میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 15 مئی، 2016

لنگر گپ ۔14مئی 2016 ۔ شب 10:30 پر

 بشیر بلوچ کے شارجہ جانے کے بعد لنگر گپ میں لمبا تعطل آچکا تھا ، جمعہ کی صبح واپسی سے ، ہفتہ کی شب برداشت کیا اور پھر فون ملایا ۔ آزاد اور شہر یار کو بھی لے لیا ۔
آزاد ، جنریٹر چلانے کے چکر سے فارغ ہو تو شہر یار کی پوتے کو کھلانے کی باری آئی ۔ آزاد آیا تو شہریار گیا ۔ بشیر بلوچ نے رائے دی کہ شفیع کو بھی لیا جائے تاکہ ، محفل گرم ہو ۔
شفیع کو لینے کا مطلب ، لنگر گپ کو لنگر کھپ میں تبدیل کرنا تھا ۔ لہذا رائے مناسب ووٹ حاصل نہ کر سکی ۔

مختلف سیاسی ، سماجی ، معاشرتی ، جغرافیائی ، تعلیمی مسائل سے گفتگو چلتی ، لیکس پر آگئی ۔ اور پانامہ لیک سر فہرست رہی ۔

آزاد کا ڈھکے چھپے الفاظ میں خدشہ تھا ، کہ شائد ایمپائر انگلی کھڑی کر لے !
بشیر بھی گومگو کی کیفیت میں تھا ،

لیکن کیا کیا جائے ، ایک تو اخباری شخصیت ، زور اِس بات پر تھا کہ اتنا بڑا واقعہ ہے ، کہ دنیا ہل گئی ہے ، بین الاقومی شخصیات نے استغفے دے دئے ، مگر پاکستان میں جوں تک نہ رینگی ہے اور 300 سے زیادہ لوگ پانامہ میں ، کمپنیاں بنائے بیٹھے ہیں- اور تم کہہ رہے ہو کہ کچھ نہیں ہوگا ، حکومت اپنی ٹرم پورا کرے گی ، چیف جسٹس نے بھی حکومت کو  چھوٹ دے دی ہے ، کہ نام بتاؤ اور مقصد ؟

ایمپائر نے انگلی کھڑا کیا کرنی !
چیف جسٹس نے بھی کچھ نہیں کرنا !
اپوزیشن کا شور 30 جون تک ہے !

آف شور کمپنیاں ، زرداری کی بھی تھیں اور بے نظیر کی بھی ۔
عمران خان کی بھی اور حسین نواز کی بھی ۔
بلکہ اُس نے تو جنوری میں بتایا تھا کہ وہ لندن فلیٹس کا مالک ہے اپنی کمائی سے اور تو اور ، اُس نے ڈنکے کی چوٹ پر مارچ میں  کہا ہے ، کہ اُس کی دو آف شور کمنیاں ہیں ، جس کی ٹرسٹی مریم نواز ہے !
تو اُس وقت شور کیوں نہیں ہوا ؟

عمران خان کا رونا یہ تھا کہ اُس  کی آف شور کمپنی نہیں وہ ایماندار ہے اور باقی سب بے ایمان !

اور اب بے نام نیازی کمپنی ، بھی آگئی ہے بنی گالا کی بے نامی جائداد کے بعد ، جو بقول شخصے جمائما کے ہُنڈی کے ذریعے منگوائے گئے پیسوں سے خریدی گئی تھی ۔

عمران خان ، کی ایمانداری
عمران خان، کی حُب الوطنی
عمران خان، کی پارسائی
عمران خان ، کی مہاجروں کی عزت
عمران خان ، کی غریبوں کی مدد

سب کے پرت ایک ایک کر کے کھلتے جا رہے ہیں ۔

اور مزے کی بات ، عمران کے اکاونٹ کی دیکھ بھال ، لندن میں نعیم الحق کرتا تھا ۔ جس نے آف شور کمپنی بنوائی !

کھسیانی بلیوں نے آدھے سے زیادہ کھمبا نوچ ڈالا ہے ۔
سوچنے کی بات ہے نا ؟

وہ اِس لئے کہ زرداری گورنمنٹ نے 2012 میں باہر سے پاکستان میں آنے والے ڈالروں کی بابت نہ سوال کرنے کا قانون بنایا ۔
اب آف شور کمپنیوں کا پیسہ پاکستان آنے کا قانون بن جائے گا اور پاکستان میں ، ڈالر آئیں گے ۔
کیوں ؟
مہاجر زادہ کو ادراک ہے ۔
آپ بتائیے اے یاران، لنگر گپ !

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔