میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 25 اپریل، 2016

شیطان نامہ - ملکہ ءِ سبا اور عبداللہ بن سبا

کہا جاتا ہے کہ ایک نہایت ایماندار ، باریش اور پابندِ شریعت  ِ علی بن الخطاب  کے نہایت  ذہین و فطین    شیعہ نے اپنے تبلیغی خطبات سے اہلِ ، کوفہ بصرہ ، شام و مصر میں ایک نئی روح پھونک دی بالکل ایسے جیسے مودودی نے اپنے مودودوی فرقے کے نوجوانوں میں پھونکی اور  اپنے معتقدین کو یہ حکم دیا ، وہ لوگوں کی ایمانِ علی کی تبلیغ کریں ، وہ نہ مانیں تو اُن سے تبلیغی اخراجات بطورِ خراج مانگیں وگرنہ ، اُن کو ذبح کر دیں ۔ مگر ہوشیاری سے ۔
اب اِس شیطان کی حیلہ انگیزی و الفاظاتِ فسادی  ، نیک بزرگ عبداللہ بن سبا  ، پڑھیں ،
 آپ نے دیکھا کہ شیطان نے کیسے ، مولودِ عین   بتانِ کعبہ پر بہتان لگایا ۔  قُربِ قیامت کے آثار ہیں ، قُربِ قیامت ہے ۔

ابتداءِ فساد -  ٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ -آپ ہی اللہ ہیں !

 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔