میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 16 مارچ، 2016

سلاسیم - مؤکلِ ماضی یا حال !


ابن صفی جاسوسی ناولوں کی دنیا میں ایک ایسا نام ہے جس سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو۔ ابن صفی ایک ایسے قلم کار کے طور پر دیکھے جاتے ہیں جن سے مشہور زمانہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی بھی اپنے معاملات میں گاہے بگاہے تربیت لیتی رہی۔ ان کی وفات کے بعد یہ سہرا مظہر کلیم ایم اے کے سر جاتا ہے جنہوں نے ابن صفی کے قارئین کو جاسوسی ناولوں کی صورت میں بہترین تحفے دیے۔ جن میں سے ایک تحفہ اخلاقی تربیت کی صورت میں تھا۔ ویسے تو بہت سے قلم کاروں نے ابن صفی کے کرداروں کو استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن مظہر کلیم ایم اے جیسی اخلاقی تربیت کوئی بھی نا کر سکا۔
ملتان سے تعلق رکھنے والے مظہر کلیم ایم اے کا شمار جاسوسی ناولوں کے قلم کاروں کے درمیان ایک خاص مقام رکھنے والے قلم کار کے طور پر ہوتا ہے۔ ابن صفی سے متاثر یہ قلم کار اب تک سینکڑوں جاسوسی ناول اپنے قارئین کو دے چکا ہے۔ پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل کس طرح سے دور جدید میں ہونے والے واقعات کی خبر دے گیا اُن کا اندازہ آج ہمیں ہالی وڈ کی ایکشن سے بھرپور فلمیں دیکھنے سے ہوتا ہے۔ نجانے کیوں مجھے احساس ہونے لگتا ہے جن ناولوں سے حکومت پاکستان کو استفادہ کرنا چاہیے تھا اُن ناولوں سے مغربی ممالک نے استفادہ کیا۔
آج سے بارہ سال پہلے میں نے مظہر کلیم ایم اے کے ایک ناول کا مطالعہ کیا جو کہ شاید خیر و شر کے موضوع پر لکھا ہوا تھا۔ اس ناول کا نام تو مجھے یاد نہیں لیکن وہ الفاظ ضرور یاد ہیں جن کا میں اس مضمون میں ذکر کرنا چاہ رہا ہوں۔ مظہر کلیم ایم اے اپنے اس ناول کا آغاز نعمانی کے کردار سے شروع کرتے ہیں جو آج صبح ہی سے ایک قدیم کتاب کے مطالعے میں غرق ہوتا ہے۔ اس کتاب میں وہ ایک موکل کے بارے میں پڑھ رہا ہوتا ہے جس کا نام سلاسیم ہوتا ہے۔ کتاب لکھنے والا اس موکل کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ دنیا کا طاقتور ترین موکل ہے اور اس سے کوئی بھی کام لیا جاسکتا ہے۔ اتنی دیر میں صفدر یا جولیا نعمانی کے فلیٹ پر آٹپکتے ہیں، اور نعمانی انہیں " سلاسیم موکل" کے بارے میں بتاتا ہے اور دریافت کرتا ہے کہ ایسا حقیقی زندگی میں ممکن ہے بھی یا نہیں کہ ایک موکل اتنا طاقتور ہو کہ اس سے دنیا کا کوئی بھی کام لیا جاسکتا ہو۔
سلاسیم نام کا یہ موکل پتا نہیں اوروں کو یاد رہا یا نہیں لیکن بحیثیت ایک قاری میرے ذہن کے کسی گوشے میں رہ ہی گیا۔ اس موکل سے میری ملاقات ناول پڑھنے کے پانچ یا چھ سال بعد ہوئی۔ ہوا یوں کہ میرے ایک دوست شاہ صاحب کے مرید تھے اور باقاعدگی سے ہر سال ماہ رمضان کا اعتکاف انہی کے پاس گزارتے تھے۔ میرے دل کو خواہش ہوئی کہ اس بار جب وہ اعتکاف ختم کریں تو ان کا استقبال کروں۔ میں دو سو کلومیٹر کا سفر کرکے شاہ صاحب کے پاس چولستان پہنچا جہاں شاہ صاحب اپنے چند ایک مصاحبین کے ساتھ رہتے تھے اور وہاں مسجد میں تقریبا پچاس یا اس سے زائد لوگ اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے۔ میں اتنی تعداد دیکھ کر کچھ حیران ہوا لیکن خوش بھی ہوا کہ شاہ صاحب بلا کسی معاوضے کے اتنے لوگوں کی پچھلے دس دنوں سے خدمت کر رہے ہیں۔
خیر اسی شام چاند نظر آگیا، لیکن اعتکاف بیٹھنے والوں کو آنے والی صبح سے پہلے مسجد چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ میں اپنے دوست کے پاس مسجد میں جا بیٹھا، عشا کی نماز ہوئی تو شاہ صاحب نے امامت کرائی اورتمام اعتکاف بیٹھنے والے نماز کے بعد ذکر و اذکار کے لیے لائن میں بیٹھ گئے۔ کھجور کی گٹھلیاں بانٹی گئیں اور شاہ صاحب نے فرمایا کہ ایک لاکھ درود پڑھا جائے۔ تمام لوگ درود پڑھنے لگے تو میں نے ساتھ ساتھ کھجور کی گٹھلیوں پر درود پڑھنا شروع کر دیا۔ نیکی کرنا کسے اچھا نہیں لگتاہے۔ 
درود کا ایک لاکھ پورا ہوا تو شاہ صاحب نے فرمایا کہ (اُن کے نسبی) سلسلے کی حفاظت کے لیے " شاتل وجو" (میں نے صحیح لفظ میں ترمیم کر دی ہے) پڑھیں۔ یہ لفظ میرے لیے نیا تھا۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ بہت سے لوگ اس لفظ کو نہیں پڑھ رہے۔
ذکر و اذکار کی محفل ختم ہوئی تو میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ شاتل وجو کا کیا مطلب ہے، انہوں نے کہا یہ تو مجھے نہیں معلوم لیکن سنا ہے یہ کوئی موکل ہے۔ اسوقت میرے ذہن میں "سلاسیم " کا خیال تک بھی نہیں تھا۔
میں نے سن رکھا تھا کہ ماضی میں بہت سے بزرگ بھی اپنے کچھ کاموں کے لیے نیک و صالح جنات کو استعمال کیا کرتے تھے جنہیں وہ موکلات کا نام دیتے تھے۔ خیر میں نے شاہ صاحب کو ایک نیک صالح انسان سمجھا ہوا تھا تو میں انہیں انہی بزرگوں میں سے سمجھا۔ لیکن واپسی کے راستے میں، میں نے اپنے دوست سے پوچھا "شاتل وجو" کا مطلب تو پتا کر کے بتائیں۔ انہوں نے کسی خاص الخاص مرید کو فون کیا اور انہوں نے جو مطلب بتایا وہ میرے لیے ہوش اُڑا دینے کے لیے کافی تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ چہرہ بگڑ جائے۔

میں نے اپنے دوست سے کہا یہ لفظ تو ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔  شاہ صاحب اپنے سلسلے کی حفاظت کے لیے ایک ایسے موکل کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں جو کہ چہرہ بگاڑ دے۔ میرے دوست بھی جو شاید مطلب جاننے کے بعد ایسا ہی کچھ سوچ رہے تھے بولے مجھے نہیں اندازہ تھا کہ اس کا مطلب یہ ہوگا، بہرحال میں ویسے بھی ان لفظوں کو پڑھنے میں احتیاط سے کام لیتا ہوں نا معلوم مجھے لفظ موکل ہی کیوں مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ 

میں نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔ سالوں پر سال گزر گئے۔ کہ میرا گزر ملتان سے ہوا۔ میں وہاں ایک پلازے میں کچھ شاپنگ کرنے کی غرض سے جا داخل ہوا، لیکن پہلے مجھے اپنی گاڑی بیسمنٹ میں پارک کرنی تھی۔ بیسمنٹ اپنے ڈیزائن کی وجہ سے منفرد سی تھی۔ بیسمنٹ کا ڈیزائن شاید اہرام مصر سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا اور دیواروں پر ایک ایسے شخص کی بھی تصویر بنی ہوئی تھی جس کا سر تو کسی گدھے کی مانند تھا لیکن دھڑ کسی انسان کی مانند۔ مجھے یہ تو نہیں معلوم تھا کہ اس شخص کا کیا نام ہے لیکن میں اس گدھے جیسے سر والے کو اہرام مصر کی دیواروں پر بنا ہوا دیکھ چکا تھا۔
اسوقت میرے ذہن میں کوئی بات نا آئی، لیکن جونہی ہی میں شہر سے باہر سکون کی راہ پر آیا تو میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کی تیزی سے کوندا کہ یقینا یہ وہی موکل " شاتل وجو" ہے جس کو شاہ صاحب اپنے (نسبی) سلسلے کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جوں جوں میں اس بارے میں مزید سوچتا گیا میرا یقین اور پختہ ہو تا گیا۔
اس لفظ کا مطلب تھا کہ چہرہ بگڑ جائے اور اگر اس گدھے کے سر والے انسان کو دیکھا جائے تو اس کا بھی چہرہ بگڑا ہوا ہے۔ 

گویا فراعین مصر کے پاس کوئی ایسا علم تھا جس کے ذریعے وہ اپنی سلطنت کی حفاظت کرتے تھے اور اس کے لیے وہ اسی گدھے کے سر والے موکل " شاتل وجو" کو استعمال کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے اہرام مصر کے اندر جا بجا اس گدھے کے سر والے موکل کی تصاویر بنی ملتی ہیں۔ 
یقینا جو بھی فراعین مصر کے بارے میں برا سوچتا ہو گا اس کا چہرہ بگڑ جاتا ہو گا جس کی وجہ سے تاریخ فراعین مصر کو ظالم اور جابر بادشاہوں کے طور پر دیکھتی ہے۔ اہرام مصر کی دیواروں پر اس موکل کی تصویر کنندہ ہونا بھی خارج از وجہ نہیں ہوگی۔ 

اہرام مصر کی تعمیر کا مقصد فراعین مصر کا ایک عقیدہ تھا جس کا نظریہ یہ تھا کہ ایک نا ایک دن دوبارہ فراعین مرنے کے بعد جی اُٹھیں گے اور دنیا پر حکومت کرنے لگیں گے۔ اہرام مصر کی تعمیر آج بھی دنیا کے لیے ایک عجوبہ ہے اور بہت سے محقیقین کا خیال ہے کہ اہرام مصر کی تعمیر میں نامعلوم مخلوقات کا ہاتھ ہے کہ ایسی عمارت بنانا ایک انسان کے ہاتھ کا کام نہیں ہے۔
مظہر کلیم ایم اے کے لکھے گئے ناول میں شاید اسی موکل کا ذکر تھا جو دنیا کا ہر کام کرسکتا ہے اور اسی ناول میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ دنیا میں صرف چند لوگوں کے پاس یہ موکل ہے۔ میں اپنے دوست سے کئی بار سن چکا تھا کہ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارا سلسلہ تمام سلسلوں پر حکومت کرتا ہے اور یقینا شاہ صاحب کی یہ سٹیٹمنٹ اسی سلاسیم موکل کی وجہ سے تھی جو ان کے تمام احکامات پر عملدرآمد کے لیے کام آتا ہے۔
اگر ان سب باتوں اور شواہد کو جوڑا جائے تو ہمیں اہرام مصر کی تخلیق کا راز بھی افشاں ہوتا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ اہرام مصر کی تخلیق انہیں سلاسیم موکلوں کے ذریعے ہوئی ہو گی جو آجتک دنیا کے لیے ایک عجوبے کہ حیثیت رکھتا ہے 


*******************************
نوٹ: یہ مضمون میرے اِن بکس میں آیا ۔ جو غالباً کسی شاہ صاحب کے لئے لکھا گیا تھا تاکہ اُن کے مؤکل کو سلسلہ نسب ، فراعینِ مصر کے مؤکلان سے جوڑا جائے ، اور مزید جنھیں سامری کے قابو یافتگان سے رشتہ داریوں میں استوار کیا جائے ۔ 

مذہبی ذہنی مریضوں کی عقلوں کو سلب کرنے کے لئے یہ ایک بہترین مضمون تھا ، جس میں یقیناً مذہبی ٹوٹکوں کا بھی چھڑکاؤ کیا ہوا تھا ، معذرت کہ میں نے وہ ڈیلیٹ کر دیئے ہیں ۔
فراعینِ مصر کی دیواروں کی یہ تصاویر جو میں نے لگائی ہیں ، گوگل بھی آپ کو دکھا دے گا ، انہیں دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اِن تصاویر کا پیغام کیا ہے ؟

( مہاجر زادہ) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں:   آپ کے اند رایک ہیر و ہے

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔