میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 2 اپریل، 2016

جاسوسوں کی د نیا . برج آف سپائیز


2015 میں " برج آف سپائیز " (جاسوسوں والا پل) نامی ہالی وڈ مووی ریلیز ہوئی جو 60 کے دہائی میں امریکہ اور روس کے درمیان جاری سرد جنگ کے واقعات پر تھی۔ اس فلم میں دکھایا گیا ھے کہ کہ امریکی سی آئی اے نیویارک میں ایک نہایت پروفیشنل روسی جاسوس کو گرفتار کرتے ہیں جو یہ تو تسلیم کرتا ھے کہ وہ جاسوس ھے لیکن اس کے آگے کچھ بھی نہیں بتاتا۔ فلم کا مرکزی کردار ٹام ہینک نامی مشہور اداکار نے پلے کیا ھے جس میں وہ اس جاسوس کا وکیل بن کر پہلے اسے موت کی سزا سے بچاتا ھے اور پھر روس کے ساتھ ایک ڈیل کرکے ان کی قید میں ایک امریکی پائلٹ کی رہائی کے بدلے اس روسی جاسوس کو رہا کروا لاتا ہے۔ فلم میں دکھایا جاتا ہے کہ کیسے پوری امریکی عوام اس روسی جاسوس کے خلاف ہوتی ہے اور مطالبہ کرتی ھے کہ اسے برقی کرسی پر بٹھا دیا جائے۔ ایک موقع پر آرگومنٹ کرتے ہوئے ٹام ہینکس امریکی حکام سے کہتا ھے کہ وہ روسی جاسوس ایک پروفیشنل شخص ھے جو اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا اور یہ اسے عزت دینے کیلئے کافی ھے۔ اگر آپ کا کوئی جاسوس روس کے ہاتھ آجاتا ھے تو کیا آپ نہیں چاہیں گے کہ اس کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کیا جائے؟

اِس واقعہ کے بعد اب آجائیں ، اصل واقعہ کی طرف جو حال میں پکڑا جانے والا بھارتی جاسوس، نیول کمانڈر کل بھوشن یادیو کا ھے۔
9 ستمبر 2001 ، کے حملے کے بعد امریکہ نے جب خود کو جنگی حالات میں مبتلاء ہونے کا اعلان کیا اور افغانستان میں اپنی فوجیں بھیجنا شروع کیں اور افغانستان کو اپنے ہتھیاروں کی تجربہ گا بنالیا ، تو بھارت کو بھی پاکستان میں اپنی سرگرمیوں کے اضافے کو موقع ملا ۔
کل بھوشن نے پاکستان میں اپنی باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز 2002 میں کیا۔
 اِس موقع کا فائدہ اٹھا کر مغربی سرحدوں اور کراچی سےکئی بھارتی جاسوس پاکستان داخل ہوئے اور مختلف شہروں میں اپنے پیر جمانے لگے ، گو کہ جاسوسی کی تاریخ میں یہ یک لخت عمل نہیں ہوتا ایک جاسوس کو کسی معاشرے کے لوگوں کا اعتماد لیتے لیتے 10 سے 15 سال لگ جاتے ہیں  ۔
اگر ہم کل بھوشن کے خد و خال کا موازنہ پاکستان میں رہنے والے لوگوں سے کریں تو کراچی کے رہنے والوں میں شامل ہوجانا کل بھوشن کے لئے آسان تھا ۔ بالکل ایسے جیسے ، مسجدوں سے اور مغربی علاقوں سے کئی جاسوس گرفتار ہوئے ۔ مغربی پنجاب میں بھی مشرقی پنجاب کے رہنے والے آرام سے کھپ سکتے ہیں ، لیکن اِس کے لئے تھوڑی محنت کرنا پڑتی ہے۔
بطور انڈین نیوی آفیسر،
کل بھوشن کے پاس سب سے اہم ٹاسک تھا۔ یہ بندرگاہوں کی دفاعی اور معاشی اہمیت سے واقف تھا، چنانچہ اسے گوادر، پسنی اور کراچی کی بندرگاہوں والے علاقوں میں اپنے مشن کی کمان سونپی گئی۔
کل بھوشن، جیمزبانڈ ٹائپ کے مار دھاڑ کرنے وال جاسوس نہیں تھا بلکہ یہ ایک سٹریٹیجسٹ اور منصوبہ ساز تھا۔ کل بھوشن نے بلوچستان کے ناراض عناصر سے رابطہ استوار کرنا شروع کیا اور انہیں مختلف زرائع سے مالی اور اسلحہ کی صورت میں امداد فراہم کرنا شروع کی۔ کلبھوشن ہردوسرے مہینے ایران جایا کرتا تھا جہاں وہ اپنے مشن کا سٹیٹس اپ ڈیٹ کرتا اور نئے احکامات وصول کرتا۔
بلوچستان میں ، بگٹی قبیلے کی حکومت کے خلاف مزاحمت نواب اکبر بگٹی کی موت اور ہمارے جاسوسی نیٹ ورک کی فعالیت کی وجہ سے2006 میں کل بھوشن ہماری ایجنسیوں کی نظر میں آچکا تھا۔ جب انہیں اس کی سرگرمیوں کا پتہ چلا تو فوری ردعمل کے طور پر متعلقہ حکام کی راتوں کی نیند اڑ گئی۔ تفصیلات اکٹھا ہونا شروع ہوئیں ۔ ایک ایک کرکے کل بھوشن کے سہولت کاروں پر نظر رکھنا شروع کی۔ پھر آہستہ آہستہ مختلف شعبوں ، جماعتوں ، فرقوں میں شامل محبِ وطن پاکستانیوں سے مدد لینا شروع کی ، ناراض بلوچ طلبہ گروپس میں بھی لوگ شامل کروائے گئے اور بالآخر کل بھوشن سے بلواسطہ رابطہ استوار کر لیا گیا ۔ اس کام میں کم و بیش دو سال لگ گئے۔
2008 تک کل بھوشن کافی حد تک مطمئن ہوچکا تھا اور اسے لگا کہ وہ اپنے مشن میں کامیابی حاصل کررہا ہے۔ کل بھوشن کی تفصیلات بارڈر سیکیورٹی فورسز کے پاس آچکی تھیں لیکن انہیں ہدایات تھیں کہ وہ اس کی آمدورفت میں کوئی تعطل نہ ڈالیں۔
2010 تک کل بھوشن کے کے ارد گرد اعتماد کے لوگوں میں  ہماری ایجنسیوں کے لوگ شامل ہوچکے تھے جو اسے ایسی معلومات فراہم کر کے اعتماد حاصل کر چکے تھے جو وقت گذرنے کے بعد اپنی اہمیت کھو بیٹھی تھیں یا پہلے سے زیر زمین لوگوں کے علم میں تھیں ۔
پھر ایک وقت یہ بھی آیا کہ کلبھوشن کا اعتماد حاصل کرنے والے چند لوگوں کو انڈیا بھجوانے کا بندوبست کیا گیا تاکہ وہ براہ راست انڈین کمان میں آکر زیادہ مؤثر کاروائیاں کرسکیں۔ اس وقت کا ہمارے اداروں کو کئی سالوں سے انتظار تھا۔ پھر یوں ہوا کہ 80 کے قریب لوگوں کو مختلف اوقات میں دبئی اور ایران کے راستے انڈیا بھجوایا گیا جہاں ان کا استقبال بھارتی خفیہ ایجنسی کے اعلی حکام نے کیا اور ان کے ساتھ اپنے لانگ ٹرم پلان شئیر کئے۔ ناراض بلوچ تنظیموں کے بھیس میں چھپے ہماری ایجنسیوں کے یہ لوگ بھارتی حکام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ 

اس دوران کل بھوشن کو ہر سہولت فراہم کی گئی ۔ دس سالوں کے عرصے میں وہ بہت حد تک مطمئن ہوچکا تھا کہ وہ پاکستانیوں میں شامل ہو چکا ہے اور اس کے پکڑے جانے کا امکان نہیں۔ لیکن اس دوران اس کی ہر ایک حرکت کو مانیٹر کیا جا رہا تھا ۔
انڈین حکام کو کل بھوشن سے ملنے والی رپورٹوں کچھ شکایات بھی آنا شروع ہوئیں۔ اس کی دی گئی انٹیلیجنس بالخصوص گوادر پورٹ کے حوالے سے دی گئی معلومات زیادہ تر غلط ثابت ہوئیں۔ اسی طرح وہ تمام "ناراض" بلوچ جو کئی بار انڈیا جاچکے تھے، اب ایک ایک کرکے وہ بھی منظر سے غائب ہوتے جارھے تھے۔ ان لوگوں نے 150 سے زائد لوگ ٹریننگ کیلئے انڈیا بھجوائے، جن کا کوئی ریکارڈ انڈین حکام کے پاس نہ تھا اور یہ بھی ایک بہت پریشان کُن صورتحال بن چکی تھی۔

2015 تک کل بھوشن پاکستان اور انڈین حکام کیلئے ایجسنیوں کی ٹرم میں تقریباً "ایکسپائرڈ" ہوچکا تھا اور اب ہمارے حکام اس سے جان چھڑانے کے چکر میں تھے۔
 ہماری ایجنسیوں نے کلبھوشن کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔ اب صورتحال یہ ھے کہ ان تمام جاسوسوں کو ایک ایک کرکے پکڑا گیا ھے اور بتایا یہی گیا ھے کہ ان کی نشاندہی کلبھوشن نے کی تھی۔ حالانکہ کلبھوشن کے فرشتوں کو بھی ان بھارتی جاسوسوں کی خبر نہیں تھی۔ 

ہمیں ان کا کیسے پتہ چلا؟ یہ جاننے کیلئے آئن سٹائن ہونا ضروری نہیں۔ اوپر پوسٹ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ 150 کے قریب "ناراض بلوچ" انڈیا میں آپریٹ کررہے ہیں جو اب انڈین حکام کی راتوں کی نیند اور دن کا چین اڑا چکے ہیں۔
لیکن کچھ بھی ہو، ایک بات کی خوشی ھے کہ ہماری ایجنسیوں نے " برج آف سپائز" میں بتائی گئی روایت کے مطابق کل بھوشن کو ایک جاسوس کا پروٹوکول ہی دیا ھے اور اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک اختیار کررہے ہیں۔

 ***---------********-----------****
نوٹ: پوسٹ میں دی گئی تفصیلات میڈیا میں شائع نہیں ہوئی۔ یہ ایکسکلوزو رپورٹ میں  اس بات کا اطمینان کرلیا گیا ھے کہ ان تفصیلات سے ملک کو نقصان نہ ہو۔

 ***---------********-----------**** 
پچھلے دنوں ایک اعلیٰ پائے کے جاسوس سے ملاقات ہوئی  ۔ جنہوں نے جاسوسی کی دنیا میں اپنے کارنامے بتائے ۔ گو کہ اُن سے میں نے بڑی مشکل کے بعد اجازت لے لی ہے ۔ کہ پاکستان کے اِن گمنام ہیروز کے کارنامے لکھوں جو اٗنہوں نے ، " اِن دی لائن آف آفیشل ڈیوٹی " سرانجام دیئے ۔
(مہاجر زادہ)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔