میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعہ، 11 مارچ، 2016

اب کون ؟

اب کون سے موسم سے کوئی آس لگاۓ
برسات میں بھی یاد نہ جب اس کو ہم آۓ
مٹی کی مہک سانس کی خوشبو میں اتر کر
بھیگے ہوۓ سبزے کی ترائی میں بلاۓ
دریا کی موج میں آئی ہوئی برکھا
زردائی ہوئی رت کو ہرا رنگ پلاۓ
بوندوں کی چھما چھم سے بدن کانپ رہا ہے
اور مست ہوا کا رقص کی لے تیز کئے جاۓ
شاخیں ہیں تو وہ رقص میں پتے ہیں تو رم میں
پانی کا نشہ ہے کہ درختوں کو چڑھا جاۓ
ہر لہر پاؤں سے لپٹنے لگے گھنگھرو
بارش کی ہنسی تال پہ پازیب جو چھنکاۓ
انگور کی بیلوں پہ اتر آۓ ستارے
رکتی ہوئی بارش نے بھی کیا رنگ دکھاۓ. 

پروین شاکر


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔