میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 1 اپریل، 2016

وہ شمع اُجالا جس نے کیا

وہ شمع اُجالا جس نے کیا 
چالیس برس تک غاروں میں
اک روز جھلکنے والی تھی 
سب دنیا کے درباروں میں

گر ارض و سما کی محفل میں 
لولاک لما کا شور نہ ہو
یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں، 
یہ نور نہ ہو سیّاروں میں

جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا
 اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا
وہ راز اک کملی والے نے
 بتلادیا چنداشاروں میں

وہ جنس نہیں ایماں جسے
 لے آئیں دُکانِ فلسفہ سے
ڈھونڈے سے ملے گی عاقل کو
 یہ قرآں کے سی پاروں میں

ہیں کرنیں ایک ہی مشعل کی
 بوبکر و عمر عثمان و علی
ہم مرتبہ ہیں یارانِ نبی
 کچھ فرق نہیں ان چاروں میں 
 

ظفر علی خان مرحوم

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔