میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 28 اپریل، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 6 ۔ خلافت سے معزولی اور شہادت


 شاہ ولی الله محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ
حضرت علی کو بھی ثالث کے تقرر کے ساتھ ہی اس بات کا بخوبی احساس ہو گیا تھا کہ اب وہ منصب خلافت پر قائم نہیں رہ سکتے، کیونکہ قاتلینِ عثمان جو خانہ جنگیوں میں نمایاں حصہ لے رہے تھے اور حضرت علی باوجود قدرت کے قصاص نہ لے سکے تھے اور ان میں سے بعض کو عہدے بھی دے دیئے تھے جس سے انہوں نے اپنی پوزیشن کو مشتبہ کر لیا تھا ، 
سلیمان بن مہران نے یہ روایت ایک ایسے راوی کی زبان سے بیان کی ہے کہ اس موقعہ پر حضرت علی کے منہ سے یہ الفاظ سنے تھے وہ تاسف سے فرماتے تھے
" اگر میں یہ جانتا کہ یہ معاملہ اس طور پر ہو جا
ۓ گا تو کبھی خروج نہ کرتا ، اے ابو موسیٰ لو تم فیصلہ کرو خواہ وہ میری گردن ہی اڑانے کے بارے میں کیوں نہ ہو"  ( ازالہ الخفا  جلد 2 صفحہ 283 .تبع اول )
 
ثالثوں نے اتفاق رائے سے حضرت علی کو منصب خلافت سے معزول کر کےنئے خلیفہ کے انتخاب کا فیصلہ ارباب ھل و عقد کے مشورے پر منحصر کیا اور یہ فیصلہ دیا کہ جب تک انتخاب خلیفہ کی کاروائی مکمل نہ ہو فریقین اپنے اپنے مقبوضہ علاقہ پر قائم رہیں ، لیکن صفین کی واپسی کے بعد حضرت علی اپنی ہی پارٹی کے ایک گروہ " خوارج " سے قتال و جدال میں الجھ گئے اور ان ہی میں سے ایک  عبد الرحمان بن بلجم نے حضرت علی کو زہر آلود خنجر سے مجروح کر دیا ، اس کا سسر شنجہ بن عدی اور برادر نسبتی الخضر بن شنجہ جنگ نہروان میں حضرت علی کے فوجیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے . 
علی بن ابی طالب کو 19 رمضان40ھ ( 660ء ) کو صبح کے وقت  کوفہ کی جامع مسجد میں عین حالتِ نماز میں 
  عبد الرحمان بن بلجم   زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ دو روز تک علی بن ابی طالب بستر بیماری پر انتہائی کرب اور تکلیف کے ساتھ رہے آخر کار زہر کا اثر جسم میں پھیل گیا اور 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت آپ کی شہادت ہوئی۔   حسن  ابنِ علی ابن طالب   اور حضرت حسین  ابنِ علی ابن طالب  نے تجہیزو تکفین کی اور  کوفہ میں دفن کیے گئے۔خوارج سے ان کے جھگڑے نہ ہوتے اور یہ سانحہ پیش نہ آتا تو امت کے مشورے سے نئے خلیفہ کا انتخاب ہوتا اور تاریخی واقعات کا رخ ہی دوسرا ہوتا بہر حال جو مقدر تھا پیش آیا-
( جنگ صفین 37ھ جولائی 657ء میں      علی بن ابی طالب اور  معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور  شیعہ  افواج کے 25000 افراد مارے گئے   ۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔
  وصیت
وفات سے قبل حضرت علی نے اپنے صاحبزادے حضرت حسن سے تنہائی میں دیر تک گفتگو کی نصیحت اور وصیت کی اور یہ ہدایت کی میرے مرنے کے بعد معاویہ سے ایک دم صلح کر لینا ان کے امیر المو منین ہونے سے ذرا کراہت نہ کرنا کیونکہ اگر تم ان کو بھی گنوا بیٹھے تو اختلاف و انتشار امت کے تلخ ترین نتائج بھگتنا پڑیں گے.( جلد 8 صفحہ31 البدایہ والنہایہ .)
امام ابن تیمیہ
حضرت علی جیسے بزرگ کو اپنی زندگی کی آخری گھڑی میں اس بات کا احساس تھا کہ ان کی پارٹی بری طرح ناکام ہو چکی ہے وہ اپنی تقریروں میں اپنی پارٹی کے لوگوں کی ندمت کرتے اور فرماتے کاش میں تمہارا منہ نہ دیکھتا تم نے میرے قلب کو رنج و غم سے بھر دیا .اے کاش میں اب سے بیس سال پہلے مر گیا ہوتا شیخ ابن تیمیہ نے اس حقیقت کا اظہار کیا ہے حضرت علی اپنے فوجیوں سے عاجز تھے وہ ان کا کہنا نہیں مانتے تھے لیکن حضرت معاویہ کے لشکر والے ان کے فرمانبردار اور اطاعت کش تھے،(صفحہ ٢٠٢ جلد ٢ منہاج السنہ ، )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ابو وائل( ولادت 1 ھ وفات  82 ھ کوفہ )  کہتے ہیں: 
ہم صفین میں تھے جب اہل شام کے ساتھ جنگ خوب زور پکڑ گئی۔ شامی ایک ٹیلے پر چڑھ گئے۔ عمرو بن عاص نے معاویہ کو کہا: ’’آپ علی کی طرف قرآن بھیج کر ان کو کتاب اللہ کی طرف دعوت دیجیے۔ مجھے امید ہے کہ وہ اس سے انکار نہیں کریں گے۔‘‘ معاویہ کی طرف سے ایک آدمی علی کے پاس آیا اور کہنے لگا: ’’ہمارے اور آپ کے درمیان اللہ کی کتاب ہے۔‘‘ علی نے اسے قبول کر لیا اور فرمایا: ’’میں لوگوں کو اس کی دعوت دینے کا زیادہ حق دار ہوں۔ ٹھیک ہے، ہمارے اور آپ کے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی۔‘‘
اہل تشیع کی مشہور کتاب نہج البلاغہ میں علی رضی اللہ عنہ کا ایک مراسلہ (Circular) نقل کیا گیا ہے جو آپ نے جنگ صفین کے بارے میں شہروں میں بھیجا۔ اس میں لکھا ہے:
" علی کا خط، جو آپ نے شہروں کی جانب لکھا، اس میں آپ نے اپنے اور اہل صفین کے درمیان ہونے والے واقعے کو بیان فرمایا۔ ہمارے معاملہ کی ابتدا یوں ہوئی کہ ہم اہل شام کے ساتھ ایک میدان میں اکٹھے ہوئے۔ ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک، ہمارا اور ان کا نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے متعلق دعوت ایک۔ اللہ پر ایمان اور اس کے رسول کی تصدیق کے معاملے میں نہ ہم ان سے بڑھ کر تھے اور نہ وہ ہم سے بڑھ کر۔ صرف ایک معاملے میں ہم میں اختلاف ہوا اور وہ تھا خون عثمان کا جبکہ ہم اس سے بری تھے۔ ہم نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ جو مقصد آج نہیں حاصل ہو سکتا ہے، اس کا وقتی علاج یہ کیا جائے کہ آتش جنگ کو خاموش کر دیا جائے اور لوگوں کو جذبات کو پرسکون ہو لینے دیا جائے۔ اس کے بعد جب حکومت کو استحکام حاصل ہو جائے گا اور حالات سازگار ہو جائیں گے تو ہم اتنے طاقتور ہو جائیں گے کہ حق (یعنی قصاص) کو اس کے مقام پر رکھ لیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس کا علاج صرف جنگ ہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ نے اپنے پاؤں پھیلا دیے اور جم کر کھڑی ہو گئی۔ شعلے بھڑک اٹھے اور مستقل ہو گئے۔ سب نے دیکھا کہ جنگ نے دونوں فریقوں کو دانت سے کاٹنا شروع کر دیا ہے اور فریقین میں اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں تو وہ میری بات ماننے پر آمادہ ہو گئے اور میں نے بھی ان کی بات کو مان لیا اور تیزی سے بڑھ کر ان کے مطالبہ صلح کو قبول کر لیا۔ یہاں تک کہ ان پر حجت واضح ہو گئی اور ہر طرح کا عذر ختم ہو گیا۔ اب اس کے بعد کوئی اس حق پر قائم رہ گیا تو گویا اپنے آپ کو ہلاکت سے نکال لے گا ورنہ اسی گمراہی میں پڑا رہ گیا تو ایسا عہد شکن ہو گا جس کے دل پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ گردش ایام اسی کے سر پر منڈلا رہی ہو گی۔" 

 قسط نمبر 5   -  ٭٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ -قسط نمبر 7 



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔