میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 20 مارچ، 2016

خالص مٹی سے بنا ہوا گھر

خالص مٹی سے بنا ہوا گھر !
ہمارے بچپن میں ، اِس میں پنکھے نہیں لگائے جاتے تھے ۔ پانی کے مٹکے ، لکڑی پر تو نہیں مٹی کے تھڑے پر ، پٹ سن کی بوری یا خس میں لپیٹے ہوتے تھے ، پینے کے بعد جو پانی بچتا تھا ، وہ بوری پر ڈال دیا جاتا۔
کیا ٹھنڈا اور سوندھی خوشبو والا پانی ہوتا تھا ،
ہاں مٹکے اس طرح دھوپ میں بھی نہیں پڑے ہوتے تھے ۔
نیم کے درخت کی چھاؤں میں ہوتے ۔
ورنہ دھوپ میں تو پانی " بھاپ " مارتا ہے ۔  گرو جی

ہمارے بلاگروں کے بلاگر ، نجیب عالم شیخ عرف شیخو جنھیں میں پیار سے ، گرو ! کہتا ہوں کی لگائی ہوئی اِس پوسٹ نے چشمِ زدن میں ماضی میں دھکیل دیا ۔
اور یکے بعد دیگرے یادیں ، ذہن کے گوشوں سے چھلانگ مار مار کر باہر نکلنے لگیں ،
 بلکل ایسے جب دادی ، میر پور خاص میں گورنمنٹ کی طرف سے مہاجروں کو الاٹ کئے گئے اسی طرح کے کچی اینٹوں سے بنے ہوئے گھر میں مرغی کا ٹوکرا صبح صبح اٹھاتیں تو دس بارہ چوزے کُودتے ہوئے باہر نکلتے تو تین سالہ نمّو ، کو پہلے ہی وہ چارپائی پر بٹھا دیتیں وہ چوزوں کی شرارتوں پر کھلکھلا کر ہنستا ۔
" دادی ، وہ تالا تودا ، توترے میں ہے" نمّو چلاتا
" اُتے مُدے دو ، دادی اُتے مُدے دو"
بھورے ، سفید ، سرمئی چوزوں کی فوج میں ایک ہی کالا چوزہ تھا ، جو بہت سست تھا ، وہ دادی نے نمّو کو دے دیا تھا ۔
جب دادی چوزے کو نمُو کے ھاتھ میں چارپائی پر دیتیں تو وہ وہیں بیٹھا رہتا ، باقی تو بہت تیز تھے ، ایک تو نمّو کے ہاتھ سے باجرہ چُگتے وقت بہت زور کی ٹھونگیں مارتے اور دوسرے موقعہ پا کر چارپائی سے چھلانگ مار کر دوڑ جاتے ۔
نمّو کو چوزوں سے ڈر لگتا تھا ، کیوں کہ وہ
نمّو کے پاؤں پر ٹھونگیں مارا کرتے اور نمّو سمجھتا کہ وہ اُسے کھانے لگے ہیں ۔
کچی اینٹوں سے بنا ہوا یہ مکان ،
نمّو کےچچا کو الاٹ ہوا تھا اور نمّو چھٹیوں میں اپنی امی ، آبا ، آپا اور چھوٹے بھائی کے ساتھ ایبٹ آباد سے میرپورخاص چھٹیاں گذارنے آیا تھا ۔ یہ غالبا دسمبر1956 کی بات ہے ۔
دادی گھر کا پورا صحن لیپتیں ، گھر کے ایک کونے میں چولہا تھا ۔ پچھلے حصے کی طرف نکلنے والے دروازے کے باہر ، دادی نے کیکر کی پرانی ٹہنیوں کی دیوار بنا کر جامن ، امرود اور موگرے کے پودے لگائے تھے  اور سامنے کے صحن کے بیچوں بیچ نیم کا پودا لگا تھا جو عارضی مہاجر کیمپ سے ، اس مکان میں آنے کے بعد دادی نے لگایا تھا ۔ 
اِس کے نیچے دادی نے چبوترہ بنایا تھا ، اُس میں پکی اینٹوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈالے تھے اور باورچی خانے کی طرف دو مٹکیاں رکھی تھیں جن میں سے ایک میں دادی سونف کا پانی بھی ڈالتیں جو خوشبو کے ساتھ ھاضم بھی ہوتا اور دائیں بائیں دو " گول"۔
 گول، سندھ میں استعمال ہوتا ھے مٹی کا بنا ہوا یہ بڑا مٹکا ہوتا ہے ، اِس میں پانی بھی بھرتے ہیں اور چوہوں سے بجانے کے لئے گندم رکھنے کے کام بھی آتا ہے ۔
اِس میں سے پانی نکالنے کے لئے ، دادی نے ناریل کے خول کے ساتھ لمبی لکڑی لگا کے پیالہ بنایا تھا ۔
صبح صبح سرکاری ماشکی آتا وہ دونوں مٹکے اور دو گول بھر جاتا ، جو سارا دن کی پانی کی سپلائی ہوتی ۔
یہی پانی صبح صبح ماشکی کے آنے سے پہلے پودوں کو بھی ڈالا جاتا اور لپائی کے کام بھی آتا ۔
نیم کے درخت سے اکلوتے کمرے اور باورچی خانے کے سامنے ایک دالان سا بنا تھا ، جو ایک فٹ اونچا تھا اور مزید ایک فٹ کی مٹی کی دیوار تھی، جس پر خصوصی لپائی ہوتی ، اور وہاں سے آگے جوتے لے کر جانا سختی سے منع تھا ۔
چوزے اور مرغی کو دادی نے استشناء دی ہوئی تھی کیوں کہ وہ مار کے ڈر کو ایک طرف رکھ کر اِس پوّتر جگہ گُھسنے کا جرم کر لیتی ۔ اگر انہیں صبح گھر میں روکا جاتا ، ورنہ ، دانہ ڈالنے کے بعد دادی انہیں باہر کا راستہ دکھاتی جہاں وہ اپنے دوسری ہم جولیوں کے ساتھ تفریح ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنا اور لڑائی جیسا کھیل کھیلتیں ۔
نیم کے درخت کے دادی بتاتیں بہت سے فائدے ہوتے ہیں ، لیکن نمّو اور آپا نے اُس کا نقصان ہی دیکھا ، دادی نے بڑے شوق سے سکھائے ہوئے پھول اور نرم پتے سنبھال کر رکھے تھے جو شام کو اُبالے جاتے ، آپا اور نمّو کو ساڑھے پانچ فٹ دُرّانی دادی ، اپنی رانوں میں دبا کر ایک ہاتھ سے منہ کھولتیں اور دوسرے ھاتھ سے نیم بھرے پانی کے پیتل کے لوٹے کی ٹونٹی نمّو کے حلق تک پہنچا دیتیں ، غڑاپ غڑاپ کی آوازوں کے ساتھ جیسے کوئی پانی میں ڈوبتا ہے ۔ وہ کڑوا پانی لگاتار دو ماہ تک نمّو کے پیٹ میں جاتا ، پھر روتے چنگھاڑتے نمّو کو دادی پیار کرتیں اور اپنی تجوری سے اپنے ہاتھ  سے بنائی بالو شاہی کا چوتھائی چورا کر کے آپا اور نمّو کے منہ میں ڈالتیں ۔ آپا تو اِس ظلم کا شکار کم ہوئی کیوں کہ وہ اور چھوٹا بھائی ، امی کے ساتھ ، آدھا کلومیٹر دور خالہ کے گھر اکثر جاتے اور نمّو دادی کے پاس رہتا ۔
اِس کا فائدہ نمّو کو آج تک یہ ہوا ، کہ کھٹمل کی دہشت انگیزی سے یکسر اور مچھروں کی یلغار سے نمّو آج بھی بچا رہتا ہے ۔ 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔