میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 27 اپریل، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 3 - راکھ کا ڈھیر

راکھ کے ڈھیر میں شعلہ بھی ہے چنگاری بھی

دے خوے
اپنے مقالہ بعنوان " خلافت " میں لکھتے ہیں کہ بلوائیوں کے جم غفیر نے حضرت علی کو خلافت ہاتھ میں لینے کے لئے بلایا اور طلحہ اور زبیر کو ان کی بیعت کے لئے مجبور کیا ، 


محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ
حضرت علی کو خلیفہ شہید کی جانشینی کا استحقاق حاصل نہ تھا یہی وجہ ہے کہ ان کی خلافت کی طلب میں پارسائی اور تقدس کا جذبہ شامل نہ تھا بلکہ اقتدار اور حب جاہ کی ترغیب تھی ،اس لئے لوگ اگرچہ حضرت عثمان کے طرز حکمرانی کی ندمت کرتے تھے حضرت علی کو ان کا جانشین تسلیم کرنے سے انکار کر دیا.(انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا گیارواں اڈیشن جلد 5 صفحہ 20 )

شہادت عثمان کے بعد حالات نے نازک صورت حال اختیار کر لی اور خلافت علیٰ منہاج النبوہ کا خاتمہ ہو گیا حضرت شاہ ولی الله فرماتے ہیں کہ نبی پاک نے بہت سی حدیثوں میں وضاحت سے اور صراحت سے فرمایا کہ حضرت عثمان کے بعد خلافت خاصہ منتظم نہ ہو سکے گی.( ازالہ الخفاء جلد 2 صفحہ 249 .)

مزید فرماتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ حضرت علی اوصاف رکھتے تھے مگر خلافت پر متمکن نہ ہو سکے اور نہ ہی انکا حکم نافذ ہوا ہر روز ان کی سلطنت کا دائرہ تنگ سے تنگ ہوتا گیا اور آخر میں سوائے کوفہ کے ان کی حکومت کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا..(ازالہ الخفاء جلد 2 صفحہ 249 )

امام ابن تیمیہ:

یہ افسوس ناک حالت خانہ جنگی کے نتیجہ میں پیدا ہوئی اور دشمنان اسلام نے اس حالت سے فائدہ اٹھانا چاہا ،حضرت علی کی خلافت میں دین اسلام کو کوئی ترقی نہیں ہوئی بلکہ اہل اسلام میں فتنہ پیدا ہوا اور شام اور مشرق (یعنی ایران وغیرہ ) کے کفار اور مجوسیوں کو مسلمانوں کو تباہ کرنے کا تمع پیدا ہوا.( منہاج السنہ جلد 2 صفحہ 138 )
طبری:

سبائیوں کا اصلی مقصد یہی تھا کہ خون عثمان کو نا حق بہا کر جس فتنے کا دروازہ کھولا ہے وہ کبھی بند نہ ہو ، مسلمان پہلے کی طرح کبھی ایک جھنڈے تلے جمح نا ہوں اور فتوحات کا سلسلہ جاری نہ رہے.عبدللہ بن سبا یہودی مفسد بذات خود مدینہ میں موجود تھا ، قتل عثمان کا سارا پلان اسی نے بنایا تھا ، قصاص کا مطالبہ کرنے والوں کی بصرہ روانگی کی خبر سن کر حضرت علی نے ان کے مقابلے میں جانا چاہا تو ابن سبا اور ان کی پارٹی آپ کے ساتھ لگی رہی ، اکابر صحابہ نے اس بات کی مخالفت کی حضرت عبدللہ بن سلام جیسے جلیل القدر صحابی نے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور کہا.
اے علی رسول کے شہر مدینہ کو چھوڑ کے مت جاؤ ، خدا کی قسم مدینہ کو چھوڑ کر چلے گۓ تو پھر کبھی لوٹ کر نہ آؤ گے اور نہ مسلمانوں کی حکومت ادھر کبھی پلٹے گی.یعنی مدینہ دار الخلافہ نہ رہے گا سبائیوں نے اس صحابی کو بہت مارا، حضر ت علی نے کہا کہ ان کو چھوڑ دو یہ رسول کے صحابی ہیں اور اچھے آدمی ہیں یہ کہہ کر وہ روانہ ہو گۓ یہاں تک کہ مقام زبزہ میں پہنچ گۓ.( طبری جلد 5 صفحہ 170 )

 طبری:
حضرت حسن بھی اپنے والد کے مدینہ چھوڑنے کے خلاف تھے اور اس وقت ان کے ساتھ نہ گۓ مگر بعد میں اسی مقام زبزہ میں ان سے آ کر ملے اور ان سے شکایت کی کہ میرا کوئی مشورہ آپ نے نہیں مانا بلکہ اس کے خلاف کیا میں نے عرض کیا تھا کہ جب تک تمام وفود نہ آ جایئں اور بیعت نہ کر لیں اپنی بیعت نہ لیجیے -
حضرت علی نے جواب دیا، " خلیفہ کے انتخاب کا حق اہل مدینہ کو ہے"
 اکابر صحابہ کی ایک جماعت کا یہ قول تھا:
" خلیفہ شہید کی بیعت ہماری گردنوں پر ہے ان کی وفات قدرتی نہیں ہوئی اور نہ آخر وقت تک دستبردار ہوئے ،ہم علی کی خلافت تسلیم کر لیں گے اگر وہ باغیوں اور قاتلوں پر تبرہ کریں اور ہمارے ساتھ ہو کر قصاص لیں خلافت کی حرمت ہر گز باقی نہیں رہ سکتی اگر قاتلین کو بغیر قصاص کے چھوڑ دیا جائے "
حضرت طلحہ نے تو واضح الفاظ میں کہا ،
" اگر قصاص لینا تم نے ترک کر دیا تو نہ تمہارے لئے حکومت قائم رہ سکتی ہے اور نہ نظام حکومت"
طبری جلد 5 صفحہ 175 . جمہرہ الخطیب صفحہ 137 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
  عمر بن الخطاب کا قاتل :
ابو لؤلؤہ کا اصلی نام پیروز نہاوندی تھا، مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا ، ابو لؤلؤہ اس کی کنیت تھی- اس نے   مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت
عمر بن خطاب  کو شہید کردیا۔
شیعہ علماء نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ ابو لولوہ مسلمان تھا اور امیر المومنین علی بن ابی طالب کے شیعوں میں سے تھا۔
 مُفت پور کے مُفتی کی جے آئی ٹی  کے مطابق بصرہ کی حکومت نے اِسے خصوصی طور پر عمر بن الخطاب کے قتل کے لئے نامزد کیا -
وجہ سادہ ہے ، کہ خلافت کے بطور امیدوار جب علی ابنِ طالب کو نظر انداز کرکے ابوبکر ابنِ عثمان ابو قحافہ کو  خلیفہ بنایا گیا  ، عمر ابن  خطاب اور علی ابنِ طالب کے درمیان ، ہونے والی ناچاقی کی وجہ سے علی ابنِ ابو طالب کو مدینہ سے جان بچا کر نکلنا پڑا ،تو 
علی ابنِ طالب نے بصرہ کی راہ لی جہاں نو مسلم اور اسلامی حکومت سے نالاں ایرانیوں کو اپنے ارد گرد جمع کرلیا ۔ جس پر زیادہ توجہ نہ دی ، کیوں کہ وہاں علی ابنِ طالب نے تقیّہ  کو اپنا شعار بنا لیا ۔ جس کی مکمل جھلک ، نہج البلاغہ میں دکھائی دیتی ہے ، جو الکتاب  کے مکمل برعکس اور طعنہ و تشنیع و  دروغ گوئی اور پدرم سلطان بود   کا شاہکار ہے ۔
 عہد صدیقی میں مغیرہ بن شعبہ   نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ عہد فاروقی میں ایران کے خلافجنگ قادسیہ سے پہلے مسلمانوں کے سفیر کے فرائض بہت جرات سے سرانجام دئیے اور جنگ میں شرکت بھی کی
  یزد گرد کی آخری لڑائی معرکہ نہاوندمیں مغیرہ بن شعبہ   فوج کے اعلی سالاروں میں تھے۔ مردان شاہ کے پاس سفیر بنا کر بھی آپ ہی کو بھیجا گیا ۔ جنگ میں کامیابی کے بعد ایران کے لیڈروں کی تسخیر شروع ہوئی تو آپ کو ہمدان پر قبضے کے لیے بھیجا گیا۔
 جب مسلمانوں کی ایرانیوں سے جنگ ہوئی ، بصرہ کی حکومت نے  اُسے چالاکی سے جنگی قیدیوں میں شامل کردیا تاکہ یہ کسی طرح مدینہ پہنچ جائے اسیر   بن کر جب یہ  مدینہ آیا تو تقسیم کے وقت    اِسے بطورِ غلام مغیرہ بن شعبہ   کو دے دیا گیا ۔


    بصروی حکومت کے پلان  کے مطابق جب    حاجی مکّہ سے  مدینہ جاتے ہیں  جہاں حاجیوں کا جمِ غفیر جمع ہوجاتا ، تو  ایسی فضاء کسی بھی دہشت گردی  یا بلوے کے لئے نہایت سازگار ہوتی ہے-چنانچہ بصرہ کے حاجی جب   ، 23 ہجری کے الحج کے بعد ، مدینہ پہنچے تو وہاں شیعانِ علی نے سکھائے ہوئے پلان کے مطابق  دورانِ نماز عمر ابن خطاب کو گھیر لیا اور  پیروز نہاوندی نے زہر میں بجھے خنجر کے تین وار کئے ۔ اور ہنگامے میں  اُسے بچا کر  ابنِ خطاب کے گھر میں چھپایا جو مسجد نبوی کے ساتھ تھا  اور پھر وہاں سے بصرہ بھگا دیا  ، جہاں وہ اپنے آبائی شہر کاشان چلا گیا، مرنے کے بعد ایرانیوں نے اُس کا مزار بنایا-
  جب   عمر  ابنِ خطاب ، ابو لولو کے ہاتھ سے زخمی ہوئے اور دیکھا کہ اس کاری زخم سے جانبر ہونا مشکل ہے تو آپ نے انتخاب خلیفہ کے لئے ایک مجلسِ شوریٰ تشکیل دی، جس میں علی ابن ابی طالب، عثمان ابن عفان،
عبدالرحمن ابن عوف، زبیر ابن عوام، سعد ابن ابی وقاص اور طلحہ ابن ُ عبیدا اللہ کو نامزد کیا اور ان پر یہ پابندی عائد کر دی کہ وہ ان کے مرنے کے بعد تین دن کے اندر اندر اپنے میں سے ایک کو خلافت کے لئے منتخب کرلیں اور یہ تینوں دن امامت کے فرائض صہیب الرومی انجام دیں۔ 
 نہج البلاغہ کے مطابق :
اس کے ارکان کو دیکھئے تو ان میں ایک حضرت عثمان کے بہنوئی عبدالرحمن ابن عوف ہیں۔ اور دوسرے سعد ابن ابی وقاص ،  جو   عبدالرحمٰن کے عزیز و ہم قبیلہ بھی ہیں۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی حضرت عثمان کے خلاف تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تیسرے طلحہ ابن عبید اللہ تھے، جن کے متعلق علامہ محمد عبدہ حواشی نہج البلاغہ میں تحریر کرتے ہیں۔ طلحہ حضرت عثمان کی طرف مائل تھے اور مائل ہونے کی یہی وجہ کیا کم ہے کہ وہ حضرت علی سے منحرف تھے کیونکہ یہ تیمی تھے اور ابو بکر کے خلیفہ ہو جانے کے سبب سے بنی تیم و و بنی ہاشم میں رنجشیں پیدا ہو چکی تھیں-
رہےزبیر ابن عوام  تو یہ اگر حضرت کا ساتھ دیتے بھی تو ایک اکیلی رائے کیا بنا سکتی تھی؟ 

نیز ابنِ خطاب  ، کے ذہن رسا نے طریق کار یہ تجویز کیا تھا کہ :
" اگر تین ایک پر اور تین ایک پر رضا مند ہوں تو اس صورت میں عبداللہ ابن عمر کو ثالث بناؤ۔ جس طریق کے متعلق وہ حکم لگائے۔ وہی فریق اپنے میں سے خلیفہ کا انتخاب کرے اور اگر وہ عبداللہ ابن عمر کے فیصلہ پر رضا مند نہ ہوں تو تم اس فریق کا ساتھ دو جس میں عبدالرحمن ابن عوف ہو، اور دوسرے لوگ اگر اس سے اتفاق نہ کریں تو انہیں اس متفقہ فیصلے کے خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے قتل کردو۔
  مُفت پور کے مُفتی کی جے آئی ٹی  کے مطابق : ابنِ طالب ،بصرہ   میں تھے  ، جو اُن کا فوجی قلعہ تھا ، جہاں جنگ جمل ہوئی تھی ۔
  کہا جاتا ہے کہ ابنِ عفّان کا انتخاب ، شیعانِ علی کے لئے سب سے بڑا دھچکا تھا ۔
جس کی وجہ وہ معلومات تھیں جو علی ابنِ طالب  نے اپنے   شیعاؤں کو دی :

عہد ثالث کے متعلق  ابنِ طالب بصرہ کی جامع مسجد میں اپنا خطیبانہ وعظ میں فرماتے ہیں :
حضرت عثمان کے بر سرِ اقتدار آتے ہی بنی امیہ کی بن آئی اور انہوں نے بیت المال کو لوٹنا شروع کر دیا اور جس طرح چوپائے خشک سالیوں کے بعد ہرا بھرا سبزہ دیکھ لیں تو اسے پامال کر کے چھوڑتے ہیں یونہی یہ اللہ کے مال پر بے تحاشا ٹوٹ پرے اور اسے تباہ کر کے رکھ دیا۔ آخر اس خود پروری اور خویش نوازی نے انہیں وہ روزِ بد دکھایا کہ لوگوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کر کے انہیں تلواروں کی زد پر رکھ لیا اور سب کھایا پیا اگلوالیا۔ اس دور میں جس طرح کی بد عنوانیاں ہوئیں ان پر کسی مسلمان کا دل دکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جلیل القدر صحابہ تو گوشوں میں پڑے ہوں۔ غربت ان پر چھائی ہوئی ہو، افلاس انہیں گھیرے ہوئے ہو اور بیت المال پر تسلط ہو تو بنی امیہ کا عہدوں پر چھائے ہوئے ہوں تو انہیں کے نوخیز و ناتجربہ کار افراد مسلمانوں کی مخصوص ملکیتوں پر قبضہ ہو تو ان کا تمام چراگاہوں میں چوپائے چریں تو ان کے محلات تعمیر ہوں تو ان کے باغات لگیں تو ان کے اور کوئی درد مندان بے اعتدالیوں کے خلاف زبان ہلائے تو اس کی پسلیاں توڑ دی جائیں اور کوئی سرمایہ داری کے خلاف آواز بلند کرے تو اسے شہر بدر کر دیا جائے۔ زکٰوة صدقات جو فقراء اور مساکین کا حق تھا اور بیت المال جو مسلمانوں کا مشترکہ سرمایہ تھا اس کا مصرف کیا قرار دیا گیا تھا وہ ذیل کے چند نمونوں سے ظاہر ہے۔
1۔ حکم ابن عاص کو کہ جسے رسول نے مدینہ سے نکلوا دیا تھا نہ صرف سنت ُ رسول بلکہ سیرت شیخین کی بھی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے مدینہ واپس بلوالیا اور بیت المال سے ایک لاکھ درہم عطا فرمائے۔ (معاف ابن قتیبہ صفحہ 49
2۔ولید ابن عقبہ کو کہ جسے قرآن نے فاسق کہا ہے۔ مسلمانوں کے مال میں سے ایک لاکھ درہم دیئے (عقد الفرید ج 3 صفحہ 49)
3۔مروان ابن حکم سے اپنی بیٹی ابان کی شادی کی توایک لاکھ درہم بیت المال سے دیئے (شرح ابنِ ابی الحدید صفحہ 93 جلد 1
4۔حارث ابن حکم سے اپنی بیٹی عائشہ کا عقد کیا تو ایک لاکھ درہم بیت المال سے اسے عطا فرمائے۔ (شرح ابن ابی الحدید جلد 1 صفحہ 93
5۔ابو سفیان ابن حرب کو لاکھ درہم عطا فرمائے۔ (شرح ابن ابی الحدید جلد صفحہ 93) 
6۔عبداللہ ابن خالد کوچار لاکھ درہم عطا فرمائے۔ (معاف صفحہ 48)
7۔مال افریقہ کا خمس (پانچ لاکھ دینار ) مروان کی نذر کر دیا۔ (معاف صفحہ 48)
8۔فدک کہ جسے صدقہ عام کہہ کر پیغمبر کی قدسی صفات بیٹی سے روک لیا گیا تھا۔ مروان کو عطائے خس دانہ کے طور پر دے دیا۔ (معاف ابن قتیبہ صفحہ 48
9۔بازارِ مدینہ میں بہزور ایک جگہ تھی جسے رسول نے مسلمانوں کے لئے وقف عام قرار دیا تھا۔ حارث ابن حکم کو بخش دی۔ (معارف صفحہ 48)
10۔ مدینہ کے گرد جتنی چراگاہیں تھیں ان میں بنی امیہ کے علاوہ کسی کے اونٹوں کو چرنے کی اجازت نہ تھی۔ (شرح ابنٍ ابی الحدید 93 جلد 1
11۔ مرنے کے بعد ایک لاکھ پچاس ہزار دینار اور دس لاکھ درہم آپ کے ہاں نکلے۔ جاگیروں کا کچھ ٹھکانا نہیں۔ صرف چند ایک جاگیروں کی قیمت کا اندازہ ایک لاکھ دینار تھا۔ اونٹوں اور گھوڑوں کا شمار نہیں ہو سکتا۔ (مروج الذہب جلد 1 صفحہ 534
12۔ مرکزی شہروں پر آپ ہی کے عزیز و اقارب حکمران تھے۔ چنانچہ کوفہ پر ولید ابن عقبہ حاکم تھا۔ مگر جب اس نے شراب کے نشہ میں چور ہو کر صبح کی نماز دور رکعت کے بجائے چار رکعت پڑھا دی، تو لوگوں کے شور مچانے پر اسے معزول تو کر دیا۔ مگر اس کی جگہ پر سعید ابن عاص جیسے فاسق کو مقرر کر دیا۔ مصر پر عبداللہ ابن ابی سرح شام پر معاویہ ابنِ ابی سفیان اور بصرہ پر عبداللہ ابنِ عامر آپ کے مقرر کر دہ حکمران تھے۔ (مروج الذہب جلد 1 صفحہ 524)
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔