میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 24 اپریل، 2016

ایک خطرناک شریف !


راحیل شریف سے کسی امن پسند ملک کو خطرہ نہیں ہونا چاھئیے ،
ہاں وہ شرپسند جو پاکستانی فوج کو شرپسند ملک سے رقم لے کر اپنی انا، حمیت اور خوداری بیچ کر نقصان پہنچانا چاھتے ہیں ،
اُن کو پاکستان کے ہر فرض شناس سپاہیوں سے خطرہ ہونا چاھئیے جو ، پاکستان کے امن کے لئے اپنی جان قربان کرنے سے نہیں ڈرتے ۔
راحیل شریف پاکستان کی حکومت کا وفادار ملازم پاسداری ءِ آئین کا محافظ ہے ، بالکل اُسی طرح جس طرح اُس کا بھائی اور ماموں تھا ۔ اُسے اِس بات کی پرواہ نہیں کہ اُس کے کتنے بریگیڈئرز ، جنرلز اور کورز کمانڈر کرپشن سے پاک ہیں یا نہیں ،
لیکن پاکستانی سپاہی اور پاکستان کے امن کی خاطر اپنی جان قربان کرنے والے ، اُس کا وہ ہراول دستہ ہیں ، جو آئینِ پاکستان کی حدود میں رہتے ہوئے پاکستان کے عوام کو امن دینے کے لئے لبیک کہتے ہیں !
سیاستدان اور بیورکریٹس کی کرپشن کی ذمہ دار پاکستان کی عدلیہ اور سول انتظامیہ ہے ۔ جن کے درمیان معلومات کی لائف لائن ، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹر سروسز انٹیلیجنس مہیا کرتی ہے ۔
اگر احتساب کے زمہ داران اُس لائف لائن پر اپنا پاؤں رکھ کر دبا دیں ۔ ۔ ۔ تو

عدلیہ یا انتظامیہ ، بہری ، گونگی اور اندھی ہو جاتی ہے ۔

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔