میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات, اپریل 21, 2016

میری بیٹی میرا فخر ہے !

. کوئی بھی پیر سب سے پہلے اپنے گھر سے پیر بنتا ہے ..
کوئی اپنی بہو یا داماد کو ڈاکٹر پائلٹ انجینئر نہیں بناتا .. سب اپنی اولاد پر انویسٹ کرتے ہیں وقت بھی اور پیسا بھی . محنت بھی اور محبت بھی ...

ہر کوئی اپنی اولاد کے لئے ایک پڑھا لکھا بر تلاش کرتا ہے . .. بیٹوں کو تو اکثر ہی والدین پڑھاتے ہیں کیونکہ وہ ان کا مستقبل ہوتے ہیں . جبکہ بیٹیوں کو پڑھانے میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے. .کہ انہوں نے کونسا کام کرنا ہے اگلے گھر ہی جانا ہے ..بچیوں کی کم تعلیم بھی رشتے نہ ہو پانے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے..
اب شعور آ رہا ہے اور والدین نے اولاد میں صنفی امتیاز برتنا کم کر دیا ہے .. بیٹے ہوں یا بیٹیاں اب سمجھدار ماں باپ پڑھانے لگے ہیں

والدین اگر یہ سوچتے ہیں کہ بیٹی کو ڈاکٹر انجینئر بنا دیا تو سسرال والے نوکری کروائیں گے اس لئے بیٹی کو سادہ سا ایف اے بی اے کروا دیتے ہیں . تو ان کے اس بھولے پن پر صرف اتنا ہی سمجھانا چاہوں گی کہ محترم والدین آپ کی بیٹی نے اگلے گھر میں کام تو کرنا ہی ہے .. اب یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ اس کے لئے چولہا چوکی برتن اور کپڑوں کی دھلائی کے ساتھ محض مسز فلاں کی شناخت پسند کرتے ہیں یا اسے گھر سے ڈاکٹر انجینئر کپتان یا افسر بنا کر بھیجتے ہیں .. جہاں آپ کی بیٹی کی نا صرف اپنی پہچان ہو بلکہ ٹیبل کرسی آفس والی افسری بھی ہو ..

ماں باپ اپنی اولاد کو جو سب سے بہتر تحفہ دیتے ہیں وہ اچھی تعلیم و تربیت ہے ..

اکثر والدین بیٹی کو تربیت تو دیتے ہیں ساس سسر کو ماں باپ سمجھنے کی یا اچھے اخلاق و برتاو کی اچھا اوڑھنے پہننے یا کھانا پکانے کی لیکن تعلیم میں ڈنڈی مار جاتے ہیں .

اچھے والدین سدا حالات ایک سے نہیں رہتے .. کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں ..
اللہ سب کے گھر سدا سکھی اور سلامت رکھے لیکن طلاقیں بھی اسی معاشرے میں ہوتی ہیں اور آئے دن کے حادثات و بم دھماکوں نے بیوگی کی شرح بھی بڑھا دی ہے .. اب ایسی صورتحال میں ایک عورت اگر بے ہنر ہو تو یا تو سسرال کے ٹکڑوں پر آئے گی یا پھر بھائیوں کے گھر بھابیوں کی جوتیوں میں کھائے گی ..

اچھا ایسا نہ بھی ہو .. اگر شوہر کی آمدنی ہی کم ہو اور آپ کی بیٹی اس کا ساتھ دے گی تو کس کی عزت ہے. . اور کس کی بیٹی سکھی رہے گی .. آج کل کا سکھ معاشی خوشحالی سے مشروط ہے ..

میرا ماننا ہے کہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں .. تعلیم دونوں کی برابری کی بنیاد پر ہو نی چاہئے .. مواقع برابر کے ہوں
صنفی امتیاز نا برتا جائے
ہاں ہونہار بچہ (لڑکا یا لڑکی ) اپنی قابلیت کے بوتے پر جتنا آگے نکل جائے وہ قدرت کا چناو ہو ..
ہر بچہ ہنر حاصل کرے ..

پروفیشنل تعلیم سب کے لئے .. چاہے وہ پائپ فٹنگ یا ٹیلرنگ ہو یا جہاز اڑانا ...
سادہ ایف اے ، بی اے آخر کیا کر لیں گے .. زیادہ سے زیادہ ..؟

تونگری بہ ہنر است نہ بہ مال
دانائی بہ عقل است نہ بہ سال

خوشحالی ہنر سے آتی ہے مال و زر سے نہیں
دانشمندی عقل کی دین ہے عمر کی نہیں. ..
محترم والدین اپنی بیٹی کو اپنے گھر سے پیر بنا کر بھیجیں تا کہ اگلے گھر میں بھی اس کی گدی مستحکم ہو

رعنائی خیال

رابعہ خرم درانی

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔