میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات, اپریل 28, 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 7

راکھ کے ڈھیر میں شعلہ بھی ہے چنگاری بھی.
قسط نمبر 7 .


 حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی ،تاریخ ابن کثیر

  ان حالات میں حضرت علی کی یہ عراقی پارٹی بالکل ناکارہ اور ناکام ہو چکی تھی ، اس زمانے میں عشرہ مبشرہ میں سے بعض اصحاب ،اصحاب بدر ، اصحاب بیعت رضوان اور دیگر صحابہ کی کثیر تعداد زندہ سلامت تھی لیکن امت کو انتشار سے نکالنے ، دشمن اسلام کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کرنے اور خلافت کی ڈگمگاتی کشتی کو ساحل مراد تک پہچانے کی اہلیت اگر کسی میں تھی تو وہ حضرت معاویہ کی ذات تھی اس لئے مفاد امت کے پیش نظر حضرت علی نے اپنے صاحبزادے کو خاص ہدایت کہ ان کے امیر المومنین ہونے میں کراہت نہ کریں چنانچہ حضرت حسن نے اپنے والد کے بعد عراقیوں کے مجمع کے سامنے جو تقریر کی تھی اس میں کہا تھا کہ میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ میں جس سے لڑائی کروں تم اس سے لڑائی کرو گے اور جس سے صلح کروں تم اس سے صلح کرو گے ، بھر کہا. میرے والد فرماتے تھے
اور معاویہ کی امارت میں بلکل کراہت نہ کرنا کیونکہ تم نے اگر ان کو بھی گنوا دیا تو تم دیکھو گے کہ مونڈھوں پر سے حنزل کی طرح سر کٹ کٹ کر گریں گے .
جلد ٣ شرح نہج البلاغہ صفہ ٣٦ .ازالہ الخفا جلد ٢ صفہ ٢٨٣ . البدایہ النہایہ جلد ٨ صفہ ١٣١.
امامت و السیاست
 جیسی کتاب جو کسی نے شرارت سے لکھ کر امام الفقیه ابی عبدللہ بن مسلم قتیبہ الدینوری متوفی ہجری ٢٧٦ سے غلط منسوب کر دی ہے اور یہ ان کی تالیفات کی فہرست میں شامل نہیں اس میں بھی حضرت حسن کا یہ فقرہ موجود ہے کہ اور میرے والد ماجد فرماتے تھے کہ معاویہ خلافت پر ضرور فائز ہو جائیں گے ، خدا کی قسم اگر ہم پہاڑوں اور درختوں جیسی بڑی قوت سے بھی ان کے مقابل آتے تو بھی وہ ضرور غالب رہتے خدا کی حکمت اور ارادے کو پلٹا نہیں جا سکتا .
صفہ ١٧٣ جلد ١ تبع اول .١٩٣٧.


شیطان
سبائیوں کو یہ سننے کی تاب کہاں تھی ان بد بختوں نے نواسہ رسول پر بھی حملہ کر دیا اور ان کو زخمی کر دیا غالی راویوں نے حسب عادت اس واقعہ کو مسخ کر کے یہ کہا کہ حضرت حسن کے کمانڈر لڑائی میں مارے گئے اس لئے لوگوں نے اپنے امام پر حملہ کر دیا اس قول سے خود ظاہر ہوتا ہے کہ سبائیوں کا غصہ اس لئے تھا کہ وہ امیر معاویہ کی امارت برداشت نہیں کر سکتے تھے کیونکہ امارت کے بعد تو وہ اپنی خیریت بالکل ہی نہیں سمجھتے تھے.


 قسط نمبر 6   -  ٭٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ - قسط نمبر 8

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔