میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 25 اپریل، 2016

شیطان نامہ - آپ ہی اللہ ہیں !

ابنِ سباء   نے جو دعویٰ ، کیا اُس پر شیطان کے دکھ کا عالم کیا ہوگا۔ جب وہ اور 70 دیگر مفتیان کو آگ میں روسٹ کیا ہوگا ۔
یہ تحریر کچھ نہیں صرف لوگوں کو مسحور کرنے کا شیطانی نسخہ ہے ۔ کہ اُن پر الزام کی آڑ میں سزا کا فسانہ گھڑا جائے تاکہ ، آئیندہ مفتیانِ وقت ، اِس فقہی امور کے لئے حوالہ میں شامل کر لیں ۔
 

"مُفت پُور کے مُفتی " کے فرمود  میں ، جو اُس نے خود مہاجر زادہ کو بتائی  ، کہ  اُس کے  وجدان کے مطابق
" حضر ت علی نام کے  کئی لوگ گذرے ہیں ۔ ہوسکتا ہے ۔ اُن میں سے کسی نے یہ فسانہ گھڑا ہو ! "
مہاجر زادہ ، کو ذرا تامل ہوا ،  تو    انہوں نے ، اپنا بہت ہی سمارٹ موبائل نکالا اور فیس بک کھولی ، اور کچھ لکھا ، اور اُس کو سمارٹ موبائل کی چمکتی ہوئی سکرین  ، دکھاتے ہوئے کہا ،
" یہ دیکھو ،آج  کے دور کے حضرت علی  "


مہاجر زادہ نے ، قہہ ، قہہ ، قہہ ، قہقہہ لگایا ۔
" حضرت ، آپ بھی بڑے حضرت ہیں !
ھا ھا ھا ، یہ حضرت علی ، پٹھان ہیں "
مُفتی نے گرہ لگائی
" تمہیں شیطان بجا طور پر احمق کہتا ہے ، تو کیا وہ جلانے والے حضرت علی  پنجابی تھے ؟ "
مہاجر زادے کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔
واقعی ، حضرت علی بھی پٹھان ہو گا اور حسن بن صباح بھی  اور اُس کا ساتھی عبد رسول ، عبد نعیم اور امیرمعاویہ بھی ۔ کیوں ؟



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔