میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 26 اپریل، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 1 - شیطانی زنبیل

31  مئی 2012 کو شیطان نے اپنی زنبیل میں چھپائی ہوئی ، افراترازیوں سے ، انتشارِ اُمت کو پے درپے گھونسوں پر گھونے  لگانے کے لئے ، تمہید باندھی ۔ اب پرابلم یہ تھی کہ اگر مہاجرزادہ ، (موجودہ تاریکدانِ فیس بُک)  ۔ شیطان کے کلام کو پکچر پوسٹ بناتا ، تو اٗس میں فرموداتِ مُفتی بالکل نہیں شامل کئے جا سکتے ہیں ، لیکن "مُفت پُور کے مُفتی " کے ناجائز حکُم کو ٹالنا ، مہاجر زادہ کے بس میں ، نہیں ۔
چنانچہ قارئین سے گذارش ہے !
"مُفت پُور کے مُفتی " کےکمنٹس پر بے شک چھلانگ مار کر گذر جائیں لیکن مُڑ کر ایک نظر دیکھیں ضرور تاکہ
"مُفت پُور کے مُفتی " کو ڈھارس بنے کہ آپ کے دل میں پڑھنے کی جستجو تو ہے ، لیکن فرشتہ آپ کو پڑھنے نہیں دے رھا ۔ سنا ہے کہ، گنجا فرشتہ ،  شیطان کے مقابلے میں زیادہ زور آور تھا، جب سچ کا دور دورہ تھا مگر اب کمزور ہو چکا ہے ، اِس طاقت جب ہی ملتی ہے کہ جب سچ کے شیدائی اِسے اپنے کمنٹس کا سہارا دیں ۔
ھاں ایک بات اور سویڈن کا مہاجر شیطان ، رہنے والا کبھی کراچی کا تھا ، بغیر ویزہ ، شہر شہر لوگوں کو بھٹکاتا وہ سویڈن پہنچا اور اپنے ڈاکٹر حسین (پیپلز پارٹی) کی طرح اُسے بھی سویڈنی حکومت نے ، ایک کار خاص کے بدلے ویزہ دے دیا ۔ اور شرط یہ رکھی کہ سویڈنی خواتین پر خاص طور پر رحم کیا جائے ۔
چونکہ یہ سویڈش شیطان اردو یافتہ نہیں ہے ، لہذا مہاجرزادہ اِس کی درفطنیوں میں تسلسل پید کرے گا اور جامنی رنگ میں املاء درست کرے گا( یہ اور بات کہ مہاجرزادہ کی املا کو درست کراتے کرواتے ، ماسٹر "ماحومد  اصغُور خاں" نے بھی اُس کے باپ کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے ۔ باپ نے کچھ نہیں کیا پس دونوں ھاتھ پاؤں ماں کے دوپٹے سے باند کر دروازے سے ایسے ٹانک دیا جیسے دُھلے ہوئے کپڑوں کو ٹانکتے ہیں ) ۔  
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

قسط نمبر . 1 . راکھ کے ڈھیر میں شعلہ بھی ہے چنگاری بھی.

اسلامی تاریخ راکھ کا ڈھیر ہی ہے جسے چند غیر ذمہ دار مورخین نے یہودی لابی کے زیر اثر تحریر کیا ، 
وہ گاؤں گاؤں جاتے اور لوگوں سے وہاں کے حالات اور اپنے بزرگوں سے سنی ہوئی کہانیاں قلم بند کرتے رہے تحقیق کا ایک زرہ بھی اس میں شامل نہ ہوتا -( قصہ خوانی کی یہی معراج ہے شیطان)
 الف لیلہ جیسی افسانوی داستانوں کے علاوہ ایک خاص ذہنیت کے حامل لوگوں نے اس میں خوب رنگ آمیزی کی.
مگر چند حقیقت پسند اور با خبر لوگوں نے جو تحریر کیا تھا اس کو (اپنی کُتب میں) شامل تو کر لیا مگر جانچنے کی کوشش کسی بھی تاریخ دان نے نہیں کی .
شیطان نے آج تک کوئی کتاب نہیں لکھی ( سوائے ایک کتاب کے جو مختلف زبانوں میں ترجمے کے بعد منظر عام پر آئے گی ) میں نے صرف آپ ہی لوگوں کے تاریخ دانوں کی لکھی ہوئی مستند تاریخوں کی راکھ کے ڈھیر میں سے چند شعلے اور چنگاریاں تلاش کی ہیں جو قسط وار آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کروں گا-
عوام الناس کے بارے میں تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا- مگر اہل علم اور اہل دانش اس سے ضرور فائدہ اٹھا سکیں گے . 
بس آپ لوگ صرف اتنا کرم کریں کہ مجھے گالیاں نکالنے کی بجائے جس تاریخ دان کا حوالہ موجود ہو اس کو گالیاں نکالیں اگر نکال سکتے ہوں تو ؟ ( خبردار اُن عظیم تاریخ دانوں کو شیطان کے کہنے پر یہ کام مت کریں )
میں اپنی طرف سے کوئی بات نہیں لکھوں گا ، عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ ایک دم جذباتی ہوتے کی بجائے تحقیق کریں اور حوالہ دیکھے بغیر میری بات کو بے شک سچ نہ مانیں .اور یہ مناسب بات ہے جو میں کر رہا ہوں
 ( ٹھیک ہے ، مُفتی کچھ نہیں بولے گا درمیان میں )

آقا و مرشد     -  ٭٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ -  قسط نمبر 2


نوٹ 





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔