میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 31 مارچ، 2016

کمبخت میں تیرا باپ ھوں

 ابابیل اپنا گھونسلہ کنوئیں میں بناتی ھے۔ اس کے پاس اپنے بچوں کو اڑنے کی عملی تربیت دینے کے لئے نہ تو کوئی اسپیس یا سہولت دستیاب ہوتی ھے اور نہ ہی وہ کچی تربیت کے ساتھ بچوں کو اڑنے کا کہہ سکتی ہے کیونکہ پہلی اڑان میں ناکامی کا مطلب پانی کی دردناک موت ہے-
مزید کسی ٹرائی کے امکانات زیرو ہیں- آج تک اگر کسی نے ابابیل کے کسی مرے ہوئے بچے کو کنوئیں میں دیکھا ہے تو بتا دے..ابابیل بچوں کے حصے کی تربیت بھی اپنی ذات پر کرتی ہے-
بچوں سے پہلے اگر وہ اپنے گھونسلے سے دن بھر میں 25 اڑانیں لیتی تھی تو بچے انڈوں سے نکلنے کے بعد 75 اڑانیں لیتی ہے-
یوں ماں اور باپ 150 اڑانیں لیتے ہیں تا آنکہ اپنے بچوں کا دل و دماغ اس یقین سے بھر دیتے ہیں کہ یہاں سے اڑ کر سیدھا باھر جانا ہے اور بس !!
کوئی آپشن نہیں ہے۔ ایک دن آتا ہے کہ بچہ ہاتھ سےنکلے ہوئے پتھر کی طرح گھونسلے سے نکلتا ہے اور سیدھا فضاء میں تیرنے لگتا ہے !!!


ہماری اولاد ہمارے یقین میں سے اپنا حصہ پاتی ہے.. اگر ہم خود یقین اور عمل سے تہی دست ہونگے یا متذبذب ہوتے ہیں ، تو اولاد کو تربیت  کیسے دیں گے ؟
بچوں کو کہانیاں نہ سنایئے ! بلکہ عمل کر کے دکھایئے، یقین کریں وہ جتنا آپ پر اعتماد کرتے ہیں دنیا کے کسی کتابی ھیرو پہ نہیں کرتے..
اولاد کی خرابی میں خود ہماری اپنی کوتاہیوں کا ہاتھ ھوتا ھے، اولاد چونکہ ہمیں ہیرو سمجھتی ہے لہذا ہمارے کردار کا انتہائی دلچسپی سے جائزہ لیتی ہےـ
کہ میرا باپ کیا کرتا ہے !
ہم جوں جوں دوستوں کے ساتھ فراڈ کرتے ہیں، جھوٹے وعدے کرتے ہیں، ان کا مذاق اڑاتے ہیں ، محلے والوں سے ذلت آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اُن کی ہتک کرتے ہیں تو اولاد میں بھی وہی کردار ڈویلپ ہونے لگتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ اولاد ہمارے رنگ میں مکمل رنگ جاتی ہے،اُس وقت ھمیں اس کو شناختی کارڈ دکھا دکھا کر کہنا پڑتا ھے کہ

کمبخت میں تیرا باپ ہوں  ۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔