میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 13 فروری، 2016

کہانیوں کے مسحورین


فہیم جدون : اچھی کہانی ہے ، میں نے بھی سنی تھی اپنی شادی سے پہلے اور میری بھی یہی خواہش تھی ، مگر کیا کیا جائے مسجدوں میں لڑکیوں کو آنے نہیں دیا جاتا تھا ۔
آپ کا بھی یہی حال ہو گا نا ؟

اب یہ کہانی دوبارہ تو نہیں لاکھوں بار دفعہ ، لیکن کیا کروں نہ "ارسلان الدین"  کو دلچسپی ہے اور نہ "ارمغان الدین" کو ، کہ " انسانوں کے بنائے ہوئے قبلہ اول بیت المقدس " کو آزاد کروائیں ۔
اور اِس عمر میں ، گردش ایام اگر پیچھے لی طرف لوٹانا چاھے تویہ دونوں جواں مرد اپنی والدہ کی قیادت میں کہیں "نعیم الدین" کو  ، زندگی کی قید سے آزاد نہ کر دیں ۔
لیکن وہ کیوں کریں سب سے پہلے تو چم چم ، لڈو اور برفی جلوس نکالیں گے ۔
ویسے ، نئی نسل کہانیوں کے مسحورین میں سے نہیں ، میرا یہ اندازہ تھا ۔ لیکن اب بدلنا پڑے گا !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گورنر شادی کیوں نھیں کرتا تھا

~~~~~~ شہزادی ~~~~~~

ولایہ " تکریت" کا گورنر نجم الدین ایوب کافی عمر ھونے تک شادی سے انکار کرتا رھا، ایک دن اس کے بھائی اسدالدین شیر کوہ نے اس سے کہا : بھائی تم شادی کیوں نھیں کرتے ..؟
نجم الدین نے جواب دیا : میں کسی کو اپنے قابل نھیں سمجھتا .
اسدالدین نے کہا : میں آپ کیلئے رشتہ مانگوں  ؟
نجم الدین نے کہا : کس کا ؟
 اسدالدین : ملک شاہ بنت سلطان محمد بن ملک شاہ سلجوقی کی بیٹی کا یا وزیر المک کی بیٹی کا ..
نجم الدین ؛ وہ میرے لائق نھیں ،
اسدالدین حیرانگی سے : پھر کون تیرے لائق ھوگی ؟
نجم الدین نے جواب دیا : مجھے ایسی نیک بیوی چاھئیے جو میرا ھاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے میرا اک ایسا بیٹا پیدا ھو جس کی وہ بہترین تربیت کرے جو شہسوار ھو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے ..
اسدالدین کو نجم الدین کی بات پسند نہ آئی اور انہوں نے کہا  : ایسی تجھے کہاں ملے گی ؟
نجم الدین نے کہا : نیت میں خلوص ھو تو اللہ نصیب کرے گا ..
ایک دن نجم الدین مسجد میں تکریت کے اک شیخ کے پاس بیٹھے ھوئے تھے ، ایک لڑکی آئی اور پردے کے پیچھے سے ھی شیخ کو آواز دی ، شیخ نے لڑکی سے بات کرنے کیلئے نجم الدین سے معذرت کی ..نجم الدین سنتا رھا شیخ لڑکی سے کیا کہ رھا ھے ..
شیخ نے لڑکی سے کہا تم نے اس لڑکے کا رشتہ کیوں مسترد کردیا جس کو میں نے بھیجا تھا..؟
لڑکی : اے ھمارے شیخ اور مفتی وہ لڑکا واقعی خوبصورت  اور رتبے والا تھا مگر میرے لائق نھیں تھا
شیخ : تم کیا چاھتی ھو ؟
لڑکی : شیخ مجھے اک ایسا لڑکا چاھئیے جو میرا ھاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے مجھے اللہ ایک ایسا بیٹا دے جو شہسوار ھو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے ،،
نجم الدین حیران رہ گیا کیونکہ جو وہ سوچتا تھا وھی یہ لڑکی بھی سوچتی تھی ..
نجم الدین جس نے حکمرانوں اور وزیروں کی بیٹیوں کے رشتے ٹھکرائے تھے شیخ سے کہا اس لڑکی سے میری شادی کروا دیں ،،
شیخ : یہ محلے کے سب سے فقیر گھرانے کی لڑکی ھے ..
نجم الدین : میں یہی چاھتا ھوں .
نجم الدین نے اس فقیر متقی لڑکی سے شادی کر لی اور اسی سے وہ شہسوار پیدا ھوا جسے دنیا سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانتی ھے ..
جنہوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو آزاد کروایا ..

پھر دکھا دے اے تصور منظر وہ صبح شام تو
دوڑ  پیچھے  کی  طرف  اے  گردش  ایام  تو ..


〰〰〰〰➖〰〰〰〰
ویسے ایک بات تو بتاؤ سوچ کر ۔ نوجوان فہیم جدون !

کیا واقعی ، " قبلہ اول ، المعروف  بیت المقدس " آزاد نہیں ؟
حیرت ہے ؟




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔