میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر, اپریل 25, 2016

شیطان نامہ - آقا و مرشد

مہاجر زادہ نے ، شیطان کی یہ تحریر  مُفتی  کے سامنے رکھی تو 
پہلے  کھل کھلا  کر ہنسا اور پھر اُس کا چہرہ ڈھلک کر سینے سے جا لگا ، آنسو اُس کی آنکھوں سے بہنے لگے ،اُس نے پوچھا ۔
" مہاجر زادے ، یہ فسادی کہاں رہتا ہے "
" آقا و مرشد! سویڈن میں " مہاجر زادے نے جواب دیا !
" ابے او ! مہاجر ابنِ مہاجرابنِ مہاجرابنِ مہاجرابنِ مہاجر!"  مُفت پُور کے مُفتی کا چہرہ غصے سے نیلا پڑھ گیا ، آنکھوں کانوں اور ناک سے دھواں نکلنے لگا ۔ اور دھاڑا
" خبردار مجھے ،آقا و مرشد کہا ، ماں کی طرف سے پٹھان ہوں ،  طالبان بن کر زندہ جلوا دوں گا "
مہاجر زادہ دم بخود ، اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا  ۔ ۔  ۔ ۔ !
ساڑھے چار گھنٹے  دم سادھے چپ رہا ۔ اور مُفتی اپنا کمبل اوڑھ کر مہاجر زادہ کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔
کمبل میں ہلچل ہوئی ، مُفتی پردہءِ کمبل سے جانبِ ظہور ہوا ۔ اور خود سے ہم کلام ہوا ۔
"مُفتی ابھی ابھی اِس شیطان کے پیچھے گیا تھا ، وہ سویڈن میں نہیں بلکہ ہندوستان میں بیٹھا قاولیاں سُن رہا تھا "
" قاولیاں ، یا قوالیاں " مہاجر زادہ نے تصحیح کرتے ہوئے کہا 
جب   توندل قوال ، گلا پھاڑ رہے ہوں تو وہ ، چوّلیاں کے وزن پر قاولیاں ہوتی ہیں ۔ 
خیر چھوڑ ، یہ شیطان ہے بڑا خطرناک ، ہاتھ جھاڑ کر اکابرین و سلف صالحین کے پیچھے پڑھ گیا ہے !

 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔