میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 15 مارچ، 2016

آج میں اداس ہوں !

کل 14 مارچ کو چم چم کی سالگرہ تھی ، ماں ایڈوانس سالگرہ 13 تاریخ کو منا کر ، آڈٹ پر پشاور چلی گئی ، باپ دبئی میں بزنس ٹور پر تھا ۔ 

ساڑھے تین بجے ، جب چم چم سکول سئ آئی تو کہنے لگی ،
آوا آ آج میری برتھ ڈے ہے ، کیک منگوایا ،
میں نے کہا کہ گلاف کھیل کر واپس آتے ہوئے کیک لاؤں گا ،
کھیل ختم ہونے سے دس منٹ قبل سخت بارش شروع ہو گئی ہم چاروں دوست بھیگ گئے ۔
مہں سیدھا گھر آیا چم نے پوچھا ،
آوا کیک لائے ،
میں کے کہا ، میں بارش میں بھی گیا ہوں ، نہا کر کپڑے تبدیل کروں ۔ پھر چلتے ہیں ۔
چھوٹی کپتان بیٹی کو کہا ، جاؤ کیک لے آؤ ، اُس نے انکار کردیا ، کہ طبیعت پولن کی وجہ سے خراب ہے ۔
میں سخت تھکا ہوا تھا ، خیر نہا کر کپڑے تبدیل کر کے ، چم چم کو ساتھ لے کر اُس کی پسند کا کیک لینے گئے 7 بجے رات کا وقت تھا ۔ کیک لے کر واپس آئے ، تو بڑھیا نے بتایا ، کہ چم چم کے بابا ، دُبئی سے واپس آرہے ہیں وہ 9 بجے تک پہنچ جائیں گے پھر کیک کاٹ لیتے ہیں ۔
چم چم کی پھوپی بھی ، آفس سے یہاں آگئی تھی ، اُس نے چم چم کو بتایا کہ چاچو بھی آرہے ہیں وہ ایک سرپرائز گفٹ لا رہے ہیں ۔
چم چم ، چاچو کا انتظار کرنے لگی ۔ 9 بجے میں نے تو زبردستی کھانا کھا لیا ، کھانا لگا ، تو پھوپی نے بھی کھا لیا ،
بڑھیا کہنے لگی میں ، داماد اور اسد (چاچو) کے ساتھ کھانا کھاؤں گی ،
ساڑھے دس بجے ، چم چم کے بابا اور چاچو آئے ۔ چم چم کب کی سو چکی تھی ۔
بابا نے اُسے پیار کیا ، لاونج سے اٹھا کر نانو کے بیڈ پر ڈالا ۔ بڑھیا نے داماد کو بولا ،
" اسے اٹھا کر کیک کٹوا کر پھر سلا دیتے ہیں ، یہ آپ کا اور چاچو کا انتظار کر رہی تھی ، اِنہوں نے بہت کہا کہ کیک کاٹ لو مگر اُس نے کہا کہ چاچو سرپرائز لا رہے ہیں ، شاید بابا آرہے ہیں میں تب کیک کاٹوں گی "
داماد نے ایک جملہ کہا ،
" آنٹی ، کل کیک کاٹ لیا تھا نا !ہو گئی سالگرہ"
بس یہ جملہ مجھے اداس کر گیا ۔ 
 
داماد ، کیوں کہ تھکا ہوتھا ، وہ، چاچو اور بوبو اپنے والدین کے گھر چلے گئے ۔
صبح سکول جانے کے لئے چم چم اٹھی ، نانو پر غصے ہوئی " رات کو بابا آئے ، مجھے کیوں نہیں اٹھایا "
بابا کے لائے ہوئے کھلونے دیکھ کے بہل گئی اور سکول چلی گئی ۔
کیک ، فریج میں پڑا ہے !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میری " گولڈن پیرا ونگ " ھیروئین نے آج صبح (16 مارچ ) سکول جاتے ہوئے ، اپنا کیک کاٹا ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔