میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 2 جنوری، 2016

سروجنی نائیڈو


بوٹا سا قد ، گدرایا ہوا ڈیل، کھلتی ہوئی چمپئی رنگت ، کتابی چہرہ،چہرہ سے متانت اور سنجیدگی ہویدا،خوش خلق اور ہنس مکھ ….یہ ہیں سروجنی نائیڈو۔ خوب گہری گہری کالی بھویں، اوپر چھوٹا سا، خوب گہرا سرخ کسّم کا ٹیکہ، بڑی بڑی نرگسی آنکھیں کچھ جھکی جھکی سی۔ دیکھنے میں کمزور مگر چلنے اور حرکت کرنے میں ہوا سے باتیں کریں ۔ آنکھوں کے ڈھیلے ہر وقت تروتازہ۔ پتلیاں خوب سیاہ اور بڑی بڑی جن کے چاروں طرف بڑے بڑے مڑے ہوئے سیاہ گنجان پلکوں کا جنگلہ ہے، جس میں یہ وحشی ڈھیلے ہر وقت رم کرتے رہتے ہیں ۔ بھلا کہیں اس جنگلے سے یہ کالے شیرازی کبوتر رُکتے ہیں ، نہیں ، آناً فاناً میں دور دور کے کاوے کاٹ آتے ہیں ۔
بوا، آنکھیں کیا بتاﺅں، غضب کی ہیں ، موتی کوٹ کوٹ کر بھر دئیے ہیں لیکن ساتھ ہی ان سے حجاب وشرم وحیا اور عصمت وعفت برستی ہے ۔
یہ دیکھ لو کہ شہر شہر ملک ملک اکیلی پڑی پھرتی ہیں ، ہزاروں لاکھوں مردوں میں اٹھتی بیٹھتی ہیں ۔ چاہیے تھا کہ دیدے کا پانی ڈھل جاتا مگر نہیں، آنکھ میں وہ حیا ہے کہ بعض بے حیا مردوں کی طرف اٹھتے ہی ان کو حیا دار بنا دیتی ہے ۔ یہ باہر کاپھرنا اس سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ گھروں کی چار دیواری کے اندر پڑے پڑے پردوں میں گردے لگائیں اور نہ بی بی ہم نے حاشاللہ حاشا و کلا،  کوئی ان کی ایسی ویسی بات سنی ۔ متناسب اعضا ہیں ، چھب تختی بڑی پیاری ہے ، جس کے سبب جامہ زیبی اور پھبن غضب کی ہے ، کان موزوں ہیں اور لویں نیچے کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ جھکی ہیں ، بال کالے اور انگریزی موجودہ طرز کے موافق کنپٹیوں پر جھکا کر اور کانوں پر سے لے جاکر پیچھے جوڑے کی صورت میں لپیٹ دے کر کالی کنگھیاں لگائی گئی تھیں جن میں ہیرے کی طرح چمکتے ہوئے سفید رنگ جڑے ہوئے تھے۔بالوں کی وضع تھی تو انگریزی مگر ہماری محمد شاہی پٹیوں اور سادی ببریوں سے کچھ کچھ ملتی جلتی ہے ۔ بائیں رخسار پر ذرا کچھ اوپر ہٹ کر ایک ننھا سا ہلکے سیاہ رنگ کا تل ہے کہ جب ہنستے وقت گال اوپر کی طرف بڑی خوبصورتی سے تلاطم پیدا کرتے ہوئے چڑھتے ہیں تو شامت زدہ آنکھوں میں گھسنے کی کوشش کرتا ہے ۔ سیدھے رخسار میں ہلکا سا گڑ ھا پڑتا ہے ۔ جس کی بابت دلی والیوں کا خیال ہے کہ ساس پر بھاری ہوتا ہے ۔ چوکھٹا موزوں ، برابر برابر ۔ جمی ہوئی خوب چمکتی ہوئی بتیسی جیسے بحرین کے موتی، ہونٹ جو ہنسنے اور مسکرانے میں ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں اور پھر کچھ وقفے کے بعد مل کر بالکل وابستہ ہو جاتے ہیں۔ پتا دیتے ہیں کہ یہ عورت بڑی برداشت اور تحمل والی ہے۔ رکھ رکھاﺅ اور اپنے تئیں لیے دئیے رکھنے کا بڑا مادہ ہے۔ کوئی راز کی بات کہہ دو تو گویا کنویں میں ڈال دی۔ خوب صورت ٹھوڑی جیسے بنارسی لنگڑے کی کیری، مورنی کی سی گردن، گول سڈول بازو، چپٹی لمبوتری، سانچے میں ڈھلی بانہیں، اچھی گول گول نازک کلائیاں، جن میں پھنسی پھنسی چمکتے ہوئے زبر جدی رنگ کی جاپانی ریشمین چوڑیاں، بیچ میں نیم کے پھول کے بمبئی کی جلا دار اشرفی کے سونے والی چوڑی ، اور پھر ریشمین چوڑیوں میں ملی ہوئی ادھر ادھر ایک کے بعد ایک ، بائیس کے در والی وہی سرخی لیے اشرفی کے سونے کی پتلی پتلی نخیں لگی ہوئی بڑی بھلی معلوم ہوتی تھیں۔ کانوں میں ہیرے کے چھوٹے چھوٹے بندے تھے جو بجلی کی روشنی میں حرکت کےساتھ پڑے جھمر جھمر کرتے تھے ۔
بیگم نائیڈو کے کانو ں کو دیکھ کر اللہ بخشے ددّا سو بھا یاد آگئیں جو کہا کرتی تھیں کہ اے ہے! عورت کا حسن ہی کیا جو اوپر کے سب کان نہ چھدے ہوں ۔ نرے نیچے کے ایک ایک کان یا دو دوکان چھدے ہوں تو عورتیں لگتی ہی نہیں ۔ خاصے بھانڈوں کے ساتھ ناچنے والے لونڈے معلوم ہونے لگتی ہیں ۔ صورت ہی نہیں نکلتی جب تک کہ نرم نرم کان گوننی کی طرح نہ جھکے پڑتے ہوں اور جو بیویاں مارے نزاکت کے گہنا نہیں پہنتیں تو لوگو!چاہے مجھے کوئی بے شرم کہے یا بے حیا ‘چاہے کتنا ہی گورا چا کیوں نہ ہو ۔ خصم بھی بات کرتے لجیائے ، موئے ہمزاد کا دھوکا کھائے ۔ اللہ غریق رحمت کرے کیا اگلے لوگ بھی تھے اور کیا تھے ان کے خیال۔ بہشتن کسی کو بھی ذرا ہلکا ہلکا سا زیور پہنے دیکھ لیتی تھی تو کوئی نہ کوئی چوٹ ضرور ہی کردیتی تھی اور ہم بہنوں میں سے تو اگر کوئی ذرا بھی گھبرا کر ایک بھی چیز علیحدہ کردیتی تھی تو ہماری جان سے دور، چار بار پنجتن پاک کا قدم درمیان، بے چاری کی ارواح نہ شرمائے، بلا کی طرح ہاتھ جھاڑ کے پیچھے پڑ جاتی تھی ، اور جو نہ کہنی تھی وہ کہہ سناتی ۔ خیر بیچاری ، اب ہم سے اچھے لوگوں میں ہے ۔کہتے ہیں کہ مر کے پاﺅں پھیرے اس نے تومر کے بھی پہرہ دیا ۔
یاد ہو گا ۔ شتابو کی اس رات کیسی گھگھی بندھی تھی اور کیسی چیخی چلائی ہے اور پوچھتے تھے کہ اری مردار بتا کیا آفت ہے سر پہ میراں آئے ہیں ،
کوئی پچھل پیری دیکھی یا تیرے میرے پیاروں نے آٹیٹوا دبایا ۔ کچھ جواب نہ دیتی تھی۔ بیر ی کی طرح تھر تھر سے پاﺅں تک کانپتی تھی، بات کرتی تو منہ سے پورے لفظ نہ نکلتے، آخر جب خالہ مغلانی نے قرآن شریف کی ، واری جاﺅں نام کے ، ہوا دی اور استانی جی نے پنج سورہ اور لعل خاں ڈیوڑھی بان کی ماں نے لایلاف پڑھ کر دم کیا ، جب قطامہ کے اوسان درست ہوئے ، منہ سے پھوٹی ، کہ منجھلی سرکار میری خطا معاف کریں مجھ سے بڑی چوک ہوئی ۔
حضرت بی بی کے بچوں کا صدقہ درگزکرو۔ جب اماں جان نے بگڑ کر کہا شفتل صدقے واسطے ہی دلائے جائے گی یا کچھ کہے گی بھی ،
تو کس طرح چبا چبا کے کہا ہے کہ سرکار عالیہ، میں نے منجھلے سرکار کی گردے کی جڑائی والی ، ہیرے کی آرسی صبح فجر ہی نور ظہور کے تڑکے چھوٹی مہتابی والی صنچی میں سے جب سلفچی آفتابہ اور لال کھاروے کا زیر انداز اٹھانے گئی یہ نگوڑی اندر سبھارات کو عشا کے بعد وہیں بھول آئی تھی۔
تھا تو سویرا ہی ، میرا کلیجہ بھی کھرچ رہا تھا ۔ میں نے کہا کہ دیکھوں کچھ رات کا بچا کھچا گنجینے میں دھرا ہو تو لے جاکر برتا دوں۔
ناگہانی ہونی شدنی کلنک کا ٹیکہ لگتا تھا اٹھالی ، میرا اللہ گواہ ہے جو کوئی بھی نیت میں خلل ہو ۔ ادھم اس کے مچے ہی گی اور حافظ جی بدھنی کی فال کھولیں گے۔
دیکھوں کس کا نام نکلتا ہے ۔ سنو جی کی بیٹی کس کاحلیہ بتلاتی ہیں ، حضور یہاں سرکاریں ایسی بے پرواہ ہیں کہ کسی نے پلٹ کر سدھ بھی نہ لی ۔ جھٹ پٹے کے وقت سے مجھے خیال ہوا کہ کچھ ذکر نکالوں اس کی بابت، پھر میں نے کہا کہ مجھے چپ ہی سادھ لینی چاہیے، دوسرے مجھے ملمع تولنا تھا اور مودی خانہ میں رکھنا تھا ادھر نانی فتن نے سارامحل سر پر اٹھالیا کہ
لوگو!غضب ہے جس سرکار، دربار میںیہ پرتھمی کی پرتھمی بھری ہو ۔ ہتھیلی کا پھپھولا نہ پھوڑیں ، ہلکے پانی نہ پئیں ۔ نگوڑے سب کے سب بادشاہی احدی ہو گئے کہ ہلاﺅ نہ جلاﺅ ٹکڑے مانگ مانگ کھلاﺅ، کھائیں اور مگرائیں۔ کرمو جلیاں انعام اکرام کے وقت تو کیا کیا پل پل کے دشمنوں، بیریوں کی جان پر آتی ہے ،ایک ہے کہ اپنا حق خدمت جتلاتی ہے،
بھلا یہ بھی کوئی ڈھنگ ہے ، کوئی رویہ ہے ، کوئی قرینہ ہے کہ دونو ں وقت ملنے کو آئے اور جنس اب تک باہر نہیں گئی، اب بھلا کس وقت وہ نمانا کرموں بندہ جنس سنبھالے گا ۔پھر وہی مدعیوں کی جان کو پر سرشام ہائے ہائے ہو گی، یہ معصوم معصوم پھول سے بچے خالی انتڑیوں ان نمک حراموں کی جان کو دعا دیتے ہوئے آرام کریںگے ۔ان مستانی کے کلیجے میں چھری کٹاﺅں ڈالنے کو وقت سے بے وقت کھانے کے مارے بھوک ماری جائے گی ۔ بس کچھ یونہی سا جمی جم کھائیں گے۔ ان مال زادیوں کے گہرے ہیں ، سارا اُلش انہیں غیبانیوں کے تلڑمیں گھسے گا ۔
سرکار عالیہ میں جلدی جلدی جنس تول جھونک فرخندہ کے ہاتھ باہرباورچی خانہ میں بھجوا، نانی فتن کی پھپھاپھپھا اور تھوک پیک اڑاتے دیکھنے چھوٹی سہ دری میں چلی گئی ۔ وہ مجھے دیکھ کر اور تیز ہوئیں اور آئیں تو جائیں کہاں، ایک ایک گالی سوا سوا من کی دے ڈالی اور میں جب ہنسی اور ہنستے ہنستے لوٹ گئی، پیٹ میں بل پڑ گئے تو اور بھی آپے سے باہر ہو ئیں ۔ پن کٹی پٹخ ناک کے بانسے پر عینک کو رکھ اور اس کے ڈوروں کو پیچھے چٹیا کی طرف کھسکا ، لکڑی ٹیکتی اٹھیں کہ بھلا رہ تو سہی خام پارہ میں خود نواب پاس چھوٹی محل سرائے میں جاتی ہوں اور قسم ہے مجھے تیس دھار دودھ کی جو نواب پر نثار کیں اور طلاق ہے اس بندی کی جنتی پر جو تیری پوری طرح کدبدیانہ بنوائی ۔ ٹھیر جا بڑی چربیا گئی ہے ۔ ابھی آن کے آن سدھر وائے دیتی ہو ں۔ میرا بھی فتح النسا نام نہیں ۔ اپنے نام کی میں بھی ایک بندہ بشر ہوں کسی مغل کی نہیں چمار کی جنی کہیو جو تیرے سارے مغز کی گرمی نہ چھٹوا دی ۔
خاک پہ بسم اللہ ، اللہ نے دیکھ کے ہی پٹخا ہے ۔دیکھتی جاوہ چار چوٹ کی مار پٹواﺅں کہ بند بند ڈھیلا ہو جائے، کھڑی پڑی کہروا ناچے ۔ اب تو ہی اس گھر میں براج لے یا میں رہ لوں ۔ سرکار عالیہ !نانی فتن نے سرکار حضور سے شکایت کی دھمکی دی ۔ میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ۔ زمین کے سرے ٹٹولتی تھی ۔ نانی فتن کے آگے ہاتھ جوڑے، توبہ کی ، ناک رگڑی، اللہ رسول کے واسطے دئیے، ہزاروں خوشامدیں درامدیں ، منتیں سماجتیں کیں تب کہیں خدا خدا کرکے ان کا جوش اترا، غصہ ٹھنڈا ہوا، نرم پڑیں، پسیجیں، چھوٹی حویلی میں تو نہ گئیں مگر ہاں بڑڑ بڑڑ گھنٹوں کرتی رہیں ۔ پھرمیں اٹھ کر درے میں خالہ ہپو کے پاس جا بیٹھی ، چھالیہ کتر ایک زردے کا ٹکڑا کھایا اتنے میں خاصے کا وقت آیا۔ میں نے شیدی کو پھلکوں کا آٹارکوانے باہر دوڑایا ۔ اور خود چچی رحمت کے پاس کھانا اتروانے نعمت خانے کے قریب جا بیٹھی ۔ وہاں کچھ بیٹھے بیٹھے نیند سی آئی ۔ اتنی بھی ہمت نہ پڑی اپنے حصے کی روٹی اور تصرف کا سالن، دادی دلین کی پوتی سے لے لینے کو کہہ ، اور اس سے آبِ حیات کو نکالنے اور بجھیروں پررکھنے کو جتائیں، جاکر پڑرہی ۔
سرکار عالیہ!ذراکی ذرا ہی آنکھ جھپکی ہوگی ،دیکھتی کیا ہوں کہ ایک بڑھیا منہ میں دانت نہ پیٹ میں آنت آئی اور میری چھاتی پر چڑھ بیٹھی ۔ بہتیرا اسے دونوں ہاتھوں سے ہٹاتی ہوں، پاﺅں بھی مارتی ہوں ، دھکیلتی ہوں مگر وہ بہرے نہیں ہوتی ۔ آخر اسی ہشت مشت میں اس نے میری گردن کی طرف ہاتھ بڑھا مونڈے پر رکھ دیا اور کہا کہ چوٹی چنبلی میری بچی کی آر سی ابھی اس کے حوالے کرو ورنہ مونڈیا مروڑ کر رکھ دو ںگی ۔
سرکار میرا لہو خشک ہو گیا، چیخنے کی کوشش کرتی تو آوازنہ نکلتی ۔ پھر میری آنکھ کھلی تو آپ لوگوں کو دیکھا ۔
لیجئے یہ رہی آر سی ۔ یہ کہہ کر نیفے میں سے نکال کر حوالے کی ۔ نانی حضرت بڑی ناراض ہوئیں ۔ کہنے لگیں ذوف ہے ، لعنت ہے تجھ پہ خدا کی ، دیکھا مردار چرانے کا مزا۔ وہ صبح بے غیرت، دھویادیدا ، چکنا گھڑا، بوند پڑی پھسل گئی ، بیٹھی ٹھی ٹھی ہنستی رہی ۔ ہم لوگ تو پھر چلے آئے ۔ صبح اس نامراد نے بے چاری ددا سوبھا کی فاتحہ مچھلی کی دھوون ، ماش کے بڑوں اور انڈوں پر دلوادی ۔ اس روز سے پھر کسی کے خواب میں نہیں آئیں ۔ مگر دیکھو پھیرا مرے پر بھی دیا ۔ میری کوئی چیز ادھر سے ادھر ، جاسے بے جا ہو یا ذرا بھی میں آنکھوں سے اوجھل ہو جاﺅں۔ بس دیوانوں کی طرح سڑی سودائیوں کی طرح ہو جاتی تھی ۔ اے ہے دیکھو !اچھوں کی یاد مرنے کے بعد بھی ہوتی ہے۔ سچ ہے چاند پیارا نہیں کام پیارا ہے ۔ لو میںنے بھی بات کہاں سے کہاں لاڈالی ۔
کہاں بیگم نیڈو کا سراپا کہاں ان کی جان سے دور ددا سوبھا کا رونا صورت اور زیور سے تو آشنا ہو گئیں اب لباس اور جو باتیں ان کے متعلق رہ گئی ہیں سب آگے چل کر بتائے دیتی ہوں ۔
کنائے دار ہلکے موتیائی رنگ کی بنارسی ساڑی ۔ کنارے پر دھنئے کی بیل اور متن پر برف کی بوٹیاں پڑی تھیں ۔ چولی مرہٹی تراش کی تھی۔ جس کی آستینیں خوب پھنسی پھنسی آدھے بازوﺅں تک تھیں، چولی کاکپڑا بنارسی تھاجس کی زمین پہ پاس پاس گلاب اور مہوے کی سنہری بوٹیاں پڑی تھیں اور اس پہ کنارہ جو لگایا تھا وہ بھی بنارسی ۔ جس کی بیل خداجانے کس قسم کے جال کی تھی لیکن چولی کا رنگ اورٹکائی ساڑی ہی کے جواب کی تھیں ۔ ساڑی بمبئی کے طرز سے بندھی تھی ۔ چاروں طرف خوب اچھا میٹھا میٹھا جھول دیا ہوا تھا لیکن اوڑھنے کا سرا معمولی ساڑیوں سے بڑا تھا ۔ جس کے آنچل کو الٹے کھوئے پرمہین مہین چنٹ دے کر اور پھول سوئی اٹکا کر سر پر سے لے جاکر پیچھے نیچے تک لٹکتا چھوڑ دیا تھا ۔ جس سے پچھائے کی ڈھکن بڑی خوبی سے ہو گئی ہے اور بمبی کی عام ساڑیاں جو پارسنیں باندھتی ہیں کہ پلو کا ایک سرالے کر دائیں پہلو کی کی لپیٹ کے بعد گائی کے نیچے سے بائیں پہلو کی طرف اڑس لیتی ہیں اور دوسرا سرا پیچھے سموسہ نما لٹکا رہنے دیتی ہیں ۔ اس میں وہ بات نہ رہی تھی ( یعنی پیچھے سموسے کی طرح نہیں لٹکتا تھا ) بلکہ دونوں سرے پیچھے ہی لٹکے ہوئے تھے ۔ کان کے پاس کچھ سرگاہ کے آنچل کی جھوک تھی ۔ جس کو سروجنی صاحبہ اکثر بولتے وقت عجیب انداز سے دائیں کان اور ہنسلی کا سرا ڈھانکنے کے لیے بڑی پھرتی سے جھکا لیتی تھیں جو پھر حرکت سے آہستہ آہستہ کھسک کر پیچھے ہٹ جاتا تھا اور پھر وہ چٹکی سے پکڑ کر آگے کھسکا لیتی تھیں ۔ پاﺅں میں پیر سے اونچی ایڑی کی سیاہ بیگمی جوتی تھی ۔ جس وقت یہ تقریر کرنے کھڑی ہوتی ہیں اس وقت کا عالم بیان سے باہر ہے ۔ آواز میں ایک خاص قسم کی لرز تھی جو دلوں میں لرزش پیدا کرتی ہے ۔ کبھی تو آواز رساں رساں اوپر چڑھ کر مہاوٹ کے بھورے بھورے بادلوں کی سی گرج پیدا کرتی ھے اور کبھی آہستہ آہستہ نیچے ہوکر ساون بھادوں کی باجرا پھوار کا مزا دیتی تھی اور کبھی ایک جگہ قائم ہوکر سننے والوں کے دلوں کی متحرک موجوں میں چاند کے غیر مستقل عکس کا مزاد ے جاتی تھی۔ یا یہ معلوم ہوتا تھا کہ گل مشکی کے تختے میں سونے موتیوں کا ہزارہ چھوٹ رہا ہے ۔ جس کی صد ہا پتلی پتلی دھاریں لب کے پاس ایک دوسرے سے بہت ہی قریب قریب ملی ہوئی نکل کر اور اوپر پھیلتی ہوئی اور ایک دوسرے سے دوسر ہوتی ہوئی اور پھر ایک خاص قسم کی محراب بنا کر پھولوں کی نازک نازک کالی پنکھڑیوں پر گر کے اور تھوڑی دیر ٹھہر کر اور اپنی چمک دکھا کے چھوٹے چھوٹے موتیوں کی ٹوٹی ہوئی لڑیوں کی طرح تختے میں چاروں طرف بکھر جاتی ہوں۔ لفظوں کو پر زوراور پر اثر بنانے کے لیے جب وہ مٹھیاں بھینچ کے اور ہاتھ ڈھیلے چھوڑ کے جواکڑاتی تھیں اور جھومتی تھیں تو معلوم ہوتا تھا کہ سطح آب پر کنول کی تیرتی ہوئی بیلوں میں جل پری راج ہنسوں کے ساتھ کھڑی اٹھکیلیاں کررہی ہے ۔ پھر خاتمہ تقریر کے بعد ان کا ایک دم فوراً ہی بیٹھ جانا اور دیوان میں تالیوں کا شور اورحاضرین کی چرغم چرغم بالکل جل پری کے کھیلتے کھیلتے دفعتاً غوطہ لگا جانے اور جل کوﺅں کے شوروغل کے مانند تھا یا ان کا جھومنا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کسی ہری ہری دوب کے جنگل میں چاندنی چٹک رہی ہے اور ہوا کے جھونکے سے ہلتے ہوئے پتو ںکی اوٹ میں پٹ بچنوکی چاندنی کے سامنے مدھم مدھم چمک میں ایک دور کسی چٹان پربیٹھے ہوئے گڈرئیے کی بین کی آواز پرناگن پھن پھیلائے کھیلنے یا کسی گاﺅں سے رات کے سناٹے میں پونگی کی آنے والی لہر پہ لہرا لینے کے مانند تھا اور پھربولتے بولتے آناً فاناً میں کچھ جسم کو ڈھیلا چھوڑ کے کرسی،جو جگہ کی تنگی کیوجہ سے پیچھے ہٹائی گئی تھی تاکہ انہیں کھڑے ہونے میں سہولت ہو اور اس کا ہٹایا جانا انہیں یاد نہ رہا تھا ، ایک پاس ہی پڑی ہوئی چوکی پر بیٹھ جانا۔ لہرا بند ہونے پرناگن کے پھن سکیڑکے پتوں پہ سے اوس چاٹنے کی طرح تھا ۔
اور ہاں جب ہمارے کالج کے مشہور شاعر سہیل صاحب نے فارسی کا قصیدہ پڑھا ہے اس وقت بیگم نائیڈو کی پتلی پتلی انگلیاں خود بخود تال سر کے ساتھ کرسی پر ، جس پر وہ بیٹھی تھیں، پڑنے لگیں ۔ ایک تو قصیدے کے الفاظ ایسے تھے کہ جن کے ادا کرنے میں خود بخودایک راگ کی سہانی آواز نکلتی تھی ۔ پھر لفظ بڑے فصیح شان شوکت کے ، بندش انوری اور قآنی کی بندش سے پالا جمائے ۔ سونے پہ سہاگہ سروجنی صاحبہ کی انگلیوں کی حرکت نے غضب کا سماں باندھ دیا ۔
اچھی ۔کہو گی تو سہی کہ دوئی سب کی صورت بتائی لیکن سہیل صاحب کی بابت کچھ نہ بتایا ۔ لو سنو، ایک مٹھی بھر کا سوکھا سہما مردوا ، ہڈیوں کی مالا،مرزا منحنی، ہلکاپتا پھوک سے کوسوں دور جائے۔ بنارس کے پاس جو اعظم گڑھ ہے جہاں کے شبلی مرحوم رہنے والے تھے وہیں کے یہ بھی رہنے والے ہیں ان کی شاگردی کا بھی انہیں شرف حاصل ہے مگر بڑے میاں کی ارواح بھی ایسے قابل آدمی کے شاگرد ہونے پر ناز کرتی ہے ۔
ہاں ایک بات اور یاد آئی ۔ جس وقت سروجنی صاحبہ بول رہی تھیں تقریر ساری انگریزی میں اور انگریزی وہ زوردار کہ خود انگریز منہ تکیں ۔ سارے لوگوں پہ وہ سناٹا جیسے آگن چہکے اور سارے پرند چپکے ہوکر بیٹھ رہیں ۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ چل تو نے تو کئی دفعہ سنا ہے آج اور سننے والوں کا تماشا دیکھ ۔ اب میںنے جو لوگوں کی طرف آنکھیں دوڑائیں ، کسی کی توآنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں اور کسی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا ۔ ایک انگریز ذرا موٹا سا، سرخ سرخ لال چقندر سا رنگ ، زرد زرد دانت نکو سے ، منہ پھاڑے ایسا مبہوت ہوکے بیٹھا تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ دشمنوں کو سانپ سونگھ گیا۔ اے ہے کچھ عجیب ہی بے چارے کی صورت بن کے رہ گئی تھی کہ دیکھے سے ہنسی آتی تھی۔
(فتح النسا)٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ہندی ادب  سے انتخاب ،
برصغیر کی نامور سیاستدان اور شاعرہ کے لئے لکھا گیا ایک مضمون

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔