میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 2 مارچ، 2016

انصاف کی طوالت ہے !


4 جنوری 2011 تا 29 فروری 2016
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بے گناہ کی موت سے بہتر ، انصاف کی طوالت ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

یہ کہانی شروع ہوتی ہے شیخوپورہ کے نواحی گاوں ''اٹاں والی'' سے جہاں کی آسیہ بی بی نامی ایک عیسائی عورت جس کا شوہر عاشق حسین بھٹہ پر کام کرتا ہے جبکہ آسیہ کھیتوں میں مزدوری کرتی  ہے. ...
آسیہ اور عاشق کے پانچ بچے ہیں. ..ایک دن آسیہ دیگر مسلمان عورتوں کے ساتھ فالسے  کی فصل کی چنائی کر رہی ہوتی ہے کہ دوپہر کو دیگر عورتیں اسے پاس کے ٹیوب ویل سے گھڑا بھر کے لانے کا کہتی ہیں ...وہ ٹیوب ویل سے گھڑا بھرنے کے لیے جاتی ہے ٹیوب ویل پر اس کی ہمسائی جس کے ساتھ آسیہ کا زمین کا جھگڑا چل رہا تھا بھی موجود ہوتی ہے. .
آسیہ گھڑا بھر کر واپس کھیت میں آ جاتی ہے پیچھے سے اس کی وہ ہمسائی بھی کھیتوں میں آ جاتی ہے اور دیگر مسلمان عورتوں کو بتاتی ہے کہ آسیہ نے گھڑے سے بندھے گلاس کے ساتھ پانی پیا ہے یہ  گلاس پلید کرکے اب اس پلید اور جوٹھے گلاس سے تمہیں پانی پلائے گی . .

یہ بات سنتے ہی وہ کام کرنے والی مسلمان خواتین شدید بھڑک کر آسیہ کو برا بھلا کہنے لگ گئیں. .آسیہ اور ان مسلمان عورتیں میں شروع ہونے والی لڑائی گالم گلوچ سے بڑھ کر مذہبی بیان بازی کا رنگ اختیار کر جاتی ہے.
حالات کو ناموافق گردانتے ہوئے آسیہ دوپہر کو ہی کھیت چھوڑ کر گھر چلی جاتی ہے  ..
پیچھے سے آسیہ کی ہمسائی آبادی کے امام مسجد کے پاس چلی جاتی ہے اور اسے بھڑکاتی ہے . .امام مسجد  گاوں کے لوگوں کو اکٹھا کر کے رات کو آسیہ کے گھر پر دھاوا بول دیتا ہے. ..آسیہ کے تمام اہل خانہ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کے بعد آسیہ کو پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں  اور یوں آسیہ کے خلاف متعلقہ تھانے میں 295 c تعزیرات پاکستان کے تحت توہین رسالت کا مقدمہ قائم کر دیا جاتا ہے. ..آسیہ کو ایک سال جیل میں رکھا جاتا ہے اور سال بعد اس پر مقدمہ چلایا جاتا ہے. ..
آسیہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی صحت سے انکار کرتی ہے لیکن کیونکہ گاوں کے لوگ اس کے خلاف گواہی دیتے ہیں اس لیے شیخوپورہ کی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج محمد نوید اقبال اس کو توہین رسالت کا مجرم قرار دے کر سزائے موت دے دیتے ہیں. .آسیہ کا خاوند سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کرتا ہے جہاں پر اس کیس کو مقامی اخبارات میں خوب پبلسٹی ملتی. ..
ہائی کورٹ بھی سیشن کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتا ہے  انگریزی اخبار کے کالم نگار رسول بخش رئیس اس پر انگریزی میں ایک کالم لکھ دیتے ہیں جسے پڑھنے کے بعد بیرون ملک آسیہ کی ہمدردی میں بہت زیادہ آوازیں بلند ہوتی ہیں یہاں تک کہ Pope Bendit 16  بھی آسیہ کے حق میں بیان دے دیتا ہے. ..
پوپ  کے بیان کے بعد ہمارے علما  آسیہ کے خلاف بیان بازی اور مظاہرے شروع کر دیتے ہیں. .حالات کی نزاکت کے پیش نظر  وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شیریں رحمان کی ذمہ داری لگائی کہ وہ معاملات کی تہ تک پہنچیں. .
شیریں رحمان آسیہ سے ملنے جیل گئیں اور آسیہ سے اس سے حقائق معلوم کیے. .ان حقائق کے مدنظر ایک خفیہ انکوائری کروائی جاتی ہے. .خفیہ انکوائری جو کہ کام کرنے والی عورتوں کے بیانات پر تھی کے مطابق آسیہ اور مسلمان خواتین کے درمیان  تلخ کلامی ضرور ہوئی تھی لیکن بات توہین رسالت تک نہیں پہنچی تھی. .
اس کے علاوہ ایک اور سنگین حقیقت سامنے آتی ہے کہ مسجد کے امام نے آسیہ سے ہم بستری کا تقاضا کیا تھا جسے پورا نہ کرنے پر امام نے اسے سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی.

یوں آسیہ کے اس انجام میں آسیہ کی ہمسائی کے ساتھ ساتھ امام مسجد کا بھی برابر کا کردار تھا. ..
اس انکوائری کی ایک کاپی سلمان تاثیر کی نظروں سے بھی گزرتی ہے اور وہ اتنی بڑی ناانصافی کا ازالہ کرنے کے لیے اپنی بیوی آمنہ تاثیر اور بیٹی شہر بانو کے ہمراہ آسیہ  سے ملنے جیل میں چلا جاتا ہے اور اسے یقین دلاتا ہے کہ وہ صدر مملکت آصف علی زرداری سے اس کی سزائے موت معاف کروانے کی کوشش کرے گا ..
جیل سے نکلتے وقت سلمان تاثیر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آسیہ کے ساتھ سخت زیادتی ہوئی ہے. .کئی سال سے وہ اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے ...
وہ آسیہ کے کیس کے سنگین حقائق منظر عام پر آنے کے  بعد کوشش کریں گے کہ اس قانون میں ترمیم کر کے اس میں ایک شق یہ بھی ڈالی جائے کہ اگر کوئی شخص کسی شخص پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگائے تو وہ بھی توہین رسالت کا مرتکب سمجھا جائے. .

 ...اگلی صبح ملک کے ایک بہت بڑے اخبار روزنامہ  پاکستان پر یہ لیڈ لگ گئی کہ سلمان تاثیر نے ناموس رسالت کے قانون کو سیاہ قانون کہا ہے. ..

خبر کا چھپنا تھا کہ جگہ جگہ سلمان تاثیر اور شیری رحمان کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے  جمعہ کے خطابات میں ان کے قتل کے فتوے دیے گئے اور پھر پورے ملک نے دیکھا کہ ایک شخص جو کہ گورنر سلمان تاثیر کی حفاظت پر مامور تھا نے ہی گولیاں مار کر گورنر پنجاب کو شہید کر دیا..

سلمان تاثیر 4 جنوری 2011 کو اپنے ایک دوست کی دعوت پر اسلام آباد کی کہسار مارکیٹ کے ایک ہوٹل سے کھانا کھا کر جب باہر نکلے تو ممتاز قادری نامی ان کے ہی ایک الیٹ فورس کے گارڈ نے MP5 مشین گن سے لگاتار 27 فائر کر کے شہید کردیا. ..
ممتاز قادری کا تعلق راولپنڈی کے علاقے صادق آباد سے ہے ..وہ پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ میں ملازم تھا ..
2005 میں جب پرویز مشرف پر حملے ہوئے تو اس کے بعد پولیس کی تمام برانچوں میں کانٹ چھانٹ کا عمل شروع ہوا اور تمام اہل کاروں کے بارے میں سخت چھان بین کی گئی.

سپیشل برانچ میں اس وقت کے ایس ایس پی ناصر درانی نے ممتاز قادری کے انتہائی جنونی عقائد کے باعث اس کا تبادلہ سپیشل برانچ سے پولیس لائنز میں کر دیا ساتھ ہی ان کی سروس بک میں سرخ پنسل سے یہ نوٹ دیا کہ یہ شخص کسی بھی حساس نوعیت کے کام اور وی آئی پی سیکورٹی کے لئے غیر موزوں ہے لہذا اسے ایسا کوئی کام تفویض نہ کیا جائے..

سوال یہ ہے کہ جب اس وقت پورے ملک میں سلمان تاثیر کے خلاف  شدید مظاہرے ہو رہے تھے تو اس کے باوجود محرر ڈیوٹی عمر فاروق نے آخر ایسے جنونی شخص کی ہی سلمان تاثیر کے ساتھ ہی ڈیوٹی کیوں لگائی؟ ؟؟؟؟؟

نمبر 2 یہ کہ وی آئی پی کی سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کے سٹنڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز SOP کے مطابق کوئی بھی اہلکار گاڑی میں سوار نہیں ہو سکتے جب تک کہ وی آئی پی گاڑی میں سوار نہ ہو جائے لیکن سلمان تاثیر جب ہوٹل سے باہر آئے تو عینی گواہ کے مطابق صرف قادری سڑک پر کھڑا تھا باقی اہلکار گاڑی میں بیٹھے تھے وہ گاڑی سے باہر کیوں نہیں تھے اور جب قادری گورنر پر فائرنگ کر رہا تھا تو کسی نے بھی روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟


نمبر 3 ...اس سے پہلے سلمان تاثیر جب بھی اسلام آباد آتے تو ان کے ساتھ اسلام آباد میں بھی لاہور کا سکواڈ ہی رہتا لیکن اس روز لاہور کے سکواڈ کو موٹروے سے ہی واپس بلا لیا گیا اور آگے راولپنڈی کے سکوارڈ کی ذمہ داری لگائی گئی آخر اس کے پیچھے کیا منطق تھی. ...

یہ ایسے سوال ہیں جو آج تک میرے ذہن  میں مسلسل کھٹک رہے ہیں. .صرف یہ ہی نہیں بلکہ قادری کے بیان کے مطابق وہ 31 دسمبر کو اپنے محلے کی ایک مسجد کے خطیب محمد حنیف قریشی کے سلمان تاثیر کے خلاف خطاب سے متاثر ہوا اور اس سےعلیحدگی میں ملا اور  سلمان تاثیر کے قتل کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا اور خطیب کی ترغیب پر ہی یہ قتل کیا تو پھر وہ خطیب بھی اعانت جرم کا مرتکب تھا اسے آج تک نہ گرفتار کیا گیا اور نہ ہی شامل تفتیش کیا گیا. .

اس کے علاوہ یہ بات بھی ہضم نہیں ہوتی کہ 31 دسمبر کو اس نے تقریر سنی پھر  بقول قادری صاحب کے اس نے محرر ڈیوٹی کی منت سماجت کر کے گورنر کے سکوارڈ میں ڈیوٹی لگائی اور 4 جنوری کو گورنر صاحب کو شہید کر دیا

حالانکہ یہ بات تو بچے بھی جانتے ہیں کہ ایسے وی آئی پی افراد جن کی جان کو خطرہ ہو ان کی نقل و حرکت کو آخری وقت تک خفیہ رکھا جاتا ہے تو پھر قادری کو کیسے چار دن پہلے پتہ چل گیا کہ گورنر سلمان تاثیر اسلام آباد آنے والے ہیں؟؟؟؟؟

ان سوالات کی وجہ سے اٹھنے والا میرا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ سلمان تاثیر کی شہادت کے پیچھے اس وقت کی صوبائی حکومت کے کسی بڑے کا ہاتھ ضرور ہے. ....

آئیے آگے چلتے ہیں -

اتنے بڑے قتل کے مقدمہ میں اگرچہ شروع میں ممتاز قادری کے علاوہ اس کے خاندان اور دوستوں سمیت کئی افراد کو گرفتار کیا گیا لیکن چالان صرف اور قادری کو ہی کیا گیا. .ڈیوٹی محرر سے لے کر  صادق آباد کے امام مسجد جن کا اس قتل میں قلیدی کردار تھا کو تھانے بلا کر پوچھ گچھ کرنے کی زحمت بھی نہ کی گئی
اس کے علاوہ 8 جنوری 2011 کو سبزہ زار لاہور سے کسی اہم ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا .اخبارات کے مطابق گرفتار ہونے والے اس شخص کے فون سے ممتاز قادری کو حساس نوعیت کے پیغام گئے تھے اور اس شخص کا سراغ قادری کے موبائل فون کے ڈیٹا سے ملا. .
اس شخص کا بھی مقدمہ کے چالان میں کوئی ذکر نہ تھا
  پولیس کی تفتیش کی طرح مقدمہ کا ٹرائل بھی عام حالات سے ذرا ہٹ کر تھا. .
11 جنوری کو ملک اکرم اعوان کی عدالت میں ہی قادری نے اپنے پہلے بیان میں ہی اعتراف جرم کر لیا تھا
  15 فروری کو راجہ اخلاق احمد کی عدالت میں قادری پر فرد جرم لگائی گئی. ..
اس مقدمے کی زیادہ تر کاروائی اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ہی سنی گئی کیوں کہ جس ڈھٹائی کے ساتھ اور بغیر کسی خوف اور خطر کے سنی تحریک کے لوگ وکلا، ججوں اور مقتول کے اہل خانہ  کو ڈرا دھمکا رہے تھے اس سے عدالت میں یہ کیس سننا نا ممکن ہو گیا تھا..
مثال کے طور پر 12 جنوری کو سنی تحریک کے سربراہ شاداب قادری نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے سلمان تاثیر کی بیٹی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ممتاز قادری سے متعلق بیان بازی سے رک جائے نہیں تو اس کا انجام بھی وہی ہو گا جو اس کے باپ کا ہوا ہے
اسی پریس کانفرنس میں شاداب قادری نے اقلیتی رہنما شہباز بھٹی کو بھی دھمکی دی کہ وہ آسیہ کی ہمدردی چھوڑ دے نہیں تو اس کے ساتھ بھی سختی سے نمٹا جائے گا اور ٹھیک 20 دن بعد شہباز بھٹی کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے  ..

ان بیانات کو ملک کے تمام اخبارات نے شائع کیا لیکن اس کے باوجود شاداب قادری کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ ہوئی اس کے علاوہ ہر پیشی پر سیکڑوں لوگ جیل کے باہر بھی پہنچ جاتے تھے اور سلمان تاثیر کے خلاف نعرے بازی کرتے. .

محض چار مہینوں میں چار ججوں نے کیس سننے سے انکار کیا تھا کیونکہ ان کے اہل خانہ کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا تھا ...
26 اگست کو سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو لاہور کے دل اور سب سے زیادہ مصروف روڈ مین بلیوارڈ گلبرگ سے اغوا کر لیا جاتا ہے. .
اس سے چند ماہ پہلے شہباز بھٹی کے قتل اور شہباز تاثیر کے اغوا کے بعد کوئی جج بھی یہ کیس سننے کو تیار نہ تھا. .

ٹرائیل کے آخری مراحل میں پرویز علی شاہ جج تھے ان کو بھی مسلسل ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ...

بالآخر اکتوبر کے شروع میں ہی پرویز علی شاہ نے ایک بند کمرے کی عدالتی کاروائی میں ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا سنا دی. ...
اس فیصلے کے بعد جگہ جگہ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ شروع کر دیا گیا یہاں تک کہ وکلا کے ایک گروپ نے پرویز علی شاہ کی عدالت میں گھس کر توڑ پھوڑ کی. ..
پرویز شاہ کا راولپنڈی سے  تبادلہ کر دیا گیا اور وہ خود لمبی چھٹی پر بیرون ملک چلے گئے -

6 اکتوبر 2011 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں قادری کی سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی جس کی سنوائی تقریبا تین سال کے بعد شروع ہوئی -

جسٹس شوکت عزیز اور جسٹس نورالحق پر مشتمل بنچ نے کیس سننا شروع کیا تو یہاں پر بھی قادری کے چاہنے والوں نے احتجاج ریلیوں اور نعروں سے عدالت کو مرعوب کرنا جاری رکھا. ..
قادری کی پیروی کے لیے ہر تاریخ پر وکلا کا ایک جم غفیر عدالت میں پیش  ہوتا جس میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف سمیت دو ریٹائرڈ جج بھی شامل ہوتے تھے. .
خواجہ شریف سے اگر لوگ زیادہ واقف نہ ہوں تو بتا دیتا ہوں کہ یہ نواز شریف کے سب سے چہیتے جج رہے ہیں اور خواجہ صاحب کا سر بھی  نواز شریف کے احسانات کی وجہ سے سدا ان کے سامنے جھکا رہا -
اتنا کچھ کرنے کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ نے 9 مارچ 2015 کو فیصلہ سناتے ہوئے قادری کی سزا کو برقرار رکھا. ..ایک بار پھر وہی احتجاج اور توڑ پھوڑ شروع ہو گئی-

اس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے بھی 6 اکتوبر 2015 کے اپنے فیصلہ  میں ابتدائی دہشتگردی کی عدالت میں دی گئی سزا کو برقرار رکھا اس کے بعد سپریم کورٹ میں Review کی درخواست دائر کی گئی جب وہ بھی مسترد کر دی گئی تو پھر آخری plea کے طور پر صدر کے پاس رحم کی اپیل بھجوائی گئی -

جسے چند روز پہلے نامنظور  کر دیا گیا تھا لیکن صدر کے فیصلے کو خفیہ رکھا گیا تھا اور پھر اچانک کل قادری کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔

قادری کے پھانسی کے فیصلے سے میں سو فیصد اتفاق کرتا تھا ہوں اور رہوں گا-
لیکن میرے لیے سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس قادری کو بچانے کے لیے حکومت پنجاب نے سارے جتن کیے. ..
اپنی ذیلی جماعت سنی تحریک اور صاحبزادہ فضل کریم کے ذریعے جلوس نکلوائے جسٹس خواجہ شریف اور دیگر چہیتے وکلا کے ذریعے کیس کی پیروی کروائی شہباز تاثیر کے اغوا کو آسان اور ممکن بنایا ،نواز شریف کے داماد اور مریم صفدر کے خاوند کیپٹن صفدر کے ذریعے مساجد میں قادری کی حمایت میں تقاریر کروا کر مخصوص حلقہ کو  مستقل یقین دلائے رکھا کہ حکومت قادری کے ساتھ ہے جن میں سے ایک تقریر میرے ٹویٹر اکاؤنٹ پر موجود ہے -

پھر اچانک ایسی کون سی مجبوری آ گئی کہ پھانسی کی سزا کے منتظر تقریبا 8000 قیدیوں... جی ہاں 8000 افراد میں سے صرف قادری کو ہی اتنی عجلت میں لٹکایا گیا ؟؟؟
کہیں یہ تو نہیں کہ قادری نے ایم کیو ایم کے صولت مرزا کی طرح کچھ راز افشا کرنے کی دھمکی دے دی تھی؟ ؟؟؟

سلمان تاثیر کے والد محمد دین کشمیری تھے اور محمڈن اینگلو اورینٹل میں پروفیسر تھے - جبکہ ان کی والد بلقیس انگریز تھیں جنہوں نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا
1950 میں سلمان تاثیر کی عمر 6 سال تھی جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا اس لیے سلمان تاثیر اور ان کے بہن بھائی کی پروش ان کی ماں نے کی -

سلمان تاثیر نے انگلینڈ سے اکاونٹیسی میں  پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور پاکستان میں مختلف اکاونٹ کمپنیاں قائم کیں جو مختلف شعبوں میں اپنی خدمات پیش کر تی تھیں اس کے علاوہ World call نامی ٹیلیفون بوتھ کا کاروبار بھی انہیں کا تھا اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا پہلا پرائیویٹ ٹی وی چینل STN بھی سلمان تاثیر کی ہی ملکیت تھا -

سیاسی طور پر وہ ذوالفقار علی بھٹو کے جیالے تھے اور پیپلزپارٹی کے قیام سے ہی وہ پارٹی سے وابستہ تھے. .
ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک میں بھی وہ شامل رہے. .
مارشل لا کے دوران قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں مسلسل چھ ماہ تک شاہی قلعے میں قید تنہائی کاٹی
کل 16 مرتبہ گرفتار ہوئے 1980 میں  جب مارشل لا اپنے عروج پر تھا تاثیر صاحب نے ذوالفقار علی بھٹو پر کتاب لکھ ڈالی  جب پاکستان کے پرنٹرز نے کتاب چھاپنے سے انکار کیا تو ہندوستان کے پرنٹرز سے چھپوا لی
1988 میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے ایم پی اے منتخب ہوئے. .
2008 میں جب زرداری صاحب صدر بنے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ شہباز شریف کے اوپر کسی جیالے کو گورنر بنایا جائے تو سب سے بہترین انتخاب سلمان تاثیر قرار پائے. .
سلمان تاثیر کے دور میں گورنر ہاؤس میں جیالوں کا رش لگا رہتا تھا. .
تقریب حلف برداری سے لے کر ان کی شہادت تک گورنر ہاؤس جیئے بھٹو کے نعروں سے گونجتا رہا-

شہباز شریف سلمان تاثیر کے بیانات سے تو پہلے ہی تنگ تھے لیکن جب گورنر راج لگا تو شہباز شریف اور سلمان تاثیر میں اختلافات شدید نوعیت اختیار کر گئے اور میرے خیال میں اسی وقت سلمان تاثیر کو منظر نامے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا
اگر محض تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کے باعث ہی ان کو شہید کیا گیا تو پھر اسی نوعیت کا بیان تو شیری رحمان نے بھی دیا تھا لیکن سلمان تاثیر کے خلاف ہی اتنی سخت تحریک چلائی گئی -
لاہور کے سیکورٹی سکوارڈ کو ہٹا کر راولپنڈی کے سکوارڈ کو لگانا..
ممتاز قادری جیسے جنونی پر پابندی کے باوجود سکوارڈ میں شامل کرنا سکوارڈ میں شامل دیگر اہلکاروں کی بھی گورنر کو بچانے کی کوشش نہ کرنا..
محرر ڈیوٹی کے خلاف کاروائی نہ کرنا ...
قادری کو قتل کی ترغیب دینے والے عالم دین کو شامل تفتیش نہ کرنا. .خواجہ شریف اور کیپٹن صفدر کا قادری کے دفاع میں کردار پھانسی کے منتظر 8000 افراد میں سے محض قادری کو ہی عجلت میں سزا دینا اور سب سے بڑھ کر تاثیر صاحب اور پنجاب حکومت میں پائی جانے والی نفرت ہی،
میرے وہ دلائل ہیں جن کے بل بوتے  پر میں یہ کہتا ہوں کہ قادری محض ایک مہرہ تھا اصل کھلاڑی کوئی اور ہے باقی ممکن ہے کہ آپ دوستوں کی رائے الگ ہو-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تحریر محمد ایوب جپہ ایڈوکیٹ


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔