میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 15 اپریل، 2016

الفلوس تغیر النفوس

ایک شخص نے ایک کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردیا ۔
لوگوں نے قاضی کے پاس جا کر اس شخص کی شکایت کی ۔۔۔۔
اس شخص کو قاضی کے پاس طلب کیا گیا ۔۔۔
قاضی نے غضب ناک ہو کر اس سے پوچھا،
"کیا تو نے ہی مسلمانوں کے قبرستان میں کتے کو دفن کیا تھا ؟"
اس شخص نے کہا،
"ہاں جی،  کتے کی وصیت کو میں نے پوری کردیا" ۔
قاضی نے کہا،
"تیرا ستیاناس ہو کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر کے پھر میرا مذاق اڑارہے ہو"۔

اس شخص نے کہا،
"جلدی نہ کریں جناب کتے نے تو قاضی کے لئے ایک ہزار دینار کی بھی وصیت کی تھی" ۔

قاضی نے کہا،
" اللہ اس فقید المثال کتے پر رحم فرمائے"۔

قاضی کی بات سن کر لوگ حیران رہ گئے
قاضی نے کہا،
" کہ تم حیران کیوں ہو رہے ہو ؟ میں نے اس کتے کے کوائف پر کافی غور کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ کتا یقیناً اصحابِ کھف کے کتے کی نسل سے تھا"

نتیجہ ،، الفلوس تغیر النفوس ،،
پیسہ سوچ کو بدل دیتا ھے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

لڑکپن میں یہ کہاوت پڑھی ۔ اسلام انسٹیٹیوٹ نے فیس بک کی اِس تصویر کے ساتھ ، لڑکپن کی کلاس ، سکول ، دوست اور آغا جان ، خان غلام سرور خان افغان یاد آگئے ۔

اور ذہن میں یہ نغمہ تبدیلی کے ساتھ  گونجنے لگا ۔

ہمارا مذھب ہے پیارا مذہب
عطائے ربِ صحائے ستّہ مذھب
مذہبوں میں ہے پیارا مذہب
ہمارا مذھب ہے پیارا مذہب

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔