میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ, اپریل 2, 2016

تاریخ کے ساتھ ناروا سلوک !

ھمارے مورخین تاریخ وتمدّن پر قلم ااٹھاتے تواس کا آغاز صدر اسلام سے کرتے ھیں اور اسلام سے پہلےکے دور کو زمانہ جاھلیت سے تعبیر کرتے ھیں 
اس میں شک نہیں کہ ظہور اسلام کے وقت اکثر متمدّن اقوام اخلاقی تنزل کا شکار ھوچکی تھیں ۔ لیکن کرائسٹ سے کم وبیش چارھزار سال قبل سے لے کر تیسری صدی بعداز کرائسٹ تک -مصر۔ بابل۔  اشوریا۔ فنیقیہ۔ یونان۔ روم۔ چین اور برصغیر میں مختلف تمدّن اپنی بہار دکھا چکے تھے اور ان اقوام کے علمی فنی کارناموں نے نوع انسان کی تمدّنی میراث کو مالا مال کردیا تھا-
سمیریوں نے سب سے پہلے دن رات کو چوبیس گھنٹوں میں تقسیم کیا 
ھفتے کے سات دن اور مہینے کے تیس دن قرار دئیے - تحریر کافن ایجاد کیا -
بابل اور اشوریا میں علم ھئیت کی بنیاد رکھی گئی -
مصریوں نے ریاضی ,ھندسہ موسیقی ,تعمیر ,مجسمہ سازی .کے علوم فنون کو ترقی دی -
فنیقیوں نے حروف ابجد کو ترتیب دے کر دنیاے علم میں انقلاب برپا کردیا-نیز جہازرانی اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ دیا -
یونانیوں نے کائنات کے مظاھر میں محققانہ غوروفکر کا آغاز کیا -نظری سائنس اور فلسفے کی تاسیس کی -ڈرامہ اور مجسمہ تراشی کی تکمیل کی-
رومیوں اور ایرانیوں نے ملک داری اور جہانبانی کے اصول وضع کیے اور مختلف اقوام پر حکومت کرکے ان میں لچک پیدا کی -
چینیوں نے کاغذ ۔ بارود۔ چھاپہ خانہ  اور قطب نما کی ایجادات پیش کی، کاغذ کا سکہ چلایا ریشم بنانے کا فن سکھایا-
ھندیوں نے کسر اعشاریہ اور علوم ھندسہ سے عرب کو روشناس کرایا -
القصّہ سمیریوں سے لے کر ظہور اسلام تک کم وبیش پانچ ھزار سال تک مختلف تمدّن اتار اور چڑھاؤ کے آفاقی نظام کے تحت فروغ پاتے رھے اور مٹتے رہے ، ایک قوم دوسری قوم کو تاراج کرتی لیکن علوم و فنون کو اپنے اندر سمیٹتی رہی ، سوائے منگولوں اور تاتاروں کے -
اسی طرح جب عربوں نے ایران، شام، مصر، شمالی افریقہ اور ھسپانیہ کے ملک فتح کیے تو انکی علمی فنی اور سیاسی اقتصادی روایات ان کو ورثے میں ملیں -
ان تہذیبوں کو زمانہ جاھلیت کہنا اور تعبیر کرنا اس بات کی دلالت کرتا ھے کہ ھمارے مورخین تاریخ تمدّن سے ناآشنا ھیں یا انہیں اندیشہ ھے کہ ان کی تمدّنی روایات کا ذکر کیا تو مسلمانوں کے کارنامے ماند پڑجائیں گے ۔
اور جتنے انسان اِن علوم کے ماہر تھے وہ مروّج مذاہب سے دور ہوتے تھے ، جبھی انہیں سزاؤں ، قید و بند یہاں تک کہ موت کا سامنا کرنا پڑا ۔
 دوسری قوموں کے تمدّنی کارناموں کو گھٹا کر پیش کرنا یا اپنے نام سے تشہیر کرنا کسی قوم کی ترقی کا مظہر ہے ۔
جبکہ ایسا نہیں ، گلوبل ولیج کے اِس دور موجودہ تاریخ نویسوں کو اِس رویئے سے احتراض برتنا چاھئیے ۔

کسی کے استخوان پر اپنا گوشت پوست چڑھا کر نئی شکل دینا یقیناً قابلِ ستائش ہے لیکن اگر ڈھانچہ بنانے والے کو بھی تحسین و ستائش میں شامل کر لیا جائے تو کیا خوب ہو گا ۔
ماخوذ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔