میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 29 اپریل، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 10

قسط نمبر 10 . اب جگر تھام کے بیٹھو.

پروفیسر لو تروپ ستو:
جہاد قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) اور بشارت و مغفرت " مجوسی اور رومی شہنشائیت کا تو پہلے ہے خاتمہ ہو چکا تھا مگر اسلام کی مخالف ایک زبردست قوت رومی باز نطینی شہنشائیت ابھی باقی تھی، حضرت ابو بکر صدیق نے حضرت معاویہ کے بڑے بھائی یزید بن ابی سفیان ، حضرت ابو عبیدہ ابن الجراح ، اور خالد بن ولید سیف الله کو جہاد شام پر مقرر کیا تھا اور انہوں نے شام اور فلسطین وغیرہ کو فتح کیا اور رومیوں کو شکستیں دیں،حضرت یزید بن ابی سفیان کی وفات کے بعد حضرت عمر فاروق نے حضرت معاویہ کو ان کے بھائی کی جگہ مقرر کیا اور انہوں نے خلافت فاروقی اور خلافت عثمانی میں رومیوں کو بری اور بحری معرکوں میں شکستیں دیں مگر قسطنطنیہ پرابھی تک پیش قدمی نہیں کی گئی تھی اور عرب کے بہادر ملک شام فتح کرنے کے زمانے ہی سے اس صدر مقام کو فتح کرنے کا خیال رکھتے تھے.اگر یہ شہر فتح ہو جاتا تو اسلام شمالی یورپ میں بلا مقابلہ غلبہ حاصل کر لیتا .
(صفحہ 214 حاضر العالم اسلامی تالیف پروفیسر لو تروپ ستو دار و مع تعلیمات امیر شکیب ارسلان )
 شیطان :
صفین کی خانہ جنگیوں کی نتائج نے حضرت معاویہ کی ان جہادی سر گرمیوں کو چند سال کے لئے ملتوی کر دیا تھا جو رومی نصرانیت کے خلاف انہوں نے شروع کی تھیں پھر ہجری 41 میں زمانہ خلافت ہاتھ میں لینے کے بعد چند سال کی متواتر جد و جہد سے انہوں نے جہازوں کا ایک عظیم الشان بیڑہ تیار کیا چنانچہ ہجری 49 میں حضرت معاویہ نے جہاد قسطنطنیہ کے لئے بری اور بحری حملوں کا انتظام کر لیا،بری فوج میں شامی عرب تھے خاص طور پر بنو کلب جو یزید کا ننہالی قبیلہ تھا اسکے علاوہ قریشی اور حجازی غازیوں کا دستہ تھا جس میں صحابہ اکرام کی جماعت شامل تھی .
شیطان:
اور اب جگر تھام لو کہ اس ساری فوج کا سپہ سالار یزید تھا ہاں وہی یزید جس کو تم گالیاں نکالتے ہو .یہی وہ پہلا اسلامی بحری جہاد تھا جس نے قسطنطنیہ پر جہاد کیا اور اسی اسلامی لشکر کے بارے میں الله کے رسول نے ساری فوج کو مغفرت کی بشارت دی تھی،حدیث بھی سن لو.
 

صحیح بخاری:
رسول الله نے فرمایا میری امت کی پہلی فوج جو قیصر کے شہر قسطنتنیہ پر جہاد کرے گی ان کے لئے مغفرت ہے.
صحیح بخاری جلد ١ صفہ 410 .
( آہ، ہر جنگ کے لئے ایک حدیث گھڑی گئی ۔ جس طرح معرکہ الہند کی محمد بن قاسم کے لئے گھڑی گئی جو اب بھی کارآمد ہے : مُفتی مُفت پُور)

امام شہاب الدین ابو العباس احمد بن محمد بن ابو بکر القسطلانی المصری :

شارح صیح بخاری علامہ قسطلانی نے " مدینہ قیصر " کی تشریح کی ہے کہ اس سے مراد رومی نصرانیت کا صدر مقام قسطنتنیہ ہے بھر اس حدیث کے حاشیہ پر لکھا ہے
کہ مدینہ قیصر قسطنتنیہ پر سب سے پہلا جہاد یزید بن معاویہ نے کیا اور ان کے ساتھ سادات صحابہ ابن عمر ، ابن عباس ، ابن زبیر اور ابو ایوب انصاری میزبان رسول الله اور ایک کثیر جماعت تھی. ( حاشیہ 410 جلد 1 صیح بخاری )

مزید فرماتے ہیں کہ یہ حدیث امیر معاویہ اور ان کے فرزند امیر یزید کے لئے ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے مدینہ قیصر قسطنطنیہ پر جہاد کیا .(حاشیہ صیح بخاری جلد 1 صفہ 40)
 شیطان:
یعنی ان سب غازیوں کے لئے جنت واجب ہو گئی، 


شیخ السلام ابن تیمیہ: نے صیح بخاری کی حدیث کو نقل کرتے ہوے لکھا ہے .
اور پہلی اسلامی فوج جس نے قسطنطنیہ پر جہاد کیا اس کے سردار یزید تھے اور لفظ فوج ایک پوری تعداد ہے کوئی ایک نہیں .یعنی اس فوج کے ہر شخص کا مغفرت میں شامل ہونا مراد ہے کہا جاتا ہے کہ اس حدیث مغفرت کی خاطر امیر یزید نے قسطنطنیہ پر جہاد کیا تھا،( صفحہ 252 جلد 2 منہاج السنہ)

حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی:

علامہ ابن کثیرلکھتے ہیں کہ ام حرام نے رسول الله سے یہ سن کر کہ بحری جہاد کے غازیوں کے لئے جنت واجب ،ہے عرض کیا کیا میں بھی ان میں شامل ہوں گی آپ نے فرمایا کہ تم ان میں شامل ہو گی چنانچہ جب امیر معاویہ نے جزیرہ قبرص پر جہاد کیا وہ اپنے شوہر کے ساتھ اس جہاد میں شریک تھیں اور وہیں فوت ہوئیں.ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ذکر ہم دلائل النبوہ کے طور پر کرتے ہیں.( البدایه و النہایه جلد 8 صفحہ 81)
علامہ ابن کثیر نے حسین بن علی کی شرکت جہاد قسطنطنیہ اور امیر یزید کے ساتھ اس فوج میں شامل ہونے کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے.
حسین ہر سال معاویہ کے پاس جاتے وہ ان کو عطیہ دیتے اور بہت احترام کرتے اور حسین اس فوج میں یزید کے ساتھ شامل تھے جس نے قسطنطنیہ پر جہاد کیا تھا.(البدایه و النہایه جلد 8 صفحہ 51 )
شیعہ مورخ مسٹر جسٹس میر علی نے اپنی کتاب تاریخ عرب ، ہسٹری آف سیریسنسز صفہ 84 میں حضرت حسین کی شرکت جہاد قسطنطنیہ کا اعتراف کیا ہے (صفحہ 11 جلد نمبر 2 )
مورخ اسلام علامہ ذہبی نے بحوالہ ابن عساکر لکھا ہے کہ حسین امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوے اور امیر یزید کے ساتھ جہاد قسطنطنیہ میں شریک ہوئے ( جلد 2 صفحہ 11 .)
اسی جہاد کے دوران ابو ایوب انصاری کی وفات ہوئی اور اس وقت ان کی عمر 80 سال سے بھی زیادہ تھی.اتنے عمر میں اس دور دراز مقام پر جہاد میں شرکت انہوں نے اس بشارت مغفرت کی وجہ سے کی تھی.اور آپ نے وصیت کی کہ اے یزید میرا جنازہ دشمنوں کی سر زمین کے اندر دور تک لے جا کے دفن کرنا. (صفحہ 59 جلد 8 البدایه و النہایه )
نوٹ 





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔