میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 18 مارچ، 2016

حقوق نسواں بل : ایک عورت کے تاثرات

..حقوق نسواں بل کے ثمرات. ..


کون سی چیز ہے جو مرد کو عورت پر ہاتھ اٹھانے پر مجبور کرتی ہے. . اس کے عوامل ہر دو طرف موجود ہو سکتے ہیں مرد میں بھی اور عورت میں بھی ..
مرد شکی، کڑوا، متشدد ،غصیلا، چڑچڑا ، ہائپر ہو سکتا ہے اور باہر کا غصہ اور جھنجھلاہٹ بیوی پر اتار سکتا ہے
اسی طرح عورت کا بد زبان یا پھوہڑ ، شکی یا بدکردار ہونا مرد کو غصہ دلانے کا موجب ہو سکتے ہیں. . لیکن کیا غصہ صرف مرد کو آتا ہے. . کیا غیرت صرف ایک مرد کا اثاثہ ہے ..
نہیں. .
دراصل یہاں دونوں اصناف کی تربیت کا فرق نظر آتا ہے ..
مرد طاقتور ہے .. چیخ چلا کر یا ہاتھ اٹھا کر غصہ نکال لے گا جبکہ عورت اپنے سے کمزور (عمومااولاد) پر چیخے چلائے گی اور ہاتھ اٹھائے گی ..
بہنے والی چیز کا اصول ہے کہ وہ نچلی سطح کی طرف بہتی ہے اسی طرح غصہ بھی طاقتور سے کمزور کی طرف رخ کرتا ہے .
جب تک عورت خود اپنی زات میں طاقتور نہ ہو .. خود کفیل اور مضبوط بیک گراونڈ کی نہ ہو وہ کمزور پارٹی رہتی ہے .. ایسے وقت میں اس کا ہتھیار صبر شکر اور مصلحت کوش معاملہ فہمی ہے نہ کہ زباں درازی و ہاتھا پائی ..
جب عورت خود کفیل ہوتی ہے تب مرد بھی اس سے مناسب برابری کا رویہ رکھنے پر خود کو مجبور پاتا ہے .. کیونکہ ایسی عورت اپنی کسی مجبوری سے نہیں بلکہ اپنی مرضی اور محبت سے اپنے مرد کے ساتھ رہتی ہے. .
اب ہوا کیا ہے !
اس حقوق نسواں بل نے عورت کے ہاتھ میں ایسی کلہاڑی پکڑا دی ہے جس سے وہ خود اسی شاخ کو کاٹ دیتی ہے جس پر اس کا آشیانہ قائم ہے ..

مرد غصے میں ہاتھ اٹھاتا تھا تو عورت چپ کر جاتی تھی ..گھر قائم رہتا تھا..
اب عورت کو شکایت کرنے کا ادارہ مل گیا اور موقع بھی ..
لو جی مار کھائی شکایت لے کر قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا .. شنوائی ہوئی .
شوہر کو سبق سکھانے کی خواہش کو عملی جامہ پہنایا. .
دو دن گھر میں اکیلے راج کیا تیسرے روز غصے اور انا کے پہاڑ پر چڑھا شوہر گھر آتے ہی چار حرفی طلاق تین دفعہ منہ پر مار کر'' گھر میری جنت'' سے نکال باہر کرتا ہے ..
اس بل نے بھری پستول عورت کے ہاتھ میں دے دی ہے جس کا نشانہ شادی شدہ زندگی کی کنپٹی ہے. ...
مغربی ممالک میں'' مرا ہاتھی سوا لاکھ کا'' کے مصداق طلاق عورت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے..
جہاں طلاق کی صورت میں شوہر کی آدھی جائیداد بیوی کو مل جاتی ہے اور بچوں کا خرچ بھی شوہر کے ذمہ رہتا ہے. ..

ہمارے معاشرے میں جہاں بہن اور بیٹی پہلے ہی حق وراثت سے محروم رکھا جاتا ہے اور شرعی حق مہر کے نام پر بتیس روپے سولہ آنے طلاق کے تین لفظوں کی فیس مقرر کر دی جاتی ہے اور نان نفقہ حاصل کرنے کے لیے خاتون کو عدالتوں کے دھکے کھانے پڑتے ہیں وہاں یہ بل خاندان کی جنت میں سانپ کا کردار ادا کرے گا ..
عورت طلاق کی صورت میں نہ صرف گھر سے محروم ہوتی ہے بلکہ روپے پیسے کی محتاج بھی ہو جاتی ہے..
اس بل کی ذیلی شق میں طلاق دینے کی صورت میں شوہر کو بھاری جرمانے اور نان نفقہ کی فوری ادائیگی کا پابند بنایا جائے تو شاید یہ بل گھریلو تشدد کو روکنے اور گھر کو ٹوٹنے سے بچانے والا ثابت ہو سکے..

اس بل کے پاس کیے جانے سے پہلے عورت کو خود کفیل کرنے کی کوئی سکیم شروع کی جانی چاہیے تھی .. ناخواندہ اور غیر ہنر مند عورت حقوق نسواں بل کے منطقی نتیجے . طلاق .. کے بعد کدھر جائیں گی. .
حکومت کو ہر شہر کی آبادی کے حساب سے مزید دارالامان اور یتیم خانے قائم کرنے چاہیے .. کیونکہ اب ان کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ ہو گی. ..

نیز خواتین کی ہنرمندانہ تربیت کے لیے بھی ضروری اقدامات کیے جائیں..

ٹوٹے گھروں کے یتیم و مسکین نما بچوں کی مفت تعلیم و تربیت اور ذہنی ٹوٹ پھوٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے تعلیمی ادارے جہاں صرف ایسے ہی مخصوص مسائل میں گھرے بچے تعلیم حاصل کریں تاکہ دوسرے خوشحال گھروں کے بچوں کے مقابل وہ ذہنی الجھن اور احساس کمتری کا شکار نہ رہیں. .

دوسری شادی کروانے والی میرج بیوروز بھی کمر کس لیں.. اگلے چند مہینے میں دوسری شادیوں کا سیزن شروع ہونے والا ہے

ازواج خاندانی منصوبہ بندی کے آپریشن کا فیصلہ دیر سے کریں تا آنکہ طلاق کا خطرہ یا دوسری شادی کا خیال ٹل جائے. .
میری تمام بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ شکایت درج کروانے سے پہلے آنے والے دنوں کا تمام حساب کتاب لگا لیں اور دنیا کی ٹھوکروں اور بھابیوں کے طعنوں کے پہاڑ کی اونچائی بھی ماپ لیں .. شوہر کے مزاج کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے ممکنہ رد عمل کا بھی اندازہ لگا لیں ..یاد رکھیں ''کمان سے نکلا تیر واپس نہیں آیا کرتا ''
ٹھنڈا پانی پئیں وضو کریں اللہ کریم کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کریں اور اپنی طبیعت کی نرمی اور مصلحت کوشی کے ہنر کو آزمائیں. .ان شاءاللە افاقہ ہو گا

تمام بردان کے لیے بھی یہی مشورہ ہے کہ بھیا آپ بہت طاقتور مرد ہیں. . اس طاقت کو اپنی فیملی کو تحفظ اور اچھی زندگی دینے کے لیے استعمال کریں. . نا کہ انہیں دبانے کے لیے یا مارنے پیٹنے کے لیے .. .
اسی طرح طلاق کے الفاظ منہ سے نکالنے سے پہلے مندرجہ ذیل مسائل پر غور فرما لیں.. آج جو عورت آپ کی غیرت ہے کل اسے در در رلتے کیسے دیکھیں گے . اپنی بیٹی کو مطلقہ ماں کے تناظر میں کیسے بیاہ پائیں گے. اس کی تربیت اس کی ماں کے بغیر کیسے کر پائیں گے.
طلاق دینے سے پہلے چار گلاس ٹھنڈا پانی پئیں
وضو کریں.. ہو سکے تو غسل کریں
اور دل لگا کر نماز پڑھیں..
ہو سکے تو کچھ دیر گھر سے باہر سیر کر آئیں. .
اب سوچیں کیا اب بھی اتنا جوش اور غصہ باقی ہے .. ان شاء اللہ  آپ اپنے جوش پر قابو پا لیں گے اور ہوش کادامن تھام لیں گے

دعاگو. .
ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔