میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ, اپریل 23, 2016

برصغیر و پاکستانی سکّے

سکّوں سے پہلے ، سامان کے تبادلے سے لین دین ہوتا تھا ۔ جسے بارٹر سسٹم کہتے ہیں ۔ لیکن آہستہ آہستہ سکّوں کا رواج پانے لگا ۔ سونے ، چاندی ، پیتل ، تانبے کے علاوہ کوڑیوں کا بھی استعمال کیا جاتا ۔
کوڑیوں کی اتنی اہمیت تھی کہ پھوٹی کوڑیاں بھی چلائی جاتیں ۔
آئیے ہم آپ کو اِس سکّوں کا دلچسپ تصویری موازنہ دکھاتے ہیں ،
کوڑی ، سمندری کیڑے کی مظبوط ہڈی نما ڈھا ہوتی ہے جس کے اندر وہ رہتا ہے ۔ 

اِس کا کوہان نما حصہ باقی حصوں سے کمزور ہوتا ہے ۔ جو اکثر کھیلتے ہوئے پھوٹ یعنی ٹوٹ جاتا تھا ، جی کوڑی سے مختلف کھیل کھیلے جاتے تھے اور جب کھیل میں دل بھر جائے یا کوڑی پھوٹ جائے ،

تو ٹھیلے والے سے اِس کے بدلے، چورن یا کالا نمک یا مولی کانمک ، املی اور دیگر سستی کھانے کی چیزیں خریدی جاتی تھیں ۔ ہم نے تو اپنی والدہ سے یہی سنا تھا باقی اعتبار کرنا یا نہ کرنا ، آپ کی مرضی !
جی مہنگائی ، مہنگائی تو اُس دور میں بھی تھی ، مزدور کی دیہاڑی ، ٹکہ یعنی تین ٹیڈی پیسے تھی ، مستری کی دو آنے اور آٹا ، بہت مہنگا تھا ، غالباً ایک روپے کا من ملتا تھا ۔ 

اب آپ خود سوچو نوجوانو! کہ اگر بے چارہ غریب مزدور مہینے میں 26 دن ڈٹ کر کام کرے تو اُسے کیا ملتا ،تین آنے کم روپیہ گویا پوری ایک روپیہ بھی مزدوری نہیں ملتی تھی ۔
ہاں مستری کے مزے تھے اُسے مہینے کی پوری 52 دونّیاں ملتی تھیں ، یعنی ساڑھے چھ روپے، مسترائین کے تو ٹھاٹھ تھے ۔
ھاں ریلوے میں بھرتی ہونے والے کلرک صاحب کو پورے 10 روپے تنخواہ ملتی تھی اور ٹرین میں سفر مُفت، پورے ہندوستان کا پاس پر چکر لگا لو ، بیوی بچوں سمیت ۔
ھاں تو ، بات ہو رہی تھی کوڑیوں کی ۔
عورتیں اپنے طعنوں میں ، کوڑیوں کا استعمال فراغ دلی سے کرتیں ،
" ارے بہن کانٹے والی کے گھر کیا جانا ، وہ تو مہمانوں پر " پھوٹی کوڑی " بھی نہ خرچ کرے ، کوڑی تو دور کی بات ۔ 


ارے آپا وہ ھے نا ببّن دودھ والا، وہ تو اگر کوڑی نہ ہو تو تین پھوٹی کوڑیوں میں ہی کلّو بھینس کا دودھ جس پر مکھن تیرتا ہو بڑے آرام سے دے دیتا ہے اور لسی تو مفت لے لو ساتھ بالٹی بھر پھوکٹ میں ، لوکی کا رائیتہ بنانے کے لئے ۔

اور مرد ،
" بھئی خان صاحب کیا بات ہے بڑی دور کی کوڑی لائے ہو !"  

ارے پریشان نہ ہوں، یہی کوئی 1850 کا زمانہ ہوگا ۔  مسلمان بڑے خوشحال تھے لیکن اتنے بھی نہیں ، جتنے ھندو تھے ، لیکن پھر بھی اللہ کا شکر تھا ۔
ارے کیا بتاؤں ، سونا ! بہت مہنگا تھا توبہ توبہ ، سیانے بتاتے تھے ، کہ قُربِ قیامت کے آثار ہیں قُرب قیامت کے ۔
 16 تولے چاندی میں ایک تولہ خالص سونا ملتا تھا جبکہ جب اسلام آیا تو اُس وقت 7 تولہ چاندی میں ایک تولہ سونا لے لو ۔



دمڑی میں ایک پکا سیر خالص دیسی گھی لے لو اگر دمڑی نہ ہوں ، تو تلاش کر کے بڑے سسر کی دس کوڑیاں ہی دے دو ، ھاں یہ نگوڑ مارے مرد تو سارا دن بیٹھے کوڑیاں کھیلتے رہتے ہیں اور کوئی کام ہی نہیں ،
کہو ذرا کوتوال کے باغ میں جاکر اخروٹ کے پیڑ سے دنداسہ ہی اتار لائیں ، مگر سنتے ہی نہیں ۔
 اری بہن کیا بتاؤں میں نے تو پائی پائی جوڑ کر ، زیبن کا جہیز بنایا ہے ، جوں ہی سمجھدار ہوئی میں نے ھاتھ پیلے کر دینے ہیں ۔
 زمانہ بڑا خراب ہے ، لڑکے بالے ، کوتوال کی بیٹھک میں خواجہ سراؤں کا ناچ دیکھنے جاتے ہیں ذرا بھی شرم اور حیا نہیں رہی ،
دیکھو مردوں کو مُنی بائی کے کوٹھے کے چکر لگاتے رہتے ہیں ، موقعہ ملے تو دھیلا لٹا کر آجاتے ہیں


 اب دیکھو نا ، دھیلے میں پورا دو سیر دیسی گھی کیوں نہیں لیتے تاکہ دیسی گھی میں ترتراتے پراٹھے کھائیں تو جسم میں مضبوطی آئے، یہ کیا کہ ایک بوری آٹا چکی پر اٹھا کے لے جاؤ تو آدھے راستے میں بوڑھے بیل کی طرح لہرا کر چلنا شروع کر دو
 اور سوچتے ہیں دوسری شادی کا ! 
اور ڈیڑھ من کی بوری نہیں اُٹھائی جاتی !
میں تو کہتی ہوں بھلے جاؤ ، مُنی بائی کے پاس مگر دوسری شادی کا نام نہ لینا ،
ورنہ نیلا تھوتھا کھا لوں گی ھاں !
یا ٹرین کے نیچے سر دے دوں گی !
سنبھالنا اپنےگیارہ بچوں کو ۔
آہ گیارہ بچوں پر یاد آیا وہ حکیمن دائی ہے نا ۔ وہ ایک پیسہ لیتی ہے ،

بیٹا ہو تو ساتھ میں آٹا ، چاول گھی اور کپڑے بھی دو ۔
 ارے پیسے پر یاد آیا مُنے کے ابا بتا رہے تھے ، کہ سرکار شاہ عالم کے پیسے کو ختم کر کے اپنا موری والا پیسہ نکال رہی ہے ۔

جو شاہ عالم کے پیسے سے ہلکا ہے،
چلو چار پیسے بچیں تو دھاگا ڈال کر گُلّک میں سنبھال کر رکھ لو ، دھاگا بندھا ہوگا ، تو شیطان چنو
گُلّک الٹا کر نکال نہیں سکے گا ۔
ہزار بار پوچھا ارے ارے چنّو بتا کرتا کیا ہے اِن پیسوں کا ؟

مجھے سک ہے کہ سیدے کے ساتھ منڈوا یا بائیسکوپ دیکھنے نکل جاتا ہوگا ۔آج کل وہی زیادہ چل رہا ہے ، عید گاہ کے پاس کھیل کے میدان میں ،
کوئی بمبئی سے کمپنی آئی ہے ۔ تریا چلتر عورتوں کی تصویریں دکھاتے ہیں ناچتے ہوئے ،
توبہ توبہ ، قُربِ قیامت کے آثار ہیں ،
قُربِ قیامت کے!
پورا ٹکہ لوٹ لیتے ہیں ۔ معصوم انسانوں سے ۔









خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔