میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر, اپریل 25, 2016

شیطان نامہ - اکبر کہیں یا اصغر

تو قارئین ۔ مہاجر زادے کو اپنے گرو ءِ اعظم" مُفت پُور کے مُفتی" کا حکم بجا لانے سے  پہلے وہ آپ کی خدمت میں ،
شیطان کے نو دو گیارہ ہونے سے پہلے اُس کی تین پانچ پڑھوانا چاہتا ہے  تاکہ آپ  خود اندازہ لگائیں کہ کیا یہ بچونگڑا شیطان ، اکبر (اعظم نہیں) کی نشست پر بٹھایا جا سکتا ہے ؟
آہ ، قارئین آپ نے پڑھا ، کہ شیطان نے اپنا چاپلوسانہ حربہ استعمال کرتے ہوئے ، ریٹائرڈ فوجی سے محبت کی پینگیں بڑھانے کے لئے ، اپنا مخطوطہ ،" میرے پیارے " سے شروع کیا تاکہ ، ریٹائرڈ فوجی کو اپنے دامِ الفت میں گرفتار کر سکے ۔
مگر ایسا نہ ہوسکا !
مگر ایسا نہ ہوسکا !
کہ تو نہیں تیرا غم  اور تیری چاہت بھی نہیں ۔
 تمہیدِ کارِ گراں بر لبِ سمندرِ بے کراں...٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ابتداءِ فساد
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔