینوں پر اپنے ملازمین کو گھر بنانے کی اجازت دی تاکہ وہ وہیں رہ کر زمینوں پر کام کر سکیں ۔وہاں دو تین یا چار گھروں سے دس بیس گھروں کی کالونی بننا شروع ہوگئی ۔ مالکِ زمین کے فوت ہونے کے بعد ، بیٹوں کو زمین میں کوئی دلچپسی نہیں تھی ، انہوں نے 10 مرلے کی جگہ 500 روپے میں اور کھیتوں کی جگہ زیادہ سے زیادہ 5000 روپے ایکڑ میں فروخت کر دی ، کینٹونمنٹ بورڈ کی اجازت کے بغیر سٹامپ پیپر پر، جہاں آبادی بڑھنا شروع ہوئی اور کینٹونمنٹ کے ارد گرد سویلئین آبادیوں کا ھجوم ہونا شروع ہوا ،
جب سیکیورٹی کا مسئلہ آیا تو فوج کی آنکھ کھلی تو پانی گردن تک آچکا تھا سٹامپ پیپروں کی مدد سے عدالتوں نے اُسے سر سے بھی اوپر کر دیا ، جیسا اب  اسلام آباد میں ندی نالوں میں گھس بیٹھیوں کی کچی آبادیوں اور مسجدوں سے ہو رہا ہے ۔

سب سے پہلے  ڈیفینس ھاوسنگ سوسائیٹی کراچی کی فوج کی اُن زمینوں پر بنیں، جہاں ریت ، پتھر اور سمندر کا پانی تھا، یہ 1975 کی بات ہے ، ایک 500 گزپلاٹ کی اونر شپ صرف پندرہ ہزار میں بکتی تھی اور پلاٹ کی قیمت غالباً 80 ہزار تھی اور قسطوں میں تھی ۔ بے شمار سیکنڈ لفٹینوں نے 15 ہزار میں اپنے پلاٹ کے حقوق بیچے اور موٹر سائیکلیں لیں ، میں کشمیر میں تھا اس لئے شائد بچ گیا ۔ پیسوں کی ضرورت نہ تھی ، 570 روپے تنخواہ میں بہترین گذارہ ہوتا تھا والدہ کو بھی بھجواتا تھا اور بہن کو ایم بی بی ایس کرنے کا خرچہ بھی دیتا تھا ، میرے میس کا خرچہ کل 150 روپے آتا تھا ۔
1973 میں، میں سیاچین میں تھا ،جہاں جانے سے پہلے جنوری 1993 میں ، لیفٹننٹ کرنل کے لئے ، میجر جنرل امجد شعیب نے ناجائز طور پر سپر سیڈ کر دیا ، اپنی یونٹ 57" میڈیم رجمنٹ" جس میں میرا بیٹا بھی ، اور اس کو میں نے  19 اکتوبر 1975 میں کشمیر ، ٹیٹوال سیکٹر کے پاس نیلم ویلی کے قصبے کے پاس دھنّی کینٹ میں جائن کیا تھا ، جس کا 31 جنوری کو پچاسواں سالگرہ کا دن ہے ۔ جس کو منانے کے صرف میں 31 جنوری 1966 کے ، یونٹ کو وجود میں لانے والے آفیسروں اور اُن کے بچوں کے بچوں کو اکٹھا کر رہا ہوں ۔ جو میری آج تک کی زندگی کا راولپنڈی ویٹرنز چیپٹر کا ایک میگا ایونٹ ہوگا اور یہ سب ہمارا مشترکہ خرچہ ہے ہر کھانے والا اپنا خرچہ خود دے گا ، یونٹ سے صرف شیلڈ بطور یادگار سے ویٹرنز کو دی جائے گی ۔ لیکن سویلئینز سمجھیں شاید فوج نے من و سلویٰ کا دروازہ ہم پر کھول دیا ہے ۔ ہمارے لئے یہ اُسی طرح خوشی کا موقع ہو گا جب میٹرک کے دو ساتھی عرصہ بعد ملتے ہیں اور کہتے ہیں :

" ابے پنڈت ، تو بڈھا ہو گیا ، ھا ھا ھا "
" تو مولوی چھرے اپنے کالے بالوں سے خضاب اتار کر دیکھ ، کسی بے چین روح کا مجسمی نظر آئے گا ۔ ھا ھا ھا "

ھاں تو میں بات کر رھا تھا سیاچین کی ، چھٹی جاتے وقت مجھے کمانڈنگ آفیسر نے بتایا ، کہ مورگاہ ٹو ، کے پلاٹ مل رہے ہیں ، ذرا وہاں جاکر دیکھنا کیسا علاقہ ہے ، پلاٹ لیا جائے ؟
میں اپنے بچپن کے دوست شوکت چوھان ، جس نے راولپنڈی ائر پورٹ کے پاس ، جنگل و بیابان میں گھر بنایا تھا ، وہ مجھے ائرپورٹ سے اپنے گھر لایا کل 20 تیس گھر نظر آرہے تھے ، ائرپورٹ سے اسلام آباد ھائی وے کی طرف جاتے ہوئے دائیں جانب ، اُس نے فخر سے بتایا وہ جو گھر دیکھ رہے ہو ، دائیں طرف لال ٹینکی والا وہ میرا گھر ہے ۔
جب میں نے اسے مورگاہ ٹو کا بتایا ، تو اٗس نے کہا ، " تم بھی بے وقوف ہو اور تمھارا سی او بھی ، بلکہ سارے فوجی بے وقوف ہوتے ہیں ، مورگاہ ون ، میں ٹوٹل کے دس گھر بنے ہیں اور فوج ، اپنے معصوم آفیسروں کا پیسہ مورگاہ ٹو میں پھنسا رہی ہے ۔ کراچی ڈیفنس ھاوسنگ سوسائٹی کو سنبھال نہیں سکی  ۔ وغیرہ وغیرہ "
یہ معصوم فوجی دوسرے دن ، مورگاہ ٹو دیکھنے گیا ۔ لیکن چپ رہا ، کیوں کہ ایک سویلئین چاھے دوست ہی سہی اپنے فوجی دماغوں کو برا بھلا نہیں کہہ سکتا تھا ۔ واپسی پر مورگا ون ایک پتلی تین کلومیٹر کی ٹوٹی پھوٹی سڑک پر گھومتے ہوئے دیکھا ، اور آفیسرں کے بنائے ہوئے مکمل اور نامکمل گھروں پر بھی دیکھا ، اور شوکت چوھان کو یہ لنغڑا عذر پیش کیا ۔
" یار شوکت بھائی ، بات یہ ہے کہ ہم فوجی ساری عمر سویلئین سے دور رکھے جاتے ہیں ، اورنہ سویلئین ہم کو اور نہ ہم سویلئین کے طریق کار کو برداشت کر سکتے ہیں ،
گویا
ہوئے اِس قدر مہذب کبھی آبادیوں کا منہ نہ دیکھا
کٹی عمر جنگلوں میں مرے ہسپتال جاکر ۔

آہ سویلئین تو ہمیں اپنے پڑوس میں نہیں برداشر کر سکتے ، اسی لئے فوج جنگلوں میں گھر بنا رہی ہے "
تو دختر نیک اختر ، اِس معصوم 40 سالہ میجر نے اپنے کمانڈنگ آفیسر کو بھی منع کر دیا اور خود تو پلاٹ لینے کی کوئی ایسی کوشش بھی نہیں کی ، نہ کراچی ڈیفنس میں اور نہ فوج کی کسی سکیم میں ، کیوں کہ فوج نے عسکری ھاوسنگ میں ایک گھر دینے کا وعدہ کر رکھا تھا ، کہ جس کی قسطیں ، یہ غریب فوجی ماہانہ دے رہا تھا ۔
12 1کتوبر 1999 کے بعد یکم دسبر 1999، میں ریٹائر ہو کر ، یہ غریب اسلام آباد میں آیا اور بحریہ فیز 8 میں دوپلاٹ ، ڈی ایچ اے فیز ون اور ٹو میں دیکھنے کے بعد لے لئے۔ پھر جون میں ایک ریٹائرڈ  سنیئر
فوجی دوست آیا اُس نے کہا اُسے بیٹیوں کی شادی کے لئے پیسوں کی سخت ضرورت ہے ، اُس کے پاس ڈی ایچ اے ٹو میں دو پلاٹ ہیں ایک فوج سے ملا تھا 4 لاکھ میں ، اُسی کے ساتھ دوسرا لیا ساڑھے 4 لاکھ میں اب مارکیٹ نہیں ، میں وہ دونوں 6 لاکھ میں بیچنا چاھتا ہوں کوئی خریدنے والا ہو تو بتائے ۔ میں نے پراپرٹی ڈیلروں سے معلوم کیا ایک کو پلاٹ خریدنے کا کہا ، اُس نے ساڑھے تین لاکھ کھڈے کے پلاٹ کے بتائے ۔ دوسرے کو اِن میں سے ایک پلاٹ بیچنے کا کہا تو اُس نے ، ڈھائی لاکھ بتائے کہ خریدار کوئی نہیں ، میں نے اپنے ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ بیچ کر 6 لاکھ میں دونوں پلاٹ ، کرید لیے ، اِس لئے نہیں کہ میں بہت مالدار تھا بلکہ اِس لئے کہ پلاٹ کی قیمت یہی بنتی تھے ، ٹرانسفر نہیں کرائے کہ پیسے لگتے تھے ، یہ دونوں پلاٹ مجھے ضرورت پڑی تو میں نے اگست 2001 میں بیچ گئے ، مبلغ سات لاکھ میں ۔ کتنے میں ؟ مبلغ ساڑھے تین لاکھ میں 9/11 کے بعد یہ دونوں پلاٹ 80 لاکھ ، 80 لاکھ بِک چکے تھے ، لوگوں نے پاگلوں کی طرح پلاٹ لینا شروع کئے ، اور پھر اکتوبر 2011 میں کوئی انہیں 35 لاکھ فی پلاٹ خریدنے کے لئے تیار نہیں تھا ، آج یہ پلاٹ ایک کروڑ 80 لاکھ کے ہیں۔
اِس طرح ریٹائر فوجیوں کی ملٹری ایمپائر ، سویلئین کی نظروں میں ،

"میڈیا کے زنخے اور قلمی طوائفیں"چبھا رہے ہیں ، جس کو بوسٹ ، امریکی اور یورپی پاکستانیوں نے 9/11 کے بعد کیا ۔ میرا پی ایم اے کا پلاٹون میٹ،  جو 1979 میں کیپٹن ریٹائر ہو کر امریکہ گیا تھا ۔ وہاں اُس نے بے تحاشہ ڈالر کمائے ، پاکستان اب شائد دفن ہونے کے لئے آیا ھے ، ہم روزانہ گالف کھیلتے ہیں ، اُس نے ڈیفنس میں گھر بنا کر کرائے پر دینے کی بات کی ، مجھ سے پوچھا ،
" کہ یہاں کنال پر بنے ہوئے گھروں کے کیا کرائے ہیں، میرا پروگرام ہے "
" میں نے کہا لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ مکمل گھر کے "
" بس 5 کروڑ کے گھر کا اتنا کرایہ ؟ " وہ حیرانی سے بولا ۔
" پانچ کروڑ کیسے ، 6 لاکھ کا پلاٹ اور 50 لاکھ تعمیر ؟ " میں نے جواب دیا ۔
" لیکن میں نے معلوم کیا ، ابھی تو جہاں تم رہ رہے ہو پلاٹ ڈھائی کروڑ کا ہے " وہ بولا
" نہیں پلاٹ 6 لاکھ اور تعمیر سوا کروڑ " میں بولا
" تم پاگل ہو گئے ہو ؟" وہ بولا
" نہیں ہمیں تم بے وقوف امریکن شہریوں نے پاگل کر دیا ہے - جو اب روتے ہیں کہ ہمیں اپنی انویسٹمنٹ کا وہ ریٹرن نہیں آرھا ۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بے وقوف نودولتیئے گھر بناتے ہیں اور عقلمند اُن میں کرائے پر رہتے ہیں ، اور اپنے بچوں کی سہولت کے مطابق شفٹ کرتے رہتے ہیں "

اب وہ شہر سے دور شہر بسانے کے چکر میں زمینیں خرید رہا ہے ۔ اور امریکہ میں اپنے موٹلز اور گھر بیچ رھا ہے ۔ جب سویلئین ، یہ سنیں گے کہ کپتان صاحب ھاوسنگ سوسائیٹی بنا رہیں ہیں تو ھونٹوں میں انگلیاں دبا لیں گہ کہ

" کپتان صاحب نے فوج کو ڈٹ کر لوٹا "۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔