میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 3 اپریل، 2016

سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ !

بوڑھے کی صبح نہایت شاندار تھی ،
انگڑائی لے کر اٹھا ،
میز پر پڑا موبائل اٹھایا ۔
اور آن کیا ۔
ٹن ٹن ٹن ، گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئیں ۔
تمام پیغامات برسات کے سیلاب کی طرح امنڈ امنڈ کر آرہے تھے ۔
وٹس ایپ کا پہلا گروپ کھولا ۔
جہاں جوانوں و نوجوانوں کے پیغامات موجود تھے ،
جوانوں کی مایوسی پر مایوسی ہوئی ۔
کیا، اقبال کی زرخیز مٹی کی نمی ختم ہو گئی ہے ؟
نہیں !
اِس بوڑھے کے خیال میں:
آج کا نوجوان شعور و قدر کی منزلوں سے آگاہ بھی ہے اور اُن پر گامزن بھی ہے ۔ 
اُس کی سوچ و تخیّل کی پرواز ، مکان و زمان کے محاصر میں ہے ، جہاں موجود دوسری سوچیں اُس کی سوچ پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔
بوڑھے کی رائے میں۔
منفی سوچیں پُر اثر اور دیرپا ہوتی ہیں ، اچھی سوچوں کے برعکس ، جن کی آبیاری ہی مشکل ترین امر ہے - چہ جائیکہ اُن کی نگہداشت پر توجہ دی جائے ۔
اچھی سوچوں کو نمی صرف ، عملی اقدام فراہم کرتے ہیں اقوالِ زرّیں نہیں ۔
جن کا فقدان کسی بھی نسل کے لئے سمِ قاتل ہے ۔
ہم بوڑھے ، اقوالِ زرّیں جیسے ادوار کے مکیں ہیں ، جہاں دوسروں کو نصیحت پر زور تھا اور خود ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  !

بس یہی کمی تھی ہماری نسل میں !

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔