میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 23 مارچ، 2016

یومِ تجدیدِ عہد 23 مارچ !

برصغیر پاک وہند کی تاریخ میں 23 مارچ 1940 کا دن نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس دن برصغیر کے مسلمانوں کی واحد نمایندہ جماعت مسلم لیگ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں اپنے ستائیسویں سالانہ اجلاس (منعقدہ لاہور) میں ایک آزاد اور خودمختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ،
" مسلمانوں کے ہندوؤں کے مقابلے میں سیاسی حقوق کا تحفظ ہوسکے اور وہ سکون سے زندگی بسر کرسکیں - ورنہ مذہبی رسومات و عبادات پر برٹش حکومت کی طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں تھی "
برصغیر میں، مغربی جمہوریت کامیاب نہیں ہوسکتی، کیونکہ ہندوستان میں صرف ایک قوم نہیں بستی۔  ہندو کی سیاسی اکثریت کی وجہ سے  کسی بھی نوعیت کے آئینی تحفظ سے مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔ ان مفادات کا تحفظ صرف اس طرح ہوسکتا ہے کہ ہندوستان کو ہندو انڈیا ( ہند استھان )  اور مسلم انڈیا (پاک استھان ) میں تقسیم کردیا جائے ۔ ‘‘
 یومِ تجدیدِ عہد کو، وفا کب کرنا ہے
ہندو و مسلماں میں، فرق کرنے والو
کیسے ممکن ہے ، کہ سب ایک ہوجائیں
ذات و فرقہ کی، تفریق میں پڑنے والو

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔