میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات, اپریل 28, 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر - 5- قتلِ عثمان


 نصر بن مزاحم متوفی ہجری 212 ، نے اپنی کتاب واقعہ الصفین میں اور ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ


60 لاکھ کی رقم تھی جو حضرت علی نے اپنے فوجیوں میں تقسیم کر دی،ہر ایک کے حصہ میں پانچ سو کی رقم آئی پھر ان سےکہا گیا کہ اگر اہل شام پر الله نے تم کو فتح عطا فرمائی تو اتنی رقم اور ملے گی،الاشتر وغیرہ تقریر کر کے لوگوں کو اہل شام کے مقابلے میں چلنے کی ترغیب دےرہے تھے کہ بنی فزارہ کا ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا
" کیا تم چاہتے ہو کہ ہم اپنے شامی بھائیوں کے مقابلے میں جائیں اور انھیں قتل کریں جس طرح تم ہمیں برادران بصرہ کے قتل کرنے کو لے گئے تھے وللہ ہم یہ ہر گز نہ کریں گے "
مالک الاشتر نے یہ سن کر اپنے لوگوں سے کہا کہ ذرا اس کی خبر تو لینا ، وہ شخص جان بچا کر بھاگا لوگ اس کے پیچھے دوڑے اور لاتوں اور گھونسوں سے مار مار کر ہلاک کر دیا ، حضرت علی کو اطلاع ہوئی آپ تشریف لائے
اور پوچھا کس نے مارا کہا گیا کہ ہمدان قبیلے کے لوگوں نے اسے ہلاک کر دیا اور معلوم نہیں کہ قاتل کون ہے؟  تو حضرت علی نے فرمایا اس کی دیت کی رقم بیت المال المسلمین سے ادا کر دی جائے -
شیطان:
سبائیوں نے ہر ممکن طریقے سے لوگوں کو فوج میں بھرتی ہونے پر ابھارا اور روپے پیسے کا لالچ دیا ، مورخین نے زید بن عَلتاھا تمیمی کا مضحکہ خیز واقعہ نقل کیا ہے کہ،
 پانچ سو کے لالچ میں صفین کی جنگ میں شریک ہوا اور لڑائی کا رنگ بدلتے دیکھ کر فرار ہو گیا ، اور گھر پہنچا تو اسکی بیٹی نے پوچھا کہ وہ پانچ سو کی رقم کہاں ہے تو اس نے اشعار میں جواب دیا کہ تیرا باپ بھاگ آیا اب پانچ سو کی رقم کہاں مل سکتی ہے ؟
عبدللہ بن سبا اور الاشتر کو اس بات کی کیا پرواہ تھی کہ کون پارٹی فتح مند ہوتی ہے انہوں نے تو مسلمانوں میں خانہ جنگی کی آگ بھڑکانی تھی،
حضرت علی بھی اپنے اس ماحول سے سخت بیزار تھے ان کی دلی خواہش تھی کہ سبائیوں کی اس دلدل سے نکل جائیں اگر اس جگہ ان خطبوں کے حوالے دیئے جائیں جو انہوں نے اپنے نام نہاد ماننے والوں کی غداریوں اور سرکشیوں کےمتعلق  دیئے ہیں تو ایک دفتر کھل جائیگا ۔
جنگ جمل اور جنگ صفین کے موقعوں پر باہمی بات چیت ہوئی ، جو اچھے نتائج پیدا ہونے کی جو فضاء بن گئی تھی وہ صرف غیر جانبدار عناصر کی کوششوں کا ہی نتیجہ نہ تھی بلکہ خود فریقین بھی خانہ جنگی سے بچنا چاہتے تھے مگر دونوں مرتبہ سبائی گروہ کی پیش قدمیوں نے صورت حال بگاڑ دی.لیکن الله پاک کو ملت اسلام کی بہتری مقصود تھی کہ خون عثمان کے قصاص کا مسلح ثالث کے سپرد ہو گیا ، دشمنان اسلام نے اپنی ناکامی سے اہل شام پر شب ستم کا آغاز کرنا چاہا حضرت علی نے نہ صرف ان کو اس سے باز رکھنے کی کوشش کی بلکہ ایک گشتی مراسلہ اپنے زیر حکومت علاقہ کے لوگوں کو بھیجا جس میں صاف طور پر یہ بتایا گیا کہ اہل شام سے جو اختلاف تھا وہ خون عثمان کے مسئلہ پر تھا ورنہ ہم اور وہ سب ایک ہی دین پر ایمان رکھتے ہیں اس مراسلہ کو نہج البلاغہ کے شیعہ مولف نے بھی بھی اپنی کتاب میں شامل کیا ہے جس کی نقل یہاں درج کرنا مناسب ہے
یہ گشتی مراسلہ جناب علی کا جو تمام شہروں کے اہالیان کو بھیجا گیا جس میں اس واقه کو بیان کیا گیا ہے جو ان کے اور اہل شام کے درمیان صفین کی جنگ میں پیش آیا ،
  ہم میں اور ان میں خون عثمان کی بابت اختلاف ہوا حالانکہ ہم اس سے بری تھے
نہج البلاغہ: ہمارے معاملے میں ابتدا یہ ہوئی ہم میں اور اہل شام میں مقابلہ ہوا اور ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا خدا ایک ہمارا اور ان کا نبی ایک ، ہماری اور انکی دعوت اسلام ایک ، الله پر ایمان رکھنے اور اس کے رسول کی تصدیق کرنے میں نہ ہم ان سے زیادہ نہ وہ ہم سے زیادہ پس معاملہ واحد ہے کہ،

(صفحہ ١٥٩ الجز الشافی ، نہج البلاغہ مطبوعہ دار الکتب الکبرہ . مصر .)
 
 قسط نمبر 4   -  ٭٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ -  قسط نمبر -6
 خونِ عثمان:
نہج البلاغہ کا مصنف کے مطابق  :
1- فرزندِ ابوقحافہ نے ، زبردستی جامہ خلافت پہن لیا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اِس قابل نہیں ۔

2- پھر  فرزندِ ابوقحافہ نے، اجماع و شوریٰ کا رنگ چڑھائے بغیر علانیہ حضرت عمر کو نامزد کر کے اجماع کی پابندی کثرت رائے کے معیار اور شورائی طریق انتخاب کو نظر انداز کر دیا-

3- حجرہ ءَ حضرت عائشہ  کے دروازہ پر ابو طلحہ انصاری پچاس آدمیوں کے ساتھ شمشیر بکف آ کھڑا ہوا، طلحہ ابن عبید اللہ نے کاروائی کی ابتداء کی اور سب کو گواہ بنا کر کہا کہ میں اپنا حق رائے دہندگی حضرت عثمان کو دیتا ہوں۔
علی ابنِ ابو طالب  نے ، اپنے حق کو یوں پامال ہوتے دیکھا تو فرمایا:
 یہ پہلا دن نہیں ہے کہ تم نے ہم پر زیادتی کی ہو اب صبر جمیل کے علاوہ کیا چارہ ہے اور جو باتیں تم کرتے ہو اس پر اللہ ہی مددگار ہے۔ خدا کی قسم! تم نے عثمان کو اس امید پر خلافت دی ہے کہ وہ اسے کل تمہارے حوالہ کر جائے۔
 پہلے  فرزند ابوقحافہ نے زبردستی جامہ خلافت پہن لیا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ خلافت جامہ بود کہ برقامت من دوختہ بود اور اس میں میری وہی حیثیت تھی جو چکی میں کیل کی ہوتی ہے کہ نہ تو اس کے بغیر وہ اپنے محور پر قائم رہ سکتی ہے اور نہ اس کا کوئی مصرف ہی باقی رہ جاتا ہے۔ یونہی میں خلافت کا مرکزی نقطہ تھا کہ اگر میں نہ ہوتا تو اس کا تمام نظام اپنے محور سے ہٹ جاتا اور میں ہی تھا جو اس کے نظم و ضبط کا محافظ بن کر ہر آڑے وقت پر صحیح رہنمائی کرتا تھا۔ میرے سینہ سے علم کے دھارے امنڈتے تھے۔ جو ہر گوشہ کو سیراب کرتے تھے اور میرا پایا اتنا بلند تھا کہ طائرِ فکر بھی وہاں تک نہ پہنچ سکتا تھا۔ مگر دنیا والوں کا ذوقِ جہانبانی  میرے حق کے لئے سنگِ راہ بن گیا۔ اور مجھے گوشہ عزلت اختیار کرنا پڑا۔ چاروں طرف گھٹا ٹوپ اندھیرے پھیلے ہوئے تھے اور بھیانک ظلمتیں چھائی ہوئی تھیں۔ بچے بوڑھے ہو گئے اور بوڑھے قبروں میں پہنچ گئے۔ مگر یہ صبر آزمادہ دور ختم ہونے میں نہ آتا تھا۔
میں برابر اپنی آنکھوں سے اپنی میراث کو لٹتے ہوئے دیکھتا رہا اور جامِ خلافت کے دست بدست گردش کرنے کا منظر میری نظروں کے سامنے رہا۔ لیکن میں صبر کے تلخ گھونٹ پیتا رہا۔ اور بے سروسامانی کی وجہ سے ان کی دراز دستیوں کو نہ روک سکا۔


نوٹ : اِس خطاب کے بعد قارئین  ، مُفت پور کا مُفتی کوئی حتمی رائے دے ۔ یہ بتائیے کہ،

اپنی میراث کو یوں  لٹتے دیکھ کر اگر آپ کے پاس طاقت نہ ہو تو آپ کیا کریں گے ؟

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔